جون اہم، اگلے 45 دن بھی اہم ہیں، شیخ رشید

تحریر: None

| شائع |

کچھ دنوں سے شیخ رشید اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کی طرح خاموش تھے ۔ عدالتوں میں پیشیوں پر آتے رہے ۔صحافی سوال کرتے تو کہتے فی الحال کچھ بھی نہیں کہنا۔میرا چپ کا روزہ ہے۔ شیخ صاحب اب پاکستان کے ایسے گوروؤں میں شامل ہو گئے ہیں جن کی زندگی دھوپ چھاؤں بادلوں، بگولوں اور برسات جیسی ہوتی ہے۔شیچ جی ایسے  درویش بھی نہیں جن کا  کہیں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا۔

شیخ صاحب کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ کب جیل میں ہوتے ہیں کب باہر آ جاتے ہیں۔ سیاسی پیشگوئیاں کرنا مرغوب مشغلہ ہ

ے ۔10 بار ہ میں سے دو چار ویسے ہی پوری ہو جاتی ہیں۔ اسی پر پھر اتراتے رہتے ہیں کہ دیکھا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ دو پارٹیوں میں سے ایک جیتے گی، ایک ہار جائے گی۔ قربانی کی بات کیا کرتے تھے کہ عید سے قبل فلاں کی قربانی ہو جائے گی ۔اب پھر بقر عید آ رہی ہے اور جون  میں ہی آرہی ہے۔خود کو پیر پگارا کی طرح جی ایچ کیو کے قریب باورکراتے رہے ۔

ایسے لوگ  سیاسی سرد گرم سے محفوظ رہتے ہیں مگر شیخ صاحب کے کڑاکے نکلتے دیکھے گئے۔ گھر سے دکان پر دودھ لینے گئے تو چلّہ لگا کر واپس آئے ۔حکومت بنانے چلانے الٹانے کی پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں مگر اپنی سیٹ  کی پیش گوئی کر سکے نہ بچا سکے۔ کسی اور نے آٹھ فروری کے نتائج تسلیم کیے یا نہیں کیے، شیخ صاحب نے بڑی متانت اور انکساری سے  سر تسلیم خم کرتے ہوئے مان لئے ۔جس طرح سے منصوبہ بندی کرتے ہیں کچھ مخالفین دل جلے انہیں شیخ چلی بھی کہہ دیتے ہیں مگر وہ خود کو چلہ لگانے کے بعد شیخ چلہ ثابت کر چکے ہیں۔