سات ستمبر کا دن پاکستانی مسلمانوں کے لئے عید سے بڑھ کر خوشی کا دن

2019 ,ستمبر 7



لاہور( ماریہ مختار): 7 ستمبر کا دن پاکستانی مسلمانوں کے لئے عید سے بڑھ کر خوشی کا دن ہے۔ اس روز ہمارے ملک کی قومی اسمبلی نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ یہ فیصلہ مسلمان کبھی بھلا نہ پائیں گے۔ آج سے تقریباً ایک سو پندرہ سال پہلے انگریز کے اشارے پر ضلع گورداس پور کے علاقے قادیان کے ایک شخص مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ انگریزوں کے خلاف مسلمانوں نے جہاد کا اعلان کیا تھا۔یہ سب کچھ انگریزوں کے لئے مصیبت بنی ہوئی تھی۔ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اس شخص کو نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے کہا گیا اور اس نے جہاد حرام ہے کا اعلان کر دیا۔ انگریزوں نے مرزا غلام قادیانی کی حفاظت کا سامان کیا۔ مرزا نے بھی قدم قدم پر خود کو انگریزوں کا وفادار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ مثال کے طور پر اسے اپنی ایک کتاب تحفہ قیصریہ میں لکھا ہے۔ میرے باپ مرزا غلام مرتضیٰ کو گورنر کے دربار میں مقام حاصل تھا۔ وہ انگریز سرکار کے خیرخواہ تھے۔ 1857ء کی جنگ میں پچاس گھوڑے خرید کر اور پچاس جنگجو جوان انگریزوں کو دئیے۔ اس کی کتاب تحفہ قیصریہ پوری کی پوری انگریزوں کی تعریف سے بھری ہوئی ہے۔ مرزا نے خود کو انگریزوں کا ”خود کاشتہ پودا“ بھی لکھا ہے۔ نبوت کے اس جھوٹے دعویدار نے بال و پر نکالے تو علمائے کرام اور مشائخ عظام اس کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔ اس طرح یہ جدوجہد سو سال تک جاری رہی۔ پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے پاکستان میں سر اٹھایا۔ ہر موقع پر پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ بدقسمتی سے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ظفراللہ قادیانی تھا اس نے مرزائیوں کو خوب بھرتی کیا۔ پورے ملک کے علما جمع ہوئے انہوں نے متفقہ طور پر اعلان کیا۔ ”قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا عالم اسلام قادیانیوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے۔“ اس اعلان کے بعد سب سے پہلے آزاد کشمیر حکومت نے 21 اپریل 1973ء کو انہیں غیر مسلم قرار دیا۔ 30 جون 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس وقت ملک کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہوں نے پوری قومی اسمبلی کو یہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایات دیں۔ قادیانیوں کے خلاف عدالت میں قادیانیوں کے خلیفہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں طلب کیا گیا۔ گیارہ دن تک اس پر جرح ہوئی۔ آخر 7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے یہ فیصلہ سنایا۔ ”جو شخص حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو آخری نبی ہیں کے خاتم النبین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کے لحاظ سے مسلمان نہیں ہے۔“ یہ فیصلہ قانون کا حصہ بنا۔ ورنہ اس سے پہلے قادیانی قانون کے اعتبار سے حکومت کی نظروں میں مسلمان تھے۔ 
اس طرح سو سالہ جدوجہد کے بعد مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم کامیابی عطا فرمائی۔ لہٰذا سات ستمبر کو جتنے بھی خوش ہوں کم ہے۔ یاد رہے کہ مرزا قادیانی پیچش کی بیماری میں مبتلا ہو کر بیت الخلاءمیں عبرتناک موت مرا تھا۔ 

متعلقہ خبریں