سوات میں بدھا کے مجسمے کی دوبارہ تعمیر

2016 ,نومبر 9



خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں کشیدہ حالات کے دوران تباہ ہونے والے بدھا کے مجسمے کی دوبارہ تعمیر کا کام مکمل ہوگیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ گوتم بدھ کایہ مجسمہ ساؤتھ ایشیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہے اور سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے شمال کی جانب تقریباً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں منگلور میں ایک بڑے پتھر سے بنائے گئے گوتم بدھ کے اس مجسمے کو نو سال بعد دوبارہ اپنی اصلی شکل میں بحال کیاگیا ہے۔

سوات میں طالبان نے تیس ستمبر سن 2007 کو اپنے دور اقتدار میں اس مجسمے کو دوبار دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی تھی اور مجسمے کےچہرے اور سر میں ڈرل مشین کے ذریعے سوراخ کرنے کے بعد اسے بارودی مواد سے اڑایا تھا جس سے اس مجسمے کو کافی نقصان پہنچا تھا۔

تیرہ فٹ لمبے اور نو فٹ چوڑے ا س مجسمے کو ایک بڑے پتھر پر اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ اس کو رسی یا لمبی سیڑھی کی مدد کے بغیر چھونا مشکل ہے یہی وجہ تھی کہ طالبان اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کرسکے۔

سوات میں اطالوی آرکیالوجی مشن کے حکومتی نمائندے سید نیاز علی شاہ نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ گوتم بدھ کا یہ مجسمہ ساتھویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا لیکن کشیدہ حالات کے دوران اسے بری طرح سے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس پر پاکستان کو بیرونی ممالک سے کافی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور حکومت سے کہا گیا تھا کہ ان تاریخی اور مذہبی مقامات کی حفاظت اور انہیں قائم رکھنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائیں۔

اس کی بحالی میں تھری ڈی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو بہت ہی ایڈوانس ٹیکنالوجی ہے اور گوتم بدھ کے مجسمے کی جو صورت ہے اسے اصلی حالت میں بحال کیا ہے اور اسمیں کسی قسم کا کیمیکل استعمال نہیں کیاگیا ہے۔

مینگورہ شہر سے تعلق رکھنے والے فضل خالق نے بی بی سی کو بتایا کہ اطالوی مشن کے مشکور ہے جو انیس سو پچپن سے ان اثار قدیمہ پر کام کررہے ہیں۔

پہلے یہاں پر ساؤتھ ایشیا سے بدھسٹ آتے تھے جو امن عامہ کی خراب صورتحال کے باعث بند ہوگیے تھے لیکن اب یہاں دوبارہ لوگ شروع ہوگئے ہیں اور کچھ دن پہلے یہاں پر بیرون ملک سے سیاح آئے تھے۔ ان کے مطابق اس مجسمے کی دوبارہ بحالی سے نہ صرف پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ یہاں انٹرنیشنل سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

متعلقہ خبریں