لوگوں میں بڑھتا دل کا مرض۔وجہ منظرعام پر

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 03, 2016 | 19:00 شام

غذا کو تلنے یا بھوننے کی بجائے ابال یا ہلکی آنچ پر پکانا زندگی کے لیے خطرہ بن جانے والے دل کے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔یہ دعویٰ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ آخر کیوں کچھ اقوام میں امراض قلب کی شرح دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہے اور نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسا ممکنہ طور پر غذا کو زیادہ درجہ حرارت میں پکانے کی وجہ سے ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں کھانا پکانے کی تیکنیک میں زیادہ درجہ

حرارت کو اہمیت حاصل ہے جس کے نتیجے میں غذا میں ٹرانس فیٹی ایسڈز کی سطح بڑھ جاتی ہے۔اس کے مقابلے میں چین میں امراض قلب کی شرح کافی کم ہے جس کی وجہ عام طور پر کھانے کو دم دیکر یا ابال کر پکانا ہے جس سے ٹرانس فیٹی ایسڈز غذا کا حصہ نہیں بن پاتے۔تحقیق کے مطابق کھانے کو 150 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ پکانے پر غذا کی کیمیائی ساخت بدل جاتی ہے۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے افراد میں ہارٹ اٹیک سے مرنے کا خطرہ انگلینڈ اور ویلز میں پیدا ہونے والے لوگوں کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔محققین  کے بقول یہ پرجوش دریافت ہے کیونکہ اگر نتائج درست ثابت ہوئے تو ہم ایک نسل کے اندر امراض قلب کی شرح میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔یہ تحقیق طبی جریدے جرنل نیوٹریشن میں شائع ہوئی۔