پنجابی فلموں کے مشہور ہیرو کی اپنی گلوکارہ بیوی کے شادی ختم ہو گئی تو کسی نے پوچھا جناب یہ طلاق کیوں ہوئی ؟ موصوف نے کیا جواب دیا ؟ جان کر آپ لطف اندوز ہونگے

2018 ,نومبر 14



لاہور  (ویب ڈیسک) ایک بار پنجابی فلموں کے ایک مشہور ہیرو نے ایک مشہور گلوکارہ سے شادی کرلی۔ خیر شادی نے کیا چلنا تھا؟ طلاق ہو گئی۔ بعد میں کسی نے اس ہیرو سے پوچھا: خان صاحب! آپ نے ''ان‘‘ سے شادی کیسے کرلی؟خان صاحب نے ایک لمحہ توقف کیا‘

 

نامور  کالم نگار خالد مسعود خان روزنامہ دنیا  میں ا پنے  ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پھر کہنے لگے: اللہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا؟ مجھے خود آج تک سمجھ نہیں آئی۔ اس نے میری آنکھوں میں اُلّو کا سرمہ ڈال دیا تھا۔ مفرور اسحاق ڈار صاحب بھی قرضہ لیتے وقت دوسرے کی آنکھوں میں اُلّو کا سرمہ ڈال دیتے تھے۔ قرض دینے والا بعد میں سوچتا تھا کہ اس نے کیا کرلیا ہے‘ لیکن تب تک چڑیاں کھیت چگ کر جا چکی ہوتی تھیں۔ اسحاق ڈار قرض لیتے وقت قرض دینے والے کی ہر بات تسلیم کر لیتے تھے۔ ان کا طریقہ کار بھی یہی تھا کہ جب ہم نے ادائیگی کرنی ہی نہیں تو پھر شرطیں ماننے میں کیا حرج ہے؟ دنیا میں بلند ترین شرح منافع پر بیچے جانے والے بانڈز‘ بلند ترین شرح سود پر حاصل کئے گئے قرضے اور سات سال بعد ادائیگی شروع ہونے ۔۔ والے میٹرو اور اورنج ٹرین کے قرضے۔ اکثر قرضوں کی ادائیگی کی پہلی قسط 2022ء اور 2023ء میں شروع ہونی تھی‘ یعنی اس مفروضے پر کہ اگر مسلم لیگ ن 2018ء کا الیکشن جیت بھی گئی‘ تو وہ کسی قسم کی ادائیگی نہ کرے‘ بلکہ 2023ء میں الیکشن جیتنے والے اس قرضے کی ادائیگی شروع کریں اور جب ادائیگی شروع کریں‘ تو پہاڑ جیسا سات سالوں کا سود اور پھر اگلے بیس سال وہ ان قرضوں کو اتارتے اتارتے درگور ہو جائیں۔

 

ایک میراثی کسی سود خور مہاجن کے پاس گیا اور اسے کہنے لگا کہ اسے دو من گندم ادھار چاہئے وہ چھ ماہ بعد اس کی ادائیگی کر دے گا۔ مہاجن کو اندازہ تھا کہ یہ میراثی جس کے پاس گروی رکھنے کو بھی کچھ نہیں اس کا سارا ادھار کھا جائے گا اور اسے کوئی وصولی نہیں ہوگی‘ لیکن مہاجن اسے صاف انکار کر کے اپنا کاروبار بھی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اسے کہا کہ وہ اسے دو من گندم ادھار دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ کہہ کر مہاجن نے بالٹی اٹھائی اور میراثی کو کہا کہ یہ دس سیر کی بالٹی ہے۔ دو من میں آٹھ بالٹیاں آئیں گی۔ یہ کہہ کر مہاجن نے گندم کے ڈھیر میں سے ایک بالٹی بھر کر نکالی اور ایک طرف ڈال دی‘ پھر دوسری بالٹی بھری‘ لیکن پوری بھرنے کے بجائے تھوڑی کم بھری اور پہلی بالٹی کے اوپر الٹا دی] پھر تیسری بالٹی بھری‘ لیکن بھری کہاں‘ دس پندرہ فیصد خالی بھری اور ڈال دی۔ غرض چوتھی‘ پانچوں اور آٹھویں بالٹی کے الٹنے تک آخری بالٹی آدھی تک کی نوبت آ گئی۔ میراثی نے بتدریج کم ہوتی ہوئی گندم کی مقدار پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ میراثی کا خیال تھا کہ اس نے کونسا ادائیگی کرنی ہے؟ جو مل جائے غنیمت ہے۔ سو وہ خاموش رہا اور دو من جو حقیقت میں ڈیڑھ من سے بھی کہیں کم تھی اٹھانے کے لیے آگے بڑھا ‘تو مہاجن نے کہا کہ وہ اسے گندم نہیں دے رہا۔

 

 میراثی نے پوچھا کہ کیوں؟ تو مہاجن کہنے لگا: اگر تم نے ادائیگی کرنی ہوتی تو تم گندم پوری تول کر لیتے اور ہر بالٹی کی کم ہوتی ہوئی مقدار پر اعتراض کرتے۔ تم مسلسل کم ہوتی ہوئی گندم پر اعتراض اور احتجاج کرتے‘ مگر تم نے دو من کے بجائے اس ڈیڑھ من سے بھی کم گندم کو دو من کی ادائیگی کے عوض لیتے ہوئے اس کے کم وزن پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اس گندم کی ادائیگی کرنی ہی نہیں۔ تمہاری نیت ہی خراب ہے۔ اس لیے میں تم کو یہ گندم نہیں دے رہا۔اپنے اسحاق ڈار اینڈ کمپنی جب کسی سے قرض لیتے تو ان کی نیت ہی یہی تھی کہ یہ قرضہ کم از کم ہم نے تو نہیں اُتارنا۔ یہ سارا قرضہ پاکستان کی آئندہ نسلوں نے اُتارنا ہے‘ لہٰذا وہ ادائیگی کے خوف سے بے فکر ہو کر قرض لیتے رہے اور ہر شرط اور ہر گارنٹی پر قرض لے کر اللّوں تللّوں اور ذاتی موج میلے میں اڑاتے رہے۔ مختلف ترقیاتی پراجیکٹس میں کک بیکس اور کمیشن سے بیرون ملک جائیدادیں بناتے رہے اور ان ترقیاتی پراجیکٹس کے طفیل عام آدمی کو ملک میں ترقی ہوتے ہوئے بھی نظر آتی رہی۔

 

اس سارے موج میلے کے طفیل ہر طرف رونق لگی رہی۔ کہیں میٹرو بنتی نظر آتی رہی اور کہیں اورنج ٹرین بنتی ہوئی نظر آتی رہی۔ کہیں موٹروے بن رہے تھے اور کہیں صاف پانی سکیم جیسی کمپنیوں کی رونق لگی رہی۔ اشتہارات اور پراپیگنڈے نے سونے پر سہاگہ پھیرے رکھا۔ ہر طرف ہرا ہرا نظر آتا رہا۔ جب گئے تو پتا چلا ہر شے پر قرضہ ہے اور خزانہ خالی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلند شرح سود اور دیگر نامعقول شرطوں کو بلاتامل مان کر قرض لینے پر عالمی‘ معاشی اداروں نے اعتراض کیوں نہ کیا کہ ہم یہ قرض واپس نہیں کریں گے؟ قرض دینے والے یہ خون نچوڑ قسم کے ادارے کیا اس مہاجن سے بھی گئے گزرے تھے جس نے میراثی کو ادھار گندم دینے سے انکار کر دیا تھا؟ تو بات دراصل یہ ہے کہ نہ تو یہ ادارے مہاجن سے کم عقل کے مالک ہیں اور نہ ہی اسحاق ڈار کی ذاتی ویلیو اس میراثی سے زیادہ ہے‘ لیکن اسحاق ڈار کو اس غریب میراثی پر صرف ایک فوقیت حاصل تھی اور وہ یہ کہ اس میراثی کے برعکس اسحاق ڈار کے پاس ضمانت فراہم کرنے کے لیے مملکت خداداد پاکستان کی گارنٹی تھی اور گروی رکھنے کے لیے موٹروے‘ ایئر پورٹس اور دیگر ریاستی ملکیتی جائیدادیں۔ سو قرض دینے والوں کو اس سے کیا غرض کہ قرض لینے والا میراثی ہے یا اسحاق ڈار۔ انہیں تو مملکت خداداد پاکستان کی گارنٹی میسر ہے اور ادائیگی کے لیے آئندہ نسلیں۔ ایسی صورتحال کے لیے اردو محاورہ ہے کہ ''حلوائی کی دکان پر نانا جی کا فاتحہ‘‘۔(ش س م)

متعلقہ خبریں