دنیا کا بد قسمت ترین آدمی جس نے اپنے 8 ارب روپے کوڑے میں پھینک دئیے

2017 ,دسمبر 9



لندن(نیوز ڈیسک)انسان کی جیب سے چند روپے بھی آگے پیچھے ہو جائیں تو وہ پریشان ہو جاتا ہے لیکن برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کی بدقسمتی دیکھئے جس نے اپنے ہاتھوں 8 ارب روپے کوڑے کی نظر کر دئیے۔ اس کی دولت ڈیجیٹل کرنسی بٹکوئن کی شکل میں ایک ہارڈ ڈرائیو پر محفوظ تھی لیکن گھر کی صفائی کے دوران وہ یہ ہارڈڈرائیو بھی کوڑے میں پھینک بیٹھا اور یوں 8کروڑ ڈالر (تقریباً 8 ارب پاکستانی روپے) سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
نیو پورٹ سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی ورکر جیمز ہوولز کا کہنا ہے کہ اس نے ہارڈڈرائیو 2013ءکے وسط میں غیر ارادی طور پرکوڑے میں پھینکی۔ اب وہ اپنے خزانے کو دوبارہ ڈھونڈنا چاہ رہا ہے لیکن سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ جس ہارڈ ڈرائیو رپر اس نے اپنے بٹکوئن سٹور کئے تھے وہ اس وقت ایک جگہ ملبے تلے دبی ہے۔ جب ہوولز نے اپنی ہارڈ ڈرائیو پھینکی تو اس وقت بٹکوئن کرنسی کی مالیت 130 ڈالر تھی مگر آج یہ 11350ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو جب ہوولز نے اپنی ہارڈ ڈرائیو پھینکی تو اس پر 9 لاکھ 75ہزار ڈالر مالیت کی کرنسی موجود تھی، جو اب 85125000ڈالر ہوچکی ہے۔اخبار ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے ہوولز کا کہنا تھا ”میرا لیپ ٹاپ خراب ہوگیا تو میں نے اس کی ہارڈ ڈرائیو اپنے پاس دراز میں محفوظ کرلی۔ مجھے معلوم تھا کہ اس پر میری بٹکوئن کرنسی کی ’پرائیویٹ کی‘ ہے، جس کی مدد سے میں بعدازاں بٹکوئن حاصل کرسکتا تھا۔ 2013ءکے وسط میں گھر کی صفائی کے دوران غلطی سے یہ ہارڈ ڈرائیو بھی کوڑے میں چلی گئی۔“ہوولز کا کہنا ہے کہ اسے یاد ہے کہ وہ کاٹھ کباڑ ایک قریبی جگہ پر دبایا گیا تھا اور یقینا وہ ہارڈ ڈرائیو بھی اس ملبے میں دبی ہوئی ہے۔ وہ اب اس جگہ کھدائی کروانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اگر ہارڈ ڈرائیو مل جائے تو اس پر موجود ’پرائیویٹ کی‘ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بٹکوئن کرنسی دوبارہ حاصل کرسکے۔

متعلقہ خبریں