موت سے چند لمحات کی دوری

2019 ,نومبر 9



فریاد حسین جاوید کوٹ سادات (بورے والا)
میں نے پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ علوم ابلاغیات میں ایم ایس سی کی کلاس کو ایک سمسٹر پڑھایا، وہاں کا میرا ایک شاگرد سرفراز راجہ اکثر میرے پاس آتا جاتا رہتا ہے، اس کو بھی میں نے حسب معمول کوئی واقعہ سنانے کا کہا تو اس نے اپنے والد صاحب کا یہ واقعہ مجھے سنایا، آپ بھی یہ واقعہ سرفراز کے والد فریاد حسین جاوید صاحب کی زبانی سنئیے، بعض اوقات انسان نے بہت کچھ منصوبہ بندیاں کی ہوتی ہیں اور اپنی اور خود سے وابستہ لوگوں کی زندگیاں بہتر سے بہترین کرنے میں موت سے غافل ہو جاتا ہے۔ اس غفلت کے دوران اللہ تعالی کی طرف سے انسان کو اشاروں میں سمجھایا جاتا ہے اگر کوئی سمجھ جائے تو وہ کامیاب رہتا ہے اور اگر کوئی نہ سمجھے تو وہ دونوں جہانوں میں نامراد ٹھہرتا ہے۔ 2004ء میں میری زندگی بھی ہنسی خوشی گزر رہی تھی ہر روز صبح سکول جانا  اور وہاں سے واپسی پر اگر وقت ہوا تو دوکان پر چلا جاتا لیکن اکثر اوقات سکول سے واپسی کے بعد زیادہ وقت کھیتوں کی کھلی فضاء میں قدرت کے درمیان گزرتا، ان دنوں میں نے ایک گاڑی لی ہوئی تھی جسے چشتیاں میں دودھ کی ملٹی نیشنل کمپنی کو کرائے پر دے رکھا تھا، میں خود کبھی کبھار وہاں معاملات دیکھنے جایا کرتا تھا۔
اپنی اسی روٹین کے دوران وہ دن بھی آیا جب میں موت سے چند لمحات کی دوری سے واپس آیا۔ ہوا کچھ یوں کہ میں نے صبح جمعہ کے روز چشتیاں جانا تھا تاہم رات کو ہی میرے بائیں بازوں میں شدید درد ہوا جو بڑھتا ہوا دل تک جا پہنچا۔ اتنی رات کو گاؤں میں تو کیا شہر میں بھی ڈاکٹر ملنے کی امید نہیں تھی۔ شدید تکلیف میں یہ رات گزر گئی جس کے بعد صبح ہوتے ہی میں چشتیاں چلا گیا۔

وہاں جمعہ کی نماز کیلئے جانے سے پہلے بیت الخلاء میں میرے دل میں اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ ٹونٹی بند کرنے کی بھی ہمت نہیں رہی، کسی طرح کر کے بیت الخلا سے باہر آیا اور ایک ڈاکٹر کے پاس ”پین کلر“ انجکشن لگوالیے جن سے کافی افاقہ ہوا۔ چشتیاں سے واپس آکر اگلے روز ہمارے گاؤں سے 5 کلو میٹر دور اپنے سکول چلا گیا لیکن  وہاں جاکر ایک بار پھر دل میں شدید تکلیف ہوئی۔ حالت ناقابل برداشت ہونے پر ساتھی اساتذہ مجھے میرے گاؤں لے آئے جہاں سے ہم 25 کلو میٹر دور بورے والا شہر میں ڈاکٹر عمران اسلم کے پاس  چلے گئے، ڈاکٹر صاحب نے ای سی جی کی تو دھڑکنیں بند ہوتی جارہی تھیں، انہوں نے میرے چچیرے بھائی نعیم اختر کو دوسرے کمرے میں بلایا اور بتایا کہ ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے لیکن آخری آپشن کے طور پر ایک انجکشن ہے جو مہنگا ہونے کے ساتھ بہت تیز بھی ہے اور اس کے پریشر سے دماغ کی شریانیں بھی پھٹ سکتی ہیں۔ اگر آپ یہ انجکشن نہیں لگواتے تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں آپ کے بھائی کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا اور اگر انجکشن لگواتے ہیں تو پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے، نعیم نے دکھی دل کے ساتھ آخری حربے کے طور پر ڈاکٹر صاحب کو انجکشن لگانے کی اجازت دے دی، اللہ کا خاص کرم یہ ہوا کہ جیسے ہی وہ انجکشن لگتا گیا دل کی دھڑکنیں بحال ہوتی چلی گئیں اور میں زندگی کی طرف واپس لوٹ آیا اب سب سے بڑا خطرہ شریان کے پھٹنے کا تھا تاہم ماں کی دعاؤں کی بدولت میرے بائیں پیر کی پنڈلی کی شریان پھٹی جس سے کچھ روز منہ سے اور بول وبراز  سے خون آتا رہا لیکن دماغ کی شریان پھٹنے کا خطرہ ختم ہوگیا۔

ابتدائی علاج کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کے دل کے 2 والو مکمل طور پر بند ہیں جبکہ تیسرا والو صرف 25 فیصد ہی کام کررہا ہے، ایک پریشانی گزرنے کے بعد دوسری بڑی پریشانی سامنے تھی۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اس کا واحد علاج بائی پاس ہے جس میں مریض کے بچنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ اسی دہری پریشانی میں مجھے کسی نے بوریوالا میں ایک سکول ماسٹر کا پتا بتایا جو  کلام الٰہی کے ذریعے لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ ایک روز وقت نکال کر بوریوالا کے علاقے گؤشالہ کی گلی نمبر 2  میں ماسٹر اصغر چشتی صابری کے گھرپہنچ گیا اور جاکر انہیں سارا احوال بتایا۔ ماسٹر اصغر صاحب نے مجھے کہا کہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اللہ نے اپنے کلام میں بہت تاثیر رکھی ہے۔ میرے گھر بہت سے لوگوں کو چار پائی پر لایا جاتا ہے لیکن وہ واپس اپنے پیروں پر چل کر جاتے ہیں اور آپ تو ویسے بھی خود چل کر اتنی دور سے آئے ہیں، ماسٹر اصغر  صاحب نے مجھے سورۃ یونس کے گیارہویں رکوع میں موجود آیت نمبر 57 بتائی اور ہدایت کی کہ پورے 41 روز تک نماز فجر کے بعد اس آیت کریمہ کا دم کر کے پانی پیوں۔
طریقہ اس کا کچھ یوں ہے کہ
”نماز فجر کے بعد پہلے 11 مرتبہ درود پاک پڑھناہے اس کے بعد پاس رکھے گئے پانی میں اس طرح سے زور دار پھونک مارنی ہے کہ اس میں حرکت پیدا ہوجائے اس کے بعد سورۃ یونس کی آیت نمبر 57 سات مرتبہ پڑھ کر دوبارہ پانی میں حرکت پیدا کردینے والی پھونک مار دینی ہے۔ اختتام پر دوبارہ 11 مرتبہ درود پاک پڑھ کر پانی پر زور دار پھونک مارنی ہے اور یہ پانی پی لینا ہے“۔
ماسٹر اصغر صاحب کا دیا گیا یہ نسخہ کیمیا میں نے 41 کی بجائے 55 سے 57 دن تک جاری رکھا جس کے بعد دوبارہ دل کے ٹیسٹ کرائے تو پتا چلا کہ اللہ کی خاص رحمت اور اس کے کلام کی برکت سے میرے دل کے سارے والو کھل چکے ہیں۔ آج اس واقعہ کو پورے 12 سال گزر چکے ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ان سالوں میں ایک بار بھی دل کی تکلیف نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ 7 یا 8 مرتبہ بلڈ پریشر ہی ہائی ہوا ہے لیکن یہ بھی میرے لیے دل کی تکلیف کا سبب نہیں بنا۔
٭٭٭

متعلقہ خبریں