سونے سے قبل اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کا استعمال نقصان دہ

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 01, 2016 | 21:02 شام

سونے کے کمرے میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کی موجودگی نیند میں مداخلت کا باعث بنتی ہے چاہے یہ ڈیوائسز بند ہی کیوں نہ ہو۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔کنگز کالج لندن اور کارڈف یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والی 11 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا جس میں نیند پر ٹیکنالوجی کے اثرات کو دیکھا گیا تھا۔محققین نے دریافت کیا کہ سونے سے قبل اسمارٹ فونز یا ٹیبلیٹس کا استعمال نیند متاثر ہونے کا خطرہ دو گنا بڑھا دیتا ہے اور دن کے وقت غنودگی کی کیف

یت بھی دوگنا بڑھ جاتی ہے۔مگر تحقیق میں یہ اہم بات بھی سامنے آئی کہ ان ڈیوائسز کو بند کرکے کمرے میں رکھنا بھی نیند کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا انہیں استعمال کرنا۔محققین کے مطابق اچھی نیند کے لیے ان ڈیوائسز کو سونے کے کمرے میں ہونا ہی نہیں چاہیئے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے نتائج سے اس بات کے مزید شواہد ملتے ہیں کہ نیند کے دورانیے اور معیار پر ان ڈیوائسز کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کے بقول نیند بچوں کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہے مگر اس کی کمی متعدد طبی مسائل کا باعث بنتی ہے۔تحقیق کے مطابق ان ڈیوائسز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور تعلیمی اداروں میں ان کا استعمال نوجوانوں میں نیند کے مسائل کا باعث بنتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ بدترین ہوجاتا ہے۔