ہسپتالوں کے کچرے سے چوسنیوں سمیت کئی اشیاء بنائی جاتی ہیں جو انتہائی خطرناک ہے،فضل حکیم خان وزیر ماحولیات خیبر پختونخوا

تحریر: None

| شائع |

اسپتال کے کچرے میں خطرناک اور بے ضرر دونوں طرح باقیات ہوتی ہیں۔ بے ضرر کچرے میں کاغذ، گتے، پیکیجنگ اور اسی طرح کی اشیاء شامل ہیں جبکہ خطرناک اشیاء میں دستانے،یورین بیگ، سرنجیں،پیتھالوجیکل، شارپس، فارماسیوٹیکل ویسٹ شامل ہیں۔اس کے علاوہ زائدالمیعاد ادویات ،ویکسین اور دوا ساز سامان کو سنبھالنے میں استعمال ہونے والی ضائع شدہ اشیاء جیسے بوتلیں، بکس، دستانے، ماسک، ٹیوبیں  بھی خطرناک ویسٹ میں شامل ہیں۔جن فیکٹریوں میں یہ کچرا جاتا ہے وہ بلا امتیاز بے ضرر اور خطرناک کے،  ری  س

ائیکل کر کے نئی مصنوعات بناتی ہیں جن میں برتن بچوں کے کھلونے اور چوسنی بھی شامل ہیں۔چوسنی شیر خوار بچے کو بہلانے اور مصروف رکھنے کے لیے مائیں اس کے منہ میں ان دنوں ڈال دیتی ہیں جب اسے ذائقے کا احساس نہیں ہوتا۔بچہ تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے تو چوسنی کی جگہ لولی پاپ کا تقاضہ کرتا ہے۔چوسنیاں اچھے مٹیریل سے ھی بنتی ہیں لیکن اب پتہ چلا کہ ہسپتال کے خطرناک کچرے سے بھی بنائی جاتی ہیں۔ویسے  کچرے سے نہ جانے کیا کیا بنتا ہے۔نرم ملائم رنگدار اور خوشبودار ٹشو بھی ایسے یا ویسے کچرے سے بنائے جاتے ہیں۔مارکیٹ میں دستیاب  کھلا اچار بنتا کوئی دیکھ لے تو اس کے کھانے سے ہی دل اچاٹ ہو جائے۔دیسی چینی بنانے کے لیے گڑ اور شکر کا خام مال ڈرموں میں ڈال کر کئی دنوں کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔جس دن چینی بنانی ہو اس روز اس خام مال کو بڑے کڑاہے میں ڈال کر ایک یا دو افراد پاؤں دھو کر کڑاہے میں داخل ہوتے ہیں۔ پاؤں دھونا  لازمی شرط نہیں ہے۔دنیا کی سب سے مہنگی کافی ہاتھی کے ذریعے پراسس  کر کے تیارکی جاتی ہے۔ہاتھی کو کافی کے بیچ کھلا دیئے جاتے ہیں اس کے بعد کی کافی نوش نہ ہی سنیں۔