عظیم خوشخبری

تحریر: ستارچوہدری

| شائع |

نام،محمد دین،عمر،75سال،رنگ،گندی،قد5فٹ2انچ،سرپربال ابھی کچھ کچھ باقی ہیں،یعنی کہ مکمل گنجے نہیں ہوئے،آئرش کیپ پہنتے ہیں،شلوارقمیض ہی ان کا پسندیدہ لباس ہے،قمیض زیادہ تران کا دوجیبوں والا ہی ہوتا ہے،ہلکی سی داڑھی بھی رکھی ہوئی،مکمل صحت مند،کوئی بیماری ان کے قریب سے بھی نہیں گزری،پیدل بہت زیادہ چلتے ہیں،دلیل سے بات کرتے ہیں،اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے،دوسروں کی عزت کرنا فرض سمجھتے ہیں،

مایوس نہیں ہوتے نہ ہی کبھی انہوں نے مایوسی والی بات کی،ہر بات پر رونا دھونا انہ

یں نہیں آتا،دل کے سخی ہیں،آپ کسی ہوٹل میں اکٹھے کھانا کھالیں،انکی کوشش ہوتی ہے بل وہ ادا کریں،دفترمیں اگر وہ بسکٹ کا ایک پیکٹ لے آئیں،اکیلے نہیں کھاتے،تقسیم کردیتے ہیں،اگر انکے بیٹھے کوئی دوسراشخص دفترآئے انہیں شکل سے پہچان جاتے ہیں کہ اسے پیاس لگی ہے،فوری طورپر کولر سے پانی بھر کر گلاس پیش کرتے ہیں،صحافی ہیں،مصنف ہیں،زیادہ تر بے روزگار ہی رہتے ہیں،کیونکہ انہیں سینئر کااحترام کرنا آتا ہے خوشامد کرنا نہیں،غلط بات کو دوسرے کے منہ پرہی غلط کہہ دیتے ہیں،کسی کے ناراض یا خوش ہونے کی پروا نہیں کرتے۔ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ ملک میں چلنی والی مختلف تحاریک میں گزرا ہے،بائیں بازوسے تعلق رکھتے ہیں،یونین رہنماؤں کے ساتھ کئی ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

امریکا سےجتنی زیادہ نفرت کرتے ہیں اتنی ہی روس سے محبت کرتے ہیں۔ دنیا میں ہونیوالی ہر جنگ،سازش،رجیم چینج کا الزام امریکا پر لگاتے ہیں،پاکستان میں بھی تحریک انصاف کی حکومت تبدیل ہونے کا ذمہ دار انہوں نے امریکا کو ہی ٹھہرایا تھا۔ان کا کہنا ہے امریکا نے ہی طالبان کوبنایا تھا،امریکا نے ہی مطلب نکلنے پر انہیں دہشت گرد قرار دےدیا۔ گزشتہ دنوں انہوں نے مجھےویب سائٹ ’’ sott.net‘‘ پر کاﺅنٹر کرنٹس سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار جیمز اے لوکس کی رپورٹ بھیجی۔ رپورٹ  میں ان کی تحقیق کے مطابق امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے لے کر اب تک دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں تقریباً دو سے تین کروڑ لوگوں کا خون بہایا ہے۔۔۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں دنیا کے 37 ممالک میں امریکا کے جنگی جرائم سے پردہ اٹھایا ہے اور تفصیلی وجوہات بھی بیان کی ہیں کہ ان ممالک میں کروڑوں لوگوں کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکا کس طرح سے ہے۔ جیمزلوکس کے مطابق امریکا نے کوریا اورویتنام کی جنگوں اور عراق پرمسلط کی گئی دو جنگوں کے دوران تقریباً ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو ہلاک کیا۔ بعدازاں افغانستان، انگولا، کانگو، مشرقی تیمور، گوئٹے مالا، انڈونیشیا، سوڈان اور پاکستان میں بھی امریکا کی طرف سے لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان ممالک میں امریکی بربریت کا نشانہ بننے والوں کی کل تعداد 90 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ کے درمیان بتائی گئی ہے، رپورٹ میں مصنف لکھتے ہیں کہ 70 سال کے دوران دو سے تین کروڑ لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اسی عرصے کے دوران امریکی تباہ کاریوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد مرنے والوں کی نسبت تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کو حکومت نے اپنے اصل کردار سے بے خبر رکھا ہے اور امریکا کے عوام یہ نہیں جانتے کہ ان کے ہاں تو ایک نائن الیون ہوا تھا، لیکن امریکا دنیا بھر میں بے شمار نائن الیون کرچکا ہے۔بابا جی پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیوں میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی کیخلاف ہیں،کہتے ہیں منصورہ امریکی ڈالرزسے تعمیر ہوا تھا،یہاں تک کہہ دیتے ہیں ،جاؤ،کھدائی کرکے دیکھ لو،منصورہ کی بنیادوں میں اب بھی امریکی ڈالرزمل جائیں گے،پیپلز پارٹی کو پسندکرتے ہیں،صرف ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر تک،زرداری والی پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں،انکا موقف ہے زرداری نے نہ صرف بھٹو خاندان کی جائیدادوں  پر بلکہ پارٹی پر بھی قبضہ کیا،اوربھٹو کی پارٹی کو ختم کردیا،اب اس سیاسی پارٹی کو پیپلز پارٹی نہیں،زرداری پارٹی کہناچاہیے۔شریف خاندان کو بھی بالکل پسندنہیں کرتے،انکے بارے ان کی سوچ ہے،کہتے ہیں انہیں کوئی لیڈر نہ کہا کرے،یہ تو سیاستدان بھی نہیں ہیں،تاجرہیں۔تاجر کا کیا کام ہوتا ہے۔۔۔؟

 بس منافع کمانا،جیسے بھی کمایا جائے،انہوں نےسیاست کو کاروبار بنایا ہے۔۔۔عمران خان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں،جب سے عمران خان نے امریکا کیلئے سخت رویہ اپنایا ہے۔۔۔دنیا میں اس وقت ان کا پسندیدہ لیڈر روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور  دوسرے نمبرپر عمران خان ہے۔۔۔جب بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے،میں ان کا حال چال پوچھنےکے بعد  کہتا ہوں۔۔۔اورسناؤ۔۔۔؟ میرے اس سوال کو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ کیا پوچھ رہاہوں ۔۔۔؟ سوال یہ ہوتا ہے کہ کہیں نوکری ملی ۔۔۔؟ کیونکہ وہ آجکل چار،پانچ ماہ سے بے روزگار ہیں۔۔۔کافی دن ہوگئے ان سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی،کل وہاں جانا ہوا،جس مقام پر ہماری ملاقات ہوتی ہے۔۔۔دور سے ہی مجھےدیکھ کر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے،یوں لگا جیسے میرا شدت سے انتظارکررہے تھے،ان کے چہرے پر ڈھیر ساری خوشیوں کے اثرات تھے،جونہی میں قریب پہنچا،انہوں نے اپنے دونوں بازوپھیلائے اور یوں مجھ سےلپٹ گئے جیسے کسی باپ کو کئی سالوں سے لاپتہ اکلوتا بیٹا مل گیا ہو۔۔۔کہنے لگے،کئی دنوں سے  آپ سے ملنے کو د ل کررہا تھا، آپکو بہت بڑی خوشخبری سنانا تھی۔۔۔

خوشخبری کا سن کر میرے چہرے پر بھی خوشی کے اثارآئے۔۔۔میں سمجھاکہیں نوکری مل گئی ہوگی۔۔۔میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے،کرسیوں پر بیٹھ گئے۔۔۔انہوں نے جیب سے پیکٹ نکالا۔۔۔سگریٹ  سلگایا۔۔۔دھواں فضا میں چھوڑا ۔۔۔۔ اورکہنے لگے،سناؤں خوشخبری۔۔۔؟سناؤ بھئی،کیوں سسپنس میں ڈال رہے ہو۔۔۔ان کے چہرے پرایسے تاثرات تھے جیسے کوئی ملک فتح کرنے کے بعدکسی فاتح کےچہرے پر ہوتے ہیں۔۔۔ بولے۔۔۔بیٹے کوامریکی سفارتخانے میں ڈائریکٹر کی نوکری مل گئی ہے۔