پہلے جنم میں نریندر مودی سر سید احمد خان تھے، بھارتی میڈیا کا  اپنے دعوے کا اعادہ

تحریر: None

| شائع |

بھارتی میڈیا نے مضحکہ خیز دعوے کو ایک بار پھر دہرایا ہے کہ نریندر مودی پہلے جنم میں سرسید احمد خان تھے۔نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے جبکہ وہ پہلے جنم میں سرسید احمد خان تھے۔ یہی نہیں بھارتی میڈیا نے اس حوالے سے ایک مکمل رپورٹ بھی تیار کی تھی جس میں کہا گیا کہ سرسید احمد خان دوسرے جنم میں نریندر مودی بن کر آئے ہیں۔ 
ہندو عقیدے کے مطابق انکے سات جنم ہوتے ہیں جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ایک جنم کا پابند ہے۔ ہندوازم کے عقیدے کے مطابق اگر نریندر مودی پچھلے جنم میں سرسید احمد خان

تھے تو ہم اس سے اتفاق نہیں کرینگے کیونکہ سرسید ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ انہوں نے انسانیت کی فلاح کیلئے بہت اچھے اچھے کام کئے جبکہ کٹر شدت پسند مودی جی کے کرتوت  اور کمالات سب کے سامنے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے بقول کہ سرسید احمد خان دوسرے جنم میں نریندر مودی بن کر آئے ہیں‘ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ مودی نہ تو سر ہیں اور نہ ہی سید‘ البتہ وہ سر تا پا مسلمانوں کیلئے اذیت ضرور ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا جو حال ہے‘ وہ بھی پوری دنیا پر عیاں ہے۔ 71ءمیں بھارت کی پروردہ تنظیم مکتی باہنی میں شامل ہو کر وہ پاکستان کو دولخت کرنے میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں جس کا وہ بنگلہ دیش جا کر برملا اظہار بھی کر چکے ہیں جبکہ آزاد کشمیر سمیت ہمارے شمالی علاقہ جات کو بھی بھارت کا حصہ گردانتے ہیں۔ ہاں مودی کی نسبت کسی مسلمان سے ملانا ہی مقصود ہے تو ہمارے میرجعفر اور میر صادق موجود ہیں۔ بھارتی میڈیا نریندر مودی کا پچھلا جنم اگر نہرو یا گاندھی کی نسبت سے بیان کرتے تو مان لیا جاتا۔ ہمارا تو خیال ہے کہ مودی جی کا یہ دوسرا جنم نہیں‘ بلکہ وہ اپنے پانچ جنم شداد‘ ہامان‘ نمرود اور فرعون کی شکل میں گزار چکے ہیں اگر ایسا نہیں تو کم از کم انکے اسسٹنٹ ضرور رہ چکے ہونگے۔ انکے  کرموں سے تو لگتا ہے کہ مودی کے اس جنم کا خمیر ان شیطانوں کی مٹی سے ہی لیا گیا ہے۔مودی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چلتے چلتے جہاں کھمبا دیکھتے ہیں وہاں رکتے ہیں، اسے غور سے دیکھتے رہتے ہیں اور پھر روانہ ہو جاتے ۔بھارتی میڈیا کو تھوڑی سی مزید ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے‘ مودی کی تمام جنم بھومیاں سامنے آجائیں گی۔