ستمبر11: قائد ڈے ،نیا 9/11اور چونڈہ محاذ

2021 ,ستمبر 11



آج ۱۱ ستمبر کا دن کئی حوالوں سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد ۱۱ ستمبر کو قوم کا باپ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔کسی بھی بڑی شخصیت کی رحلت پر عموماً اس کا خلاءپُر نہ ہونے کا رسمی فقرہ ادا کیا جاتا ہے۔قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بارے میں یہ قطعی طور پر رسمی بات نہیں،ایک اٹل حقیقت ہے۔ قائد اعظم کی ان کے انتقال کے پہلے روز کی طرح کمی آج بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔اگر صرف کشمیر کی بات کرلیں تو قائد جیسی کمٹمنٹ کسی بھی حکمران میں نہیں پائی گئی۔پاکستان کے دوسرے آرمی چیف جنرل ڈگلس گریسی کو قائد اعظم نے کسی بھی طرح کشمیرکو آزاد کرانے کا حکم دیا تھا۔قائد کی رحلت کے بعد ایسی کمٹمنٹ کسی حکمران میں نظر نہیں آئی۔
    محمد علی جناح کو 1937ءمیں مولانا مظہرالدین نے ’قائداعظم‘ کا لقب دیاتھا۔جو ان کے نام کا اٹوٹ حصہ بن گیا۔انگلینڈ سے واپسی کے بعد جناح صاحب نے سیاست میں باضابطہ طور پر حصہ لیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس کا حصہ بننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ یہ جماعت برصغیر کے تمام باسیوں کی نہیں بلکہ صرف ہندووٓں کی نمائندہ جماعت ہے۔یہیں سے دو قومی نظریہ کی بنیاد استوار ہونے لگی جو ہندو اور مسلم قومیت کے درمیان دیوار ثابت ہوئی۔آج قوم قائد کی 73 ویں برسی عقیدت و احترام کیساتھ منا رہی ہے۔
    11ستمبر کی 1965 ء کے حوالے سے ایک منفرد اہمیت ہے۔۶ ستمبر کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا۔بھارت کو بری بحری اور فضائی افواج نے منہ توڑ جواب دیا تھا۔11 ستمبر 1965 کو چونڈہ پہ بھارتی فوج کے حملے کا آغاز ہوا۔آغاز تو حملہ آور کے اختیار میں ہوتا ہے۔مگر اختتام یا حتمی انجام کا فیصلہ اس کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ایسا ہی چونڈہ ہی نہیں ۶ ستمبر کے حملے کی صورت میں ہوا۔۱۱ ستمبر کوچونڈہ کے محاذ پر شروع ہو نیوالی ٹینکوں کی جنگ دنیا کی وار ہسٹری میں ایک مثال بن گئی۔اس میں بھارتی ٹینکو کی تباہی کی وجہ سے اسے "بھارتی ٹینکوں کا قبرستان" بھی کہا جاتا ہے۔چونڈہ اور اس سے ملحقہ پھلورہ، بھاگوال، گڈگور، ظفر وال، ٹھرو منڈی، چوبارہ، اور خانے والی اس لڑائی کا میدان کارزار تھے۔چونڈہ کے محاذ پر پاک فوج نے وطن عزیز کو دفاع کیا اور دشمن کا جی ٹی روڈ پر قبضے اور سیالکوٹ کو لاہور سے کاٹنے کا منصوبہ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ دشمن کا عددی برتری کا گھمنڈ چونڈہ کی خاک میں مل گیا اور ہماری افواج نے اپنے سے کئی گنا زیادہ فوج کی پیش قدمی روک دی۔چونڈہ کی جنگ اپنے اندر ہزاروں داستانیں سمیٹے ہوئے ہے۔ چونڈہ کی جنگ سات دن جاری رہی اور یہ تو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح افواج پاکستان اور چونڈہ کے نوجوان شانہ بشانہ دفاع کرتے رہے اور جب وقت آیا تو فوجی جوان اپنے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔ایسا دنیا کی جنگی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔
11 ستمبر 2001ءکو واشنگٹن میںجو کچھ ہوااسے امریکہ نے اپنے لئے ایک ہولناک گھاﺅ قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری اسامہ بن لادن پر ڈالی۔وہ اس وقت سے افغانستان میں موجود تھا جب سے امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کے کمانڈر کی حیثیت سے جنگ لڑتا رہا تھا۔اب ایک دم سے وہ اور اس کے کئی ساتھی امریکہ کی نظر میں مجاہدین سے دہشتگرد بن گئے تھے۔۱۱ ستمبر کی مناسبت سے امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کو نائن الیون قرار دیا جس میں تین ہزار لوگ مارے گئے تھے۔نائن الیون پر امریکہ میں ہر سال برسی کے نام صف ماتم بچھتی ہے۔آج نائن الیون پر زیادہ ہی شدت سے امریکی ماتم کررہے ہیں۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے یلغار کرکے افغانستان کو تاراج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔بیس سال بعد امریکہ نے سودوزیاں کاحساب کیا تواسے لگا وہ سنگلاخ پہاڑوں سے سر ٹکراتا رہاہے ۔طالبان اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر گوریلا کارروائیوں کیلئے پہاڑوں پر چلے گئے۔امریکہ کو بالآخر ان کے ساتھ امن معاہدہ کرنا پڑا۔آج طالبان اقتدار میں آچکے ہیں۔ان کی طرف سے عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا ہے۔حسن اخوند طالبان حکومت کے وزیراعظم بنائے گئے ہیں۔ملا عبدالغنی برادر اور ملا عبدالسلام حنفی نائب وزیر اعظم ہونگے۔تہی دست حکومت کی مکمل کابینہ کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ لوگ اپنے عہدوں کا حلف آج ۱۱ ستمبر کو اُٹھا رہے ہیں۔طالبان اور ان کے حامی حلقے وہ جہاں جہاں بھی ہیں جشن منارہے ہیں۔طالبان حکومت کا قیام اور آج حلف برداری سے ایک نیا نائن الیون،نئے رنگ میں،نئے ڈھنگ سے دنیا کے منظر نامے پر طلوع ہورہا ہے۔اُدھر آج امریکہ میں برسی کا اہتمام کیا گیا ہے۔طالبان کا جشن امریکہ،اس کے اتحادیوں اور حامیوں کیلئے تازیانوں سے کم نہیں ہوگا۔طالبان حکومت میں ملا امیر متقی کو وزیر خارجہ بنایا گیا ہے۔یہ مفتی ہیں،حافظ ہیں،گریجوایٹ ہیں،مجاہد ہیں اور اب اپنے وطن کے محافظ بھی ہیں۔کابینہ کے باقی لوگ بھی ان کی طرح کے ہیں۔ان کو امریکہ اُجڈ اور گنوار قرار دیتا تھا۔انہی لوگوں نے امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی ناکام بنا کر رکھ دی۔سب سے بڑھ کر مذاکرات کے دوران بھی یہ لوگ امریکہ پر بھاری رہے۔ 


 

متعلقہ خبریں