بے ضمیری

تحریر: سجاد اظہر پیرزادہ

| شائع |

اتنی تیزی سے انسان کی صحت نہیں گرتی، جتنے کم وقت میں وہ خود گر جاتا ہے، یہ آواز ایک سٹور سے اُس آدمی کو آئی، جو ابھی ابھی جعلی ادویات کی سپلائی کرکے دروازے کی طرف پلٹا تھا، اِس سپلائر کی وجہ سے نہ جانے کتنے ہی افراد مختلف بیماریوں اور موت کے جنگل میں جاچکے تھے، اِس کے ہاتھ دروازے کے ہینڈل اور قدم زمین پر ہی جمے رہ گئے، یہ چونک پڑا، یہاں تو کوئی بھی نہ تھا، فقط اِس کا ضمیر تھا، جو اس سے باتیں کررہا تھا: 

خوش فہمی میں جینے والے ہم کو سن کر چونک پڑے

<
p dir="rtl">ان کو یہ معلوم نہیں تھا ہم بھی باتیں کرتے ہیں

ہر انسان کی 2 شکلیں ہوتی ہیں، ایک وہ جو دوسروں کو نظر آتی ہے اور دوسری وہ' جو ہم خود اپنی دیکھتے ہیں، انسانی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے، آدمی کا ضمیر بھی دو ہی صورتوں میں جاگتا ہے، اپنے ہاتھوں کسی کا نقصان دیکھ کر ہمارے اندر کی صورت یعنی ہمارا دل بے چین ہوجائے، نہیں تو پھر ظاہری طور پر ردعمل یا سزا کے خوف سے، وہ انسان کتنے خوبصوت ہوتے ہیں جو اپنی اندرونی صورت کو بھی بنا سنورا رکھتے ہیں، زندگی کے مقصد، اپنے رویوں پر غور اور کتابوں کے مطالعے سے خود کے دل اور دماغ کھلے رکھتے ہیں، اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، کوئی خطا ہوجائے تو معافی کے طلبگار ہوتے ہیں، کوئی غلطی کر کے احساس ندامت میں دِکھے تو اسے گلے لگا لیا کرتے ہیں۔ ایسوں کی تعریف کرنی چاہیے۔

مگر وہ لوگ جو اپنے غیرقانونی رویوں، غیرآئینی چال چلن کے ذریعے' اپنے معاشرے، اپنے ملک کو ہی کھوکھلا کرنے پر تلے رہتے ہیں، ایسی بھولی بھالی دکھتی صورتوں کو ہمیں بے نقاب کرنا چاہیے، اپنے وطن کو کھوکھلا کرنے میں سب سے بڑا کردار اُن بے ضمیروں کا ہوتا ہے، جو ہم وطنوں کی صحت کیساتھ کھیلتے ہیں، اگر ہم وطن ہی جسمانی و دماغی طور پر صحتمند نہیں رہیں گے تو بتائیے ایک تندرست و توانا، ایک کامیاب اور روشن معاشرہ اور وطن کیسے قائم ہوگا؟ کئی دن میں اس پر غور کرتا رہا، تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ آج کل، جب عالمی ادارہ صحت نے غیر معیاری ادویہ سازی سے متعلق جن 13ممالک پر سرخ لکیر لگائی ہے، ان میں ہمارا وطن بھی شامل ہے، تو ایسے بیمار ماحول میں،کون سا ملک اور کون سا معاشرہ ایسا ہے، جو ترقی کرسکتا ہے؟

ہم بیمار ہوجائیں تو علاج کے مراحل تک رسائی کیلئے دنیا کے 195ممالک میں ہمارا نمبر 154ویں پر آتا ہے، یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ہمارے ہاں علاج کی سہولتوں کا کیا معیار ہے۔ ایسی صورتحال میں جو مریض ہسپتال جائے گا، اور ان کیساتھ جو لواحقین ہوں گے، پہلے سے ہی منتشر ان اذہان پر مزید کیا کیا نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہوں گے؟ ہم کس قدر بے ضمیر، بے حس ہوگئے ہیں کہ ہسپتالوں میں ہڑتالوں کے ذریعے بیمار ہوئے لوگوں کی رہی سہی عزت نفس بھی مجروح کرتےہیں، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

ایک خبر یہ ہے کہ پاکستانی سماج خطرناک حد تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس حد تک کہ 2023 میں 3 کروڑ سے زائد پاکستانی نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوئے۔ ڈپریشن' ان نفسیاتی امراض میں پہلے نمبر پر آیا۔ ہمارے وطن کی کل آبادی کا 35 فیصد ڈپریشن، خوف یا فکر میں مبتلا ہوکر انزائٹی کا مریض بن گیا ہے۔ ہر چار میں سے ایک پاکستانی کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان خودکشی کے اعتبار سے دنیا میں سولہویں نمبر پر ہے۔ جب ہم بطور معاشرہ ایک دوسرے کی مدد میں ناکام ہوجائیں۔ مذہبی رواداری، محبت اور ایک دوسرے کے احترام کی اپنی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت سے ہم بے وفائی کرنے لگیں۔ جب سرکاری اداروں میں لوگ اپنے جائز کاموں کیلئے دھکے کھانے پر مجبور ہوں۔ جب ریاست قانون کی رٹ برقرار رکھنے، اپنے لوگوں کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے، تو ایسے ملک کے شہری مایوسی اور ڈپریشن میں مبتلا نہ ہوں تو کدھر جائیں؟

وزرا صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر کی جانب سے ہڑتالی ڈاکٹروں سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ ہو، یا جعلساز مافیا کیخلاف چھاپے، ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کا قدم ہو، کرپٹ اور کام چوروں کیخلاف نوٹالرینس پالیسی، یا ایم ایس کی تعیناتی کیلئے 9 رکنی کمیٹی کا قیام، ایسے کاموں سے نظام صحت کا بگڑا چہرہ سنورے گا، اس کے نکھار میں آہستہ آہستہ بہتری آتی جائیگی۔ کلینک آن ویلز،ادویات کی گھروں تک فراہمی،ایئرایمبولینس کے وجیہہ منصوبے، جن پر سرکاری اہلکار بہتر طور پر عمل کرواسکیں، تو یہ شہریوں کی ذہنی، جسمانی، سماجی اور روحانی صحت پر نہایت اچھے اثرات مرتب کریں گے۔

اچھے اور برے کی تمیز ختم ہوجانا بے ضمیری کہلاتی ہے۔ ہمارے ملک کا نظام حکومت جمہوری ہے۔ جو بڑے سے بڑے بُرے فرد کو بھی جزا اور سزا کے ذریعے اچھا انسان بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ایک بہترین نظام حکومت ہے۔مساوات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہمارا معاشرہ جمہوری نہیں بن پارہا۔ اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو وہ کیوں بچ نکلتا ہے؟ اچھا کام کرنے والے سراہے جانے کی بجائے عدم تحفظ کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟

کئی بار میرا دل چاہا کہ اُن لوگوں سے باتیں کروں جو جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کہلاتے ہیں۔ پھر ان کی عادات و اطوار آپ کے سامنے رکھوں۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک روز میری ملاقات ہمارے "نظام صحت کی پرچھائی سے ہو ہی گئی، میں نے آپ کی طرح نظام صحت کی تصویر پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ بس یہی سن رکھا تھا کہ ہمارا صحت کا نظام بھی انتہائی خراب ہے۔ یہ بھی کہ جیب بھاری ہو تو یہ ملک جعلسازوں کیلئے جنت ہے۔ اُس پرچھائی کا دعوٰی تھا کہ وہ دماغ کا سب سے بڑا ڈاکٹر ہے۔ اور واقعی اُسے لوگوں کو اپنی طبی لیاقت و صلاحیت کے سمندر میں ڈبو دینے کا فن بخوبی آتا بھی تھا۔ اپنے اپنے شعبہ میں نامور مریض اس کے کلینک کے بستر پر پڑے رہتے تھے۔ پھر ایک دن انکشاف ہوا، یہ تو ایک جعلی ڈاکٹر ہے۔ 14 سال تک جو جیل روڈ پر بیٹھ کر صحت کے اداروں کی زمینی کارکردگی پر جعلی پریکٹس کا ہل چلاکر مریضوں کے جسموں میں اپنی نقلی ادویات بوتا رہا۔ پی ایچ سی نے جس کیخلاف جعلسازی کا پرچہ بھی کٹوایا۔ لیکن یہ ہمارے عدالتی نظام کی مہربانی سے پھر بھی آزاد ہے۔ جعلی پریکٹس کا کوئی ایک شاہد نہیں، آپ کو بھی ایسی پرچھائیوں کے نظاروں کا موقع ملا ہوگا۔ قومی اسملبی میں ہوا وہ انکشاف ابھی تک کیا ہمارے کانوں میں رس گھول رہا ہے کہ' بہت سے ڈاکٹرز  نے بیرون ملک جائے بغیر ہی' ایم بی بی ایس کی جعلی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں؟

آج جو دن ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہی یونان پر آیا تھا۔ وہی یونان، جو دنیا کو جمہوری طرز حکومت کا تحفہ دینے والی سلطنت سمجھی جاتی ہے۔ ایک دن جب یونانی غیرجمہوری ہوکر ایسے بے ضمیر ہوئے،کہ ہماری طرح تقسیم در تقسیم ہوکر آپس میں ہی لڑنے لگ گئے تھے۔ وہاں کے حکمران معاشرے میں امن و انصاف قائم کرنے کی بجائے ستم کی ایسی پالیسیاں بناتے رہے کہ روم کو اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ پھر داخلی طور پر کمزور ہوجانے والے یونان نے اپنی مضبوط ترین افواج کے باوجود رومیوں کے ہاتھوں ایسی عبرت ناک شکست اٹھائی کہ ایک عظیم الشان سلطنت صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے:جہاں کے لوگ ایک دوسرے کو لوٹ کھانے کی بجائے اچھے اور برے کی پہچان کریں، اورجہاں کی حکومتیں کرپٹ نظام کیساتھ کمزور طرز حکمرانی پیش کرنے کی بجائے' مساوات، انصاف کو روزمرہ کے معمولات میں ضم کرنے کی پالیسیاں اختیارکریں، تو صرف ایسے ہی ملک اور صرف ایسے ہی معاشرے ہوتے ہیں، جو دنیا میں قائم رہتے ہیں۔