تیسرا

2019 ,نومبر 22



کیا میں جانتاتھا؟
میری تخلیق کے وقت میں کون ہوں ؟ جو تم جان جاتے شاید میں نا ہوتی ۔۔

چنگھاڑتے رنگ جسم پر اوڑھے بے باکی چہرے پر سجائے سب کو لبھاتی روٹی کی آس میں ناچتی گاتی بے عزتی کراتی
پتا ہے کون ہوں میں ؟

تیسری

یہ ہندسہ اتنا تکلیف دہ کیوں ہے
محبت میں آئے بے وفائی کہلائے
عبادت میں آئے شرک ہوجائے
مگر یہ دنیا میں آئے ہی کیوں ؟

ان کے لئیے ایک الگ دنیا ایک الگ سیارہ ہونا چاہیے نا ۔۔
میرا تم سب سے کیا جوڑ؟
دل دماغ ہاتھ پیر سبھی کچھ تو ہے کیا کمی ہے مجھ میں ؟
اور جو ہے بھی تو قدرت کی طرف سے ہے
اڑا لو اس کی تخلیق کا تمسخر میں کچھ نہیں کہتا
کبھی سوچا ہے ہر وقت ناشکری کا رونا رونے والو تم کتنے مکمل ہو ایک ذات ایک پہچان ہو
تم میں کوئی معذوری ہو تو دنیا کی رحمدلی تمھارے ساتھ اور میں ۔۔
کیا میں انسان نہیں میرا دل جذبات غم خوشی کا کون جوابدہ ہے
میری تخلیق کیا تم لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کا ذریعہ ہے ؟
کیوں میں اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود گندی نالی میں قید ہوں ؟
انسان مسلمان معاشرہ مذہب کون مجھے میرے حقوق میری عزت دیگا میں کس سے فریاد کروں ؟
میں دل رکھتی ہوں کیا یہ دکھ کم تھا کے مجھے بنانے والے نے ممتا تو دی مگر تخلیق کے قابل نا رکھا
محبت تو دی مگر مجھ سے رشتہ جوڑنے میں بدنامی رکھ دی
والدین کا احترام تو دیا مگر ان کی شفقت سے محروم رکھا
بہن بھائی کے لئے گالی بنادیا گیا ہوں
میں کہاں جاؤں ۔ کس سے فریاد کروں
کون میرے اس نا کردہ گناہ کی سزا ختم کرے گا
ساری زندگی تھرک تھرک کے گالیوں کے ساتھ روٹی کی جستجو
کیا کسی مرد کے لئے زندگی اتنی ہی مشکل ہے
یا کسی عورت کے لئے ۔
ان نگوڑ ماروں کا دکھ نہیں مجھے بس تکلیف ہے اس بات کی کے رب نے میری تخلیق کا مقصد نہیں بتایا مجھے ۔
پکارا ہے ۔۔ اے انسانوں
اے ایمان والوں
ان میں ۔۔ میں بھی ہوں
لیکن کب کوئی مجھے بطور انسان تسلیم کرے گا
میرے اندر جو پھانس ہے اھورے پن کی وہ کبھی نہیں نکلے گی
مرد اللہ کا خلیفہ ہے
عورت اس کی پسلی سے نکلی اسکا حصہ
اور میں ؟
میں کون ہوں
میں کیا ہوں
تیسرا
یا
تیسری

تحریر: سلمیٰ سید

متعلقہ خبریں