ناکام کون ہوا: تحریک انصاف یا اسٹیبلشمنٹ ؟

تحریر: عذرا قلم کشیدہ

| شائع |

اسٹبلشمنٹ  اپنے اسپ تازیوں کی معیت میں مکمل ناکامیوں کے بعد اب اپنے آخری راؤنڈ کی جانب گامزن ہے جہاں ایک جانب اینٹی اسٹبلشمنٹ ووٹر کو انگیج کرنے کےلیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پرانے سیاستدانوں کو میدان میں اتارا جانا ہے جبکہ تحریک انصاف کو کرش کرنے میں مکمل ناکامی کے بعد اب حکومت میں اسے کنٹرول کرنے کی پلاننگ کے تحت اپنے لوگوں کو پھر سے پارٹی کے اندر داخل کرنے کا پلان ہے۔ کچھ لوگ اس حوالے سے فواد چوہدری کا اور کچھ زبیر عمر کا نام لے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کےلی

ے اب نئی صورتحال پیدا ہو رہی ہے ۔ سیاسی سپیس بھی بڑھ رہی ہے۔ عمر ایوب اور شبلی فراز نے مشکل ترین وقت میں پارٹی کو سنبھالا اور گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ خصوصاً عمر ایوب کی لیڈرشپ کو  خان صاحب قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ جیسے نو مئی کے بعد نئی قیادت کو سامنے لایا گیا ، اب دوبارہ نئی سیاسی صورتحال میں  پرانی قیادت کو آگے لانے کا وقت آ چکا ہے۔ شیر افضل مروت جیسے جنونی افراد بھی تحریک انصاف میں ایک اچھا اضافہ تھے لیکن وہ دماغ کی بجائے زیادہ تر دل سے اور کبھی کبھی اپنے ٹخنوں یعنی گٹوں سے سوچ کر بات کرتے ہیں تو پارٹی کے لیے آسانی کی بجائے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔
عارف علوی یا اعظم سواتی میں سے کسی کو جنرل سیکٹری کا عہدہ دینا ہو گا جبکہ اسد قیصر ، عاطف خان ، علی امین گنڈاپور ، میاں اسلم اقبال ، شیخ وقاص اکرم  اور علی محمد خان کا استعمال کرتے ہوئے نئی سیاسی صورتحال پہ نئی سیاسی حکمت عملی کا اطلاق کرنا ہو گا۔  اب اسٹبلشمنٹ کے ساتھ براہ راست ٹکر کے بجائے سیاسی چالوں کا وقت آ چکا ہے لہذا اسٹبلشمنٹ کے بارے میں نرم رویہ رکھنے والوں کو بھی استعمال کرنا ہو گا ۔ یہی گیم کا سب سے اہم حصہ ہے ۔ شاہ محمود قریشی اگر اس صورتحال میں باہر آتے ہیں تو تحریک انصاف ایک بہترین سیاسی گیم کھیل سکتی ہے اور موجودہ چھوٹے بڑے مسائل پہ آسانی سے قابو پا سکتی ہے ۔ 
اسٹبلشمنٹ کو ادراک ہو چکا ہے کہ تحریک انصاف کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہا۔ اب اس گیم کو وہ جلدی کلوز کرتے ہیں یا سال ڈیڑھ پہ محیط کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کا اندازہ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے سے ہو جائے گا۔ 
اگر تحریک انصاف کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو دی جاتی ہیں تو پھر اسٹبلشمنٹ اگلے ایک ڈیڑھ سال تک تحریک انصاف کو ناقابل تلافی نقصان پہچانے کے حصے پہ عملدرآمد کرے گی لیکن بدترین معیشت میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ۔ اگر مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو مل جاتی ہیں تو پھر یہ اسٹبلشمنٹ کی جانب سے قدم پیچھے ہٹانے کا اعلان ہو گا۔ اگر سیٹیں کسی کو نہیں ملتیں جس کا امکان بہت زیادہ ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ اسٹبلشمنٹ تحریک انصاف کا راستہ روکنے کے بجائے تحریک انصاف کو اگلی حکومت میں مفلوج اور قابو کرنے جبکہ اس کا ووٹ توڑنے اور پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے کے منصوبوں پہ عمل پیرا رہے گی ۔ فیصلہ یہ بھی آ سکتا ہے کہ جتنے لوگوں تحریک انصاف کے ساتھ اپنے کاغذات نامزدگی میں وابستگی ظاہر کی جن کی تعداد دو سے تین درجن ہے ان کے مطابق تحریک انصاف کو مخصوص سیٹیں دے دی جائیں۔
اس دوران تحریک انصاف سے مذاکرات اور کچھ حد تک مزید سیاسی سپیس کے بڑھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ 

ایک بات ہمیشہ ذہن نشین کیجیے کہ تحریک انصاف کو ملنے والی سیاسی سپیس کبھی بھی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہونی بلکہ عمران خان کی استقامت ، آٹھ فروری کو قوم کا فیصلہ ، جبکہ امپورٹڈ ٹولے کی بدترین خارجہ اور داخلی محاذ پہ ناکامی اور بدترین معاشی کارکردگی کے باعث ہو گی ۔ بادی النظر میں ادارے کی جانب سے حافظ کا بوجھ اتارنے کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں ۔ فی الحال تحریک انصاف کے کارکنان کو کسی ڈیل شیل کی خبروں پہ یقین کرنے کے بجائے سیاسی جدوجہد پہ یقین رکھنا ہےاور پارٹی تقسیم کی سازشوں ، نئی اینٹی اسٹبلشمنٹ قوتوں کی انٹری ، حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات اور لفافوں کی جانب سے نئے بیانیوں کی لانچنگ پہ نظر رکھنی ہے!