بہت کچھ اوپر نیچے ہو جائے گا ،30 اگست تک کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا،شیخ رشید

تحریر: None

| شائع |

کچھ نہ کچھ تو ہر وقت ہوتا ہے۔یہاں تو تیز ہوا اور معمولی بارش بھی ہو جائے تو بہت کچھ اوپر نیچے ہو جاتا ہے۔شیخ صاحب کچھ سیاست میں اوپر نیچے ہونے کی بات کر رہے ہیں 30 اگست تک سیاست میں کچھ نہ کچھ تو ہونا ہی ہے۔ کسی بھی موقع پر شیخ صاحب کہہ دیں گے دیکھا میں نے نہیں کہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔مثلا اگر بجٹ منظور ہو جاتا ہے یا بجٹ منظور نہیں ہوتا دونوں صورتوں میں  ان کی پیش گوئی پوری ہو جانی ہے۔

شیخ صاحب کی کئی حوالوں سے شہرت ہے۔ چلّے سے پہلے صرف شیخ رشید ت

ھے چلّے کے بعد شیخ چلّا بن گئے۔چلے کے حوالے سے بہت کچھ میڈیا میں کہہ رہے ہیں۔عید کے روز کہا جاتا ہے کہ مختلف ٹی وی چینلز کو 24 انٹرویوزدیئے۔شیخ صاحب کہتے ہیں کہ میں 16 مرتبہ وزیر رہا ہوں۔شیخ صاحب کو 16 وزارتوں کے اسی طرح سے نام یاد نہیں ہوں گے جس طرح سے 24 انٹرویو لینے والے اینکرز اور ٹی وی چینلز کے نام یاد نہیں ہیں۔کسی نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر شیخ رشید انٹرویو کرنے والے 24 اینکرز کے نام بتا دیں تو ان کو فارم 47 پر کامیاب ڈکلیر کر دیا جائے۔ انٹرویو جتنے بھی ہوئے ان کی طرف سے بڑے انکشافات کیے گئے،وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تو انہوں نے شلوار کے ازار بند سےخود کشی کا سوچ لیا تھا۔وہ پنکھے کے ساتھ لٹکنا چاہتے تھے۔اس مشن پر اس لیے عمل نہ ہو سکا۔شاید پنکھا بہت اونچا تھا۔ازار بند نکالتے تو بے پردگی کا اندیشہ تھا۔انتظامیہ کو ہو سکتا ہے کہ شیخ صاحب کے مشن اور منصوبے کی بھنک پڑ گئی ہو اور انہوں نے ان کو لاسٹک والا ٹراؤزر یا جانگیا پہننے کو دے دیا ہو۔شیخ صاحب جیل کو سسرال قرار دیتے ہیں مگر چلّے کے دوران جس جگہ پہ رکھا گیا وہ سوتن کا گھر ثابت ہوا۔