عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ اسد قیصر

تحریر: None

| شائع |

تحریک چلانے کی ضرورت کیا ہے حکومت نے کیا کہا اور ایسا کیا کر دیا کہ دو تین ماہ بھی نہیں ہوئے کہ تحریک چلانے کا ڈراوا دے دیا ہے۔ اسد قیصر  پہلے بھی تحریک چلانے کا بیان دے چکے ہیں مگر اس بیان میں زیادہ جوش و جذبہ نہیں تھا اب ان کے بیان میں ایک انرجی اور ولولہ انگیزی نظر آتی ہے ۔وہ کہتے ہیں مولانا فضل الرحمن بھی تحریک میں شامل ہوں گے۔

عید کے بعد جو تحریک چلانی ہے وہ ابھی کیوں نہیں چلائی جا سکتی شاید کارکنوں کو قربانی کے گوشت سے توانا اور طاقتور بنا کر تحریک میں

زور اور جان ڈالنے کا ارادہ ہے تحریک چلے گی جسے ان کی طرف سے پر امن کہا جا رہا ہے تحریکوں میں کارکن کب پر امن رہتے ہیں۔حکومت نے اگر اٹھانا ہے گرفتار کرنا ہے تو پھر کارکن اور لیڈر پرامن رہیں نہ رہیں اٹھا لیے جائیں گے ۔کارکن تو اب بھی مظاہروں کے لیے دستیاب ہیں مگر لیڈر مصروف ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں شیڈو کیبنٹ بن رہی ہے گویا پنجاب حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے گی۔ مرکز اور دوسرے صوبوں میں سب ٹھیک چل رہا ہے؟

اس لیے وہاں شیڈو کیبنٹ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی .تحریک چلے گی لیڈر کارکن پکڑے جائیں گے جیلوں میں ڈالے جائیں گے ان کا جوش بڑھانے کے لیے عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولتوں کی فہرست ان کے سامنے رکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔ ایکسرسائز کا سامان واک کی جگہ ایئر کولر کچن بیڈ گدا کرسی کتابیں اور بھی کافی کچھ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ کپڑے استری کرنے کے لیے فرائی پین نظر نہیں آیا ۔کارکنوں کو اس کی ضرورت بھی شاید نہیں ہوگی ۔باقی سہولتیں اور  سامان  جودستیاب ہے ٹھاٹھ باٹھ کیلئے وہی کافی ہے۔