غیرمقبول بجٹ پیش کرنے کا مقصد آئی ایم ایف سے پروگرام حاصل کرنا ہے۔ علی پرویز،وزیر مملکت برائے خزانہ

تحریر: None

| شائع |

علی پرویزخزانے کی وزارت کے چھوٹے وزیر ہیں۔ اتنے بھی چھوٹے نہیں کہ نان اور پان میں فرق نہ کر سکیں۔ آئی ایم ایف سے پروگرام حاصل کرنے کے شوق میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ غیر مقبول بجٹ پیش کیا ہے۔ غیر مقبول کو کوئی سخت کہتا ہے کوئی عوام دشمن قرار دیتا ہے۔ بڑے نام  والے  "سائنسدانوں"کے بنائے بجٹ کے بھی مہینوں بعد ضمنی بجٹ آنا شروع ہوتے ہیں۔ علی پرویز کی حکومت نے تین دن میں ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا ضمنی بجٹ لا پھینکا۔ عوام کو دلاسہ دیاہے یا اشرافیہ کو س

نہرا خواب دکھایا ہے۔ کہتے ہیں کوشش ہے چھ ارب سے زیادہ کا پیکج ملے۔ یہ رمضان میں مخیر حضرات کی طرف سے غربا میں تقسیم ہونے والا راشن کا پیکج نہیں جو مستحق افراد ، بیواؤں ، رنڈووں ، جھولے لال اور بے جمالو کہنے والوں سمیت " مستحقین" کندھے پر رکھ کر  لے جاتے ہیں۔ یہ پیکج ادھار ہے مگر ایسا ادھار جو چھوٹے وزیر نے واپس کرنا ہے اور نہ بڑے وزیر خزانہ نے اور نہ ہی ان وزیر وں کے مہاراجہ نے، اس چھ ارب میں سے عام آدمی کے حصے میں کیا آئے گا۔ حساب کریں تو 24 ڈالر  فی پاکستانی بنتے ہیں۔ جو ایک بلب اور پنکھا چلانے والے صارف کو آنے والے بل کا تقریباً نصف بنتا ہے۔ اگر وہ پنکھی جھل لے تو ایک ماہ کا بل ادا کر سکتا ہے۔ یہ چھ ارب اگر 25کروڑ عوام میں تقسیم کرنے کے بجائے چند سو خواص میں بانٹ دیئے جائیں تو ان کا کچھ بن جُڑ سکتا ہے۔ عوام کے حصے میں تو بھاگتے چور کی لنگوٹی ھی  آنی ہے جو تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ قرض کل ملنا ہے یا نہ جانے کب ملناہے ۔بجٹ میں عوام کو گیلی جگہ پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ان کے سامنے گرم توا ہے۔ بندہ شکر کرتا ہے کہ گیلی جگہ پر ہی کھڑا ہے۔ حکومت کہتی ہےقرض ملے گا تو عوام کو ریلیف دیں گے مگر کب....؟