سہمی لرزتی لڑکھڑاتی 18ویں ترمیم

2020 ,مئی 16



آج تک کی پیشرفت کے مطابق 18ویں ترمیم پر نظرثانی مقدر کی طرح اٹل نظر آتی ہے۔یہ دعویٰ ماضی بعید و قریب کے سیاسی منظر نامے کو سامنے رکھ کر کیا جاسکتا ہے۔کرونا نے نیچر کو فائن اور ری فائن کیا ہے مگر ہمارے سیاسی اور سماجی رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہ سورج کے طلوع و غروب اور زمین کی گردش کی طرح برقرار ہیں۔ ن لیگ اور پی پی پی نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی پوری کوشش کی۔ حاصل بزنجو کے سر پر سجانے کیلئے تاج بنوا لیا۔ انہوں نے بھی بوقت ضرورت قائم مقام صدر بننے کیلئے اچکن سلوا لی مگر 16فاضل سینیٹرزچپکے سے کھسک لئے اور پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کی سپریم کورٹ کے حکم پر توسیع کے حوالے سے قانون سازی میں پی پی پی اور ن لیگ کاجذبہ حب الوطنی جذبہ ٔ ایمانی بن گیا جس کے تحت ضرورت نہ ہونے کے باوجود توسیع کے حق میں نئے کپڑے پہن کر خوشبو لگا کرقانون پاس کرانے میں ایکدوسرے سے سبقت لیتے نظر آئے۔میاں نواز شریف نے اپنی پارٹی کودس بارہ روز تک پارلیمنٹ میں بحث کا حکم دیا،بلاول کئی تجاویز لہرا رہے تھے مگردم بدم ، یکدم توسیعی قانون منظور ہوگیا۔کچھ سیاست کار اور تجزیہ نگار تدبر سے زیادہ تکبر سے کہتے ہیں۔ یہ تین سیٹوں پر کھڑی حکومت 18 ویں ترمیم میں تبدیلی کرے گی؟۔اول تو حکومت کو تین نہیں‘ سات نشستوں کی برتری حاصل تھی۔ ویسے تو دس پندرہ کی برتری بھی کبھی کچھ نہیں ہوتی اور کبھی ایک سیٹ بھاری پڑ جاتی ہے۔ مشرف دور میں ظفر اللہ جمالی کو ایک ہی سیٹ کی سبقت تھی اور پھر جب اس پارٹی کی حکومت ظفر اللہ خان جمالی کے بعد عبوری طورپر چودھری شجاعت اور مستقلاً شوکت عزیز کو دلائی تو کتنے ووٹوں کی سبقت ہو چکی تھی۔پورا ایوان چودھری شجاعت کے ساتھ کھڑا تھا۔جنرل باجوہ کی توسیع میں وہی تاریخ دُہرائی گئی جو تیسری بار ممکنہ طور پر 18ویں ترمیم میں نظرثانی کی منتظر ہے۔ پنجاب کے مضبوط وزیراعلیٰ میاں نوازشریف نے بینظیر کے خلاف عدم اعتماد لانے کیلئے پورا زور لگا دیا۔ الطاف کی ایم کیو ایم بھی راتوں رات 18 ایم این ایز کے ساتھ حکومت سے الگ ہو گئی۔ فوج کی حمایت سے بھی محترمہ تہی ہو چکی تھیں‘ لیکن تحریک عدم اعتماد سکڑ اور سمٹ گئی تھی۔ کہا جا سکتا ہے ظفر اللہ جمالی کے بعد چودھری شجاعت تو فوج کے حمایت یافتہ تھے لہٰذاجم غفیر انکے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ آج بھی فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اپوزیشن کی نظر میں تو عمران خان کی کوئی حیثیت نہیں۔ سب کچھ فوج کرتی اور کراتی ہے۔ فرض کریں ایسا ہی ہے تو پھر سمجھ لیں۔

18 ویں ترمیم میں ایک لفظ بھی نہیں بدلنے دیں گے۔ اس قسم کے پھوکے فائر بھی ہو رہے ہیں۔ اس ترمیم میں ایک لفظ نہیں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ الہامی کتابوں کے سوا کوئی دستاویز حتمی و ناقابل ترمیم نہیں ہو سکتی۔ آئین ملک سے زیادہ مقدم و مقدس نہیں۔ ضیاء الحق نے تو اسے کاغذ کا ٹکڑا قرار دیکر پھاڑنے کی بات کی تھی۔ اسی آئین میں بہتری کی گنجائش سمجھتے ہوئے ہی اٹھارویں ترمیم بھی کی گئی تھی۔ اب اس میں بہتری لانے میں کیا قباحت ہے۔ ذرا 19ویں ترمیم کا جائزہ لیں۔ یہ سپریم کورٹ کی تجویز پر کی گئی ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے ہے۔ عدلیہ کی طرف سے اس ترمیم کو لیکر عمومی رجحان وفاق کی مضبوطی کی طرف نظر آتا ہے۔ عدالتی اور قانونی امور کو بہتر سمجھنے والے حسنات ملک کہتے ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد ایک درجن کے قریب پٹیشن دائر ہوئیں۔ تمام ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے نئے پروسیجر کے بارے میں تھیں۔ تین ماہ جسٹس افتخار چودھری کی عدالت میں کیس چلا اور حکومت کو سپریم کورٹ نے کچھ تجاویز دیں جن کو قبول کرتے ہوئے 19 ویں ترمیم لائی گئی۔ سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس منیب اختر کے سامنے سندھ حکومت کی طرف سے سول ایوی ایشن پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف درخواست آئی تو انہو ں نے اس کے خلاف فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ میں معاملہ گیا تو تین رکنی بنچ نے کہا وفاقی اداروں میں صوبوں کو ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں۔ اس بنچ میں مشیر عالم اور قاضی فائز عیسیٰ بھی تھے۔ 2018ء میں سپریم کورٹ کی طرف سے ٹریڈ یونین کے حوالے سے قانون سازی کرنے کو مرکز کا بھی اختیارقرار دیا گیا۔ پولیس کے حوالے سے بھی قانون سازی کیلئے وفاق کا حق تسلیم کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بلاول تو بلبلا اٹھے تھے جس میں کہا گیا کہ مرکز‘ صوبوں میں ہسپتال بنا اور چلا سکتا ہے۔18 ویں ترمیم میں جنرل ضیاء الحق اور مشرف کی طرف سے کی گئی ترامیم کے ساتھ ان دو جرنیلوں کی شخصیت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کا نام آئین سے نکال دیا گیا۔ 18 ویں ترمیم کو جناب رضا ربانی کی ذہن زرخیز کی تخلیق قرار دیا جاتا ہے۔ رضا ربانی صاحب پاک فضائیہ کے سپوت عطا ربانی کے پوت ہیں۔ عطا ربانی قائداعظم کے اے ڈی سی رہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں قائداعظم کی تین غلطیوں(جنرل گریسی کو حکم عدولی پربرطرف نہ کرنا۔اردوکوبنگالیوں کی مخالفت کے باوجود قومی زبان قرار دینا،جس کے باعث آگے چل کر پاکستان ٹوٹ گیااورغلام محمد کو وزیر خزانہ بنانا) کی نشاندہی کی تھی۔ قوم کا باپ اور غلطیاں!!! عطا ربانی کے ساتھ گل حسن اور سید احسن بھی قائد کے اے ڈی سی رہے۔ وہ دونوں آگے جا کر بالترتیب آرمی اور بحریہ کے چیف بنے۔ مگر عطا ربانی ایئر چیف مارشل بننے کے بجائے کورٹ مارشل (گروپ کیپٹن سے فلائٹ لیفٹیننٹ بننے) سے بمشکل محفوظ رہے۔

آج کرونا پر ایک مرکزی پالیسی لاگو نہیں ہوسکی، جس پر حکومت کے ساتھ سنجیدہ حلقے بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ کل جنگ ہوتی ہے اور صوبے اسی طرح بااختیار رہتے ہیں۔ بالفرض مرکز میں ایکس وائی زیڈ کی حکومت ہے، سندھ میں جی ایم سید کے پیروکار، خیبرپختونخوا میں اے این پی اور بلوچستان میں محمود اچکزئی حکومت میں ہوں تو مرکز کے کہنے پر کئی تو بلیک آئوٹ سے بھی انکار کرسکتے ہیں۔ ایسی قباحتوں سے بچنے کیلئے وفاق کا طاقتور ہونا ضروری ہے۔ صوبوں کو مرکز کے زیرکنٹرول رہتے ہوئے آپ جتنا مرضی بااختیار بنا دیں، 18ویں ترمیم میں 100سے زائد تبدیلیاں کی گئی ہیں، ان میں سے چند ایک پر نظرثانی ہونی ہے۔ آج 18ویں ترمیم پر نظرثانی کی بات نہ سننے والے ہوسکتا ہے کل کچے دھاگے سے بندھے چلے آئیں۔(ختم شد)

متعلقہ خبریں