قاضی فائز عیسی کا حسن کرشمہ ساز لاہور ہائی کورٹ کے سب سے سینیئر جج کو جونیئر بنا دیا....جسٹس ملک شہزاد کا یادگار خطاب جس نے سب کو لرزا کے ہلا کے گھما کے رکھ دیا

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع |

یہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا حسن کرشمہ شاز  ہے کہ وہ جو چاہیں کر دیں کیونکہ آج کل ان کے پاؤں کے تلے بٹیرا آیا ہوا ہے وہ چیف جسٹس پاکستان ہیں پوری طاقت کے ساتھ اپنی اس طاقت کو جائز اور ناجائز طریقے سے ائینی اور غیر آئینی طور پر استعمال کر رہے ہیں قاضی فائز صاحب سب سے بڑے سینیئر موسٹ جج کو سپریم کورٹ لانے کے وکیل رہے ہیں لیکن اب جب خود چیف جسٹس بنے تو ان کو اپنے 100 میٹر کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے سب سے سینیئر جج جسٹس عامر فاروق نظر نہیں آئے ۔ان کی نظر پڑی تو کراچی کے چیف ج

سٹس پر، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شہزاد ملک پر اور لاہور ہائی کورٹ ہی کے جسٹس شجاعت پر ان کو قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ لے گئے۔ سنیارٹی کی بات کرنے والے چیف جسٹس کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریٹائرمنٹ کی مدت کو پہنچ گئے وہ بھی ان کو نظر نہیں آئے تھے۔


لاہور ہائی کورٹ کے سب سے سینیئر جج کو قاضی  نے سپریم کورٹ لے جا کر سب سے جونیئر جج بنا دیا ایسا ہی ہونا تھا۔لیکن ان کو سپریم کورٹ لے جانے کی وجہ ان کو ترقی دینا اور ان کی مدت ملازمت میں تین سال کا اضافہ نہیں ہے بلکہ ان سے جان چھڑانا مقصود تھا کہ وہ دلیرانہ جرات مندانہ آئین اور قانون کے مطابق بغیر بلیک میلنگ میں آئے بغیر جھکے بغیر دباؤ قبول کیے فیصلے کر رہے تھے۔قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو اس وقت کوئلوں پر لوٹتا ہوا محسوس کیا جب جسٹس ملک شہزاد خان گھیبہ کی طرف سے آٹھ ٹربیونل بنانے کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا گیا الیکشن کمیشن اس کی مخالفت کر رہا تھا الیکشن کمیشن دوڑا دوڑا قاضی فائز عیسیٰ  کے پاس گیا اور قاضی صاحب نے ایک منٹ کی تاخیر نہیں کی 20 جون کے لیے یہ کیس لگا دیا اور پھر ملک شہزاد کی طرف سے سرگودھا کے جج کی بات بھی سنی گئی تھی نہ صرف ان کی بات سنی گئی بلکہ انہوں نے جو رپورٹ بھیجی تھی کہ ان کو کس طرح سے یرغمال بنایا گیا ان سے فیصلہ اپنی مرضی کا لینے کی کوشش کی گئی اس پر شہزاد ملک نے آئی جی اور ڈی پی او سرگودھا کو طلب کر لیا تھا۔ ان کی سرزنش کی تھی اور پھر ان کی طرف سے ایک تقریر کی گئی راولپنڈی بار میں اس کی بھی شدید تکلیف محسوس ہوئی ۔پاؤں جلنے لگے سر بوجھل ہونے لگا طبیعت خراب ہو گئی۔ افاقہ اسی اسی میں نظر آنے لگا کہ شہزاد ملک کو فوری طور پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب سے ہٹا دیا جائے۔
 پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس عید کے بعد ہونا تھا ان کو فوری طور پر بیٹھنے کو کہا گیا پارلیمانی کمیٹی نے جمعہ کے روز اجلاس منعقد کیا اور تینوں ججوں کی سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی۔ اب جسٹس شہزاد ملک سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں ۔لاہور میں تھے تو سب سے سینیئر جج تھے سپریم کورٹ جا رہے ہیں تو سب سے جونیئر جج ہوں گے۔
جس طرح کے فیصلے ان کی طرف سے یہاں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے ہوئے کیے گئے ان کا تسلسل کیا وہاں پہ نظر آئے گا؟؟؟ بالکل نظر آئے گا لیکن قاضی  صاحب جب تک چیف جسٹس ہیں اس وقت تک ان کو وہ  بالکل نظر آئے گا لیکن قاضی فائز صاحب جب تک چیف جسٹس ہیں اس وقت تک ان کو کیس نہیں دیں گے جس سے سیاسی طور پر قاضی  صاحب کی نفرت کی زد میں آئے ہوئے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر قاضی فائز عیسیٰ  جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس کا زیادہ حصہ انصاف کی کار فرمائی عملداری نہیں ہے بلکہ انصاف کا خون کر دینے کے مترادف ہے۔ ادھر جیسے ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے ٹربیونلز کا معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھا گیا قاضی فائز نے چار دن کے بعد سماعت کی ڈیٹ مقرر کر دی چار دن اس لیے دیئے گئے کہ درمیان میں چھٹیاں آگئی تھیں ورنہ تو قاضی صاحب اگلے روز ہی کیس مقرر کر تے اور سٹے آرڈر دے کر الیکشن کمیشن کو خوش کر دیتے۔اب آ جاتے ہیں شہزاد ملک کی تقریر کی طرف جس نے پوری دنیا میں شہرت پائی پاکستان کی سیاست کئی سیاست دانوں اور ان کے پشت پناہوں کو لرزا کے، ہلا کے اور گھما کے رکھ دیا۔


چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جو اب سپریم کورٹ جا چکے ہیں ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ امید ہے اسٹیبلشمنٹ کی جوڈیشری میں دخل اندازی جلد ختم ہوجائے گی۔ اللہ کا خوف رکھنے والے کسی سے بلیک میل نہیں ہوتے۔ ججز کسی سے بلیک میل نہ ہوں۔ ہماری جوڈیشری بغیر کسی ڈر خوف اور لالچ کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔ راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس میں اے ڈی آر اور ای کورٹ کے افتتاح کے موقع پر چیف انہوں  نے مزید کہا کہ ججز پر دباؤ کے حوالے سے شکایات آرہی ہیں۔ مولوی تمیزالدین کیس میں اسٹیبلشمنٹ کی جوڈیشری میں مداخلت شروع ہوئی۔ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی جوڈیشری میں مداخلت کے حوالے سے ججز کے خطوط آتے ہیں۔ ہم انصاف کی فراہمی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ 13 مارچ 2007ء  میں عدالتی نظام کی بحالی کے لئے  اکیلا گھر سے نکلا تھا۔ سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار نے ایک ڈکٹیٹر کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ سول حکومت جیسی بھی ہے مگر مارشل لاء  کا راستہ رک چکا ہے۔ مارشل لاء  کا راستہ روکنے میں وکلاء  کی جدوجہد کا اہم کردار ہے۔ ملک شہزاد گہبا نے پرویز مشرف کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مارشلہ کی لعنت کا پاکستان سے جسٹس افتخار محمد چودری کی جدوجہد کی وجہ سے خاتمہ ہو چکا ہے۔اب کسی میں جرات نہیں کہ وہ پاکستان میں مارشل لا لگا سکے۔اج پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین سول دور ہے پہلے ادوار میں چند سال کے بعد مارشل لگ جاتا تھا لیکن اب 2008 کے بعد جیسی بھی ہے سول حکومت چل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا ایمان اور تجربہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت جلد ختم ہوگی۔ملک شہزاد کی طرف سے جو کچھ کہا گیا یہ شاید کوڈ اف کنڈکٹ کی خلاف ورزی میں ا جاتا لیکن اب نہیں اس سکتا کیونکہ ایسی ہی باتیں بلکہ اس سے بھی سخت موقف کا اظہار شوکت عزیز صدیقی اسلام اباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سب سے سینیئر جج کی طرف سے اختیار کیا گیا تھا انہوں نے بھی اسی بار میں کتاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کس طرح سے ائی ایس ائی کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا کس طرح سے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے کہا گیا ان کو اس وقت کی سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے سیک کر دیا گیا تھا لیکن قاضی فائزہ کی سربراہی میں اج کی سپریم کورٹ نے ان کی ساری خطائیں معاف کر دیں تو جو کچھ ملک شہزاد کی طرف سے اج کہا گیا ہے وہ اس سے بہت کم ہے اس لیے کسی قسم کا ان کو خطرہ نہیں ہے گو کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی باتیں ہو رہی ہیں یہ ریفرنس بھیجا گیا تو قاضی  کی جب جبلت کے عین مطابق ہوگا اور وہ اسی طرح سے شہزاد ملک کے خلاف نوٹس لے سکتے ہیں جس طرح مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف لیا گیا تھا۔