موت سے ایک قدم ادھر

2019 ,اکتوبر 30



جمشید چشتی
موت سے ایک قدم ادھر

میری زندگی میں دو واقعات ایسے ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نئی زندگی عطاء کی، پہلا واقعہ تو ایسا ہے کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں ”میں موت کی آغوش میں جا چکا تھا۔ لیکن میرے والدین کی دعائیں اور نبی اکرمؐ کی نگاہ کرم مجھے موت کے منہ سے یوں نکال لائی جیسے شیر کے منہ سے نوالا چھینا جائے، میں جب گیارہ برس کا تھا تو ایک ایسا مرض مجھے لاحق ہو گیا جس نے میرے گھر والوں کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں۔ میرے والد چونکہ مجھ سے خاص محبت کرتے تھے لہٰذا وہ زیادہ پریشاں تھے، تقریباً چار سال وہ مجھے پاکستان کے تمام بڑے بڑے ڈاکٹروں، حکیموں، طبیبوں حتیٰ کہ بزرگوں کے پاس لئے پھرتے رہے کہ کہیں سے میرے بیٹے کو شفا نصیب ہو جائے، بالآخر چار سال کی تگ و دو کے بعد لاہور کے ایک بہت بڑے ڈاکٹر پروفیسر ممتاز حسن جو اس وقت صدر ضیاء کے خصوصی معالج تھے، کو دکھایا انہوں نے تین ماہ میں میرے مختلف نوعیت کے ٹیسٹ کروائے اور حتمی طور پر یہ فیصلہ دیا کہ آپریشن ہو گا اور یہ آپریشن خاصا پیچیدہ اور طویل ہے، لہٰذا پاکستان کی بجائے اگر امریکہ یا انگلینڈ سے کروایا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
میرے والد کو (الحمدللہ) روپے پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ وہ صرف آپریشن کا نام سن کر گھبرا گئے تھے، تب میں نے انہیں مجبور کیا کہ آپ میرا آپریشن کروائیں، کیونکہ میں اس بیماری کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتا مجھے صحت مند زندگی چاہیے۔
خیر…… میرا حوصلہ دیکھ کر ان کی ہمت بھی بندھ گئی اور انہوں نے لندن جانے کے انتظامات شروع کر دیئے۔ مختصر یہ کہ ہم لندن پہنچے۔ ڈاکٹر سے ٹائم  لیا۔ اس نے بھی آپریشن کا مشورہ دیا، ابا جی نے اسے پوچھا ”کامیاب ہو گا؟ اس نے ”ففٹی ففٹی“ کا اشارہ کیا۔
یہ 16 جنوری 1985ء کا دن تھا، جب رائل فری ہسپتال لندن میں میرا آپریشن صبح 9 بجے شروع ہوا اور نہ جانے کب ختم ہوا، مجھے اگلے روز ہوش آیا۔ تو ابا جی میرے سرہانے کھڑے تھے۔ مجھے پیار کیا، میں بھی خوش تھا کہ بیماری کی مصیبت سے جان چھوٹی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، روز بروز میں روبصحت ہونے کے بجائے مزید کمزور ہونے لگا اور میرا رنگ بالکل ہلدی کی طرح زرد ہوتا گیا، والد صاحب نے انتہائی پریشانی کے عالم میں وہاں موجود ڈاکٹروں اور نرسوں کی توجہ میری طرف دلوائی تو انہوں نے مزید تین، چار ٹیسٹ کئے پتا چلا کہ میرے معدے میں fangus کائی لگ چکی ہے جو معدے کو کھائے جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایک آپریشن مزید کرنا پڑے گا ورنہ یہ مر جائے گا، ابا جی کے اوسان خطا ہو گئے۔ مرتے کیا نہ کرتے، دوسرے آپریشن کی تیاریاں شروع ہو گئیں، اگلے ہی روز یعنی پہلے آپریشن کے ٹھیک دس دن بعد دوسرا آپریشن ہوا۔ یہ آپریشن کتنی دیر جاری رہا؟ کب ختم ہوا؟ مجھے کچھ خبر نہیں، مجھے ہلکا سا ہوش آیا تو میں آئی سی یو میں تھا۔ میرے منہ پر آکسیجن ماسک تھا۔ سامنے دیواروں پر چھوٹی چھوٹی سکرینوں والے ٹی وی تھے۔ جن میں میری زندگی کے اتار چڑھاؤ کے گراف بن رہے تھے، میرے پورے جسم میں نالیاں پیوست تھیں۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر ایک نرس بھاگی میرے پاس آئی اور ہاتھ کے اشارے سے کچھ پوچھا…… وہاں تین چار ڈاکٹر بھی موجود تھے۔ میں نے اشارے سے اسے ابا جی کے بارے میں پوچھا، وہ فوراً دروازے کی طرف لپکی اور ابا جی کو اندر لے آئی۔ انہیں دیکھ کر گویا میرے جسم میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ لیکن پھر میں بیہوشی کی اندھی کھائی میں جا گرا۔
پھر نہ جانے کب ہوش آیا…… اب کے حواس پہلے کی نسبت جاندار تھے، میں نے بولنے کی کوشش کی لیکن نقاہت کے باعث بول نہ پایا۔ ابا جی کو بلایا، وہ آئے، مجھے پیار کیا اور کہا، سرکارؐ کا کرم ہو گیا ہے۔ تم ٹھیک ہو گئے! میں نے اثبات میں سر کو جنبش دینا چاہی لیکن  پھر وہی بے ہوشی……اسی دوران میں نے ایک خواب دیکھا، نہ جانے یہ خواب تھا یا حقیقت تھی، کیونکہ تیس برس گزر جانے کے بعد بھی وہ ”خواب“ میری یادداشت کے ماتھے پر چپکا ہوا ہے……میں نے دیکھا چاروں طرف گھپ اندھیرا ہے۔ اس قدر گہرا اندھیرا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دور دور تک کوئی کرن، کوئی جگنوں، کوئی روشنی نما چیز نہیں۔ میں زور سے پکارتاہوں …… کوئی ہے؟ جواب ندارد۔پھر چیختا ہوں، کوئی ہے؟ جب تین بار پکارنے کے بعد کوئی جواب نہیں آتا…… تو میں خود کلامی کے انداز میں بولتا ہوں، یہاں کوئی ہے یا نہیں …… کم از کم میں توہوں …… کیونکہ مجھے اپنے ہونے کا احساس تو ہے……پھر جب میں ہوش میں آتا ہوں تو تمام ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر عملہ میرے گرد جمع ہو جاتا ہے اور وہ سب پوچھتے ہیں …… Mr. chisthi! how are you feeling now?
میں جواب میں صرف آنکھوں کے اشارے سے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیتا ہوں، (کہ میں بہتر ہوں) آئی سی یو میں وہ مجھے تقریباً تین دن مزید رکھتے ہیں اور ایک نرس کی زبانی مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپریشن کے Deep coma گہری بے ہوشی میں چلا گیا تھا جہاں سے اکثر مریض واپس زندگی کی سرحد میں داخل نہیں ہو پاتے۔ وہیں سے اگلے جہان سدھار جاتے ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ تم پندرہ دن مسلسل deep comaجو کہ near to death ہوتا ہے میں رہے ہو۔ہمیں تو تمہاری زندگی کی کوئی امید نہیں تھی، لیکن بہت خوش قسمت ہو کہ دوبارہ اس دنیا میں چلے آئے۔تیسرے روز مجھے میرے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا، اگلے روز وہی سرجن پروفیسر ڈاکٹر ہوبز آیا اور خوب زور سے مجھ سے ہاتھ ملا کر بولا چشتی ہم تو تمہاری زندگی سے مایوس ہو چکے تھے کیا تم بتاؤ کے تمہارے دل میں یا ذہن میں ایسی کون سی بات تھی جو تمہیں واپس لے آئی؟ میں نے جواب میں اسے کہا  اور تو کچھ نہیں بس میرے دل کو یہ یقین تھا کہ جب تک میرا باپ میرے سر پر ہے مجھے کچھ نہیں ہو سکتا…… وہ مسکرایا اور کہنے لگا آج مجھے روحانی طاقت پر یقین آ گیا ہے۔
ابا جی (محمد اعظم چشتیؒ) نے مجھے بعد میں بتایا کہ جب یہ لوگ تمہیں آپریشن کے لئے لے جا رہے تھے تو میں نے تمہیں رسول پاکؐ کی امان میں دیا تھا کیونکہ آپؐ لوگوں کی امانتیں لوٹانے والے ہیں اور آپؐ نے میری امانت مجھے لوٹا دی۔ ابا جی کے ساتھ میری آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔
دو منٹ کی تاخیر
دوسرا واقعہ ایسا ہے جو اکثر لوگوں کے ساتھ پیش آ جاتا ہے لیکن اس سے بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت ظاہر ہوتی ہے، میں پیر کی صبح 6 بجے شالیمار ایکسپریس کے ذریعے ساہیوال پہنچتا۔ وہاں سے رکشہ پر بیٹھتا اور ویگنوں کے اڈے پر جاتا اور پھر ویگن کے ذریعے پاکپتن شریف پہنچتا، ایک روز حسب معمول میں ریلوے سٹیشن ساہیوال سے بذریعہ رکشہ ویگنوں کے اڈے پر پہنچا تو ایک ویگن پاکپتن شریف کیلئے بالکل تیار کھڑی تھی جس میں صرف ایک سواری کی گنجائش باقی تھی۔ میں نے دور سے ہی ویگن والے کو اشارے سے کہا کہ سیٹ خالی رکھو میں آ رہا ہوں، میں نے رکشہ سے سامان اتارا اور اسے کرایہ دینے لگا، اس کام میں زیادہ سے زیادہ دو منٹ لگے ہوں گے۔ میں ویگن کی طرف بھاگا۔ اسی اثناء میں ایک آدمی جلدی سے ویگن  میں گھسا اور اس خالی سیٹ پر بیٹھ گیا جو میں اپنے تیئں ”بک“ کروا چکا تھا۔ میں نے کوشش کی کہ اس شخص سے درخواست کروں کہ  وہ میری سیٹ چھوڑ دے لیکن وہ بات سننے کو تیار نہ تھا، میں نے کنڈیکٹر کی طرف امداد طلب نگاہوں سے دیکھا، اس نے بے بسی سے شانے اُچکائے اور یہ جا…… وہ جا…… اب میں دوسری وین کے انتظار میں تھا۔ دوسری وین تیار ہونے لگی۔ میں نے ایک سیٹ سنبھالی اور مطمئن ہو گیا۔ پندرہ بیس منٹ میں یہ وین بھی تیار ہو گئی اور پاکپتن شریف کی طرف سفر کا آغاز ہو گیا، جب ہم تقریباً آدھا سفر طے کر چکے تو دیکھا کہ ایک وین سڑک کے دائیں طرف الٹی پڑی ہے اور بری طرح مسخ ہو چکی ہے۔ اندر زخمی کراہ رہے ہیں، تقریباً چار پانچ لاشیں باہر پڑی ہیں اور آبادی کے لوگ اس تباہ شدہ ویگن میں سے بہ مشکل زخمیوں کو نکال رہے ہیں، جنہیں ریڑھوں، تانگوں، رکشوں وغیرہ پر ڈال کر قریبی ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ سارا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ جب میں نے غور سے دیکھا تو یہ وہی ویگن تھی جس میں سوار ہوتے ہوتے میں رہ گیا تھا۔ یقین جانئیے میں لرز کر رہ گیا اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ جس نے مجھے دو منٹ کی تاخیر کے ساتھ اس اندوہناک حادثے کا شکار ہونے سے بچا لیا۔
آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو روح تک کانپ اٹھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے محبوب کریمؐ کے طفیل مجھے ایک بار مزید موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔
٭٭٭

حاجی امانت پاک فضائیہ سے ریٹائرڈ چیف وارنٹ آفسر ہیں، 1995ء کو کامرہ ائر بیس سے اپنی اہلیہ کے بھائی امجد کی شادی میں شرکت کیلئے نارنگ  منڈی آ رہے تھے، گوجرانوالہ شہر سے رات کو دس بجے گزرتے ہوئے سامنے سے آنے والے ٹرک کے پیچھے ٹیوٹاہائی ایس آرہی تھی۔ اس نے ٹرک کو کراس کرنے کیلئے اچانک دائیں ٹرن لیا تو ایک دھماکے سے  چودھری امانت کے کیری ڈبے سے ٹکر ہو گئی۔ گاڑی  حاجی امانت خود چلا رہے تھے، اگلی سیٹ پر ان کی اہلیہ مسرت کے بھائی طارق بیٹھے تھے۔ پچھلی سیٹ اہلیہ کی گود میں تین سالہ بیٹی فرحت تھی۔ امانت صاحب کہتے ہیں۔”مجھے نہیں پتہ کہ گاڑیاں کب اور کیسے ٹکرائیں۔ مجھے ہوش آیا تو میں سول ہسپتال گوجرانوالہ میں تھا۔ ٹکر کی رو داد وہاں موجود لوگوں نے سنائی۔ مسرت کو بھی چوٹیں آئیں  انکے گھٹنے متاثر ہوئے۔ہسپتال میں لوگ مجھے دیکھ کر کہہ رہے تھے یہ تو شایدبچ جائیگا، خاتون کے بچنے کی امید نہیں، میری یہ حالت تھی کہ بایاں ہاتھ کلائی سے ٹوٹ کر لٹک گیاتھا۔ مجھے ہوش آنے کے بعد سب سے پہلے کلائی کی ننگی ہڈیاں نظر آئیں، دایاں بازو کندھے سے ٹوٹا،دائیں ٹانگ کولہے اور پنڈلی سے دو جگہوں سے ٹوٹ گئی تھی۔ ہسپتال میں مجھے ہوش تو آ گیا مگر بول سکتا تھا نہ آنکھیں کھل رہی تھیں تاہم لاشعوری طور پر درود پاک کا ورد جاری تھا۔ میری شلوار کی جیب میں پانچ ہزار روپے تھے، میں پوری طرح ہوش میں نہیں آیا تھا تاہم میں نے محسوس کیا کوئی زپ کھول کر پرس نکال رہا ہے، بڑی آہستگی سے میرے منہ سے نکلا کوئی پیسے نکال رہا ہے۔ ہوش آنے پر میں نے طارق کو بتایا کسی نے جیب خالی کر دی ہے۔ وہاں موجود ایک سٹاف نے نشاندہی کی فلاں نے پرس نکالا ہے، اس سے پوچھا تو اس نے پرس واپس کر دیا، ہم کامرہ سے سوٹ کیس میں بری کا سامان لے کے چلے تھے۔ اہلیہ کے ہینڈ پرس میں 45 ہزار روپے تھے۔ وہ بھی ہماری مدد کرنے والے لے اڑے۔ کانوں سے بالیاں اتار لیں اور سوٹ کیس سے بھی کپڑے نکال کر لے گئے۔ ٹکر اس شدت کی تھی کہ بیگ میں شیشے کے کپ ٹوٹ گئے ایک چھوٹا کولر بھی اس میں تھا اس کی بھی ہیئت بدل گئی شاید اسی لئے اسے چرانا مناسب نہیں سمجھا۔ اگلے دن طارق نے گاڑی دیکھی توحادثے میں اس کی چھت اُڑ گئی تھی۔رات کوشہر کے باسیوں نے پردیسیوں کی گاڑی کے ٹائر بھی اتارلئے تھے، مجھے دوسرے روزلاہور سی ایم ایچ روانہ کر دیا گیاجہاں بہترین علاج کی سہولتیں میسر آئیں۔ میں نو ماہ زیر علاج رہا اور دو سال بعد ریٹائرڈ ہوا تو مکمل طور پر تندرست تھا تاہم مسرت کی چوٹیں اب انہیں پریشان کر رہی ہیں بیٹے محمد سمیع کی پیدائش اس ایکسیڈنٹ کے نو سال بعد ہوئی۔
٭٭٭
جنوری 2016ء کے پٹھان کوٹ اور نومبر 2007ء کے ممبئی حملوں میں کوئی مماثلت ہو نہ ہو البتہ بھارت کی طرف سے دونوں واقعات کے آغاز پر ہی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جانے لگا۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے ممبئی حملوں کا ذمہ دار جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کو قرار دیا، پٹھان کوٹ حملے کا ملبہ جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر پر ڈالا، بھارت دونوں حملوں پر اقوام متحدہ گیا۔ اقوام متحدہ نے بھارتی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر حافظ محمد سعید اور انکے ساتھیوں پر پابندیاں لگا دی،۔ زرداری حکومت نے حافظ محمد سعید اور ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ معاملہ ہائیکورٹ میں گیا، وہاں سے بری ہوئے تو وزیر داخلہ رحمن ملک سپریم کورٹ چلے گئے۔سپریم کورٹ نے بے قصور قراردیکر رہائی کا حکم دیدیا۔یہ رہا ہوئے تو لگا بھارت کی روح قبض ہورہی ہے، اس نے کہرام مچادیا مگر پاکستان میں سپریم کورٹ کے بعد کوئی اتھارٹی نہیں جہاں سے رحمٰن ملک سزا دلوادیتے۔
پٹھان کوٹ حملے کا الزام جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر پر بھارت نے اسی طرح لگایااور مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی اسی طرح پسپائی اختیار کی، مولانا مسعود اظہراور ساتھیوں کو حراست میں لے لیا گیا، بھارت معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا مگر یہاں پاکستان کی سفارتکاری فعال نظر آئی۔ اللہ بہتر جانتاہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارتکار حکومت کی سنتے ہیں یا فوج کی مانتے ہیں۔ داخلی معاملات اور خارجہ امور میں فوج کی متوازی پالیسی چل رہی ہے، بہرحال بہترین لابنگ سے چین نے مولانا مسعود اظہر کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی بھارتی حسرت خلیج بنگال میں ڈبودی، سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے بھارتی تجویز یا قرار داد کی حمایت کی،جس پر چین نے ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے پراپیگنڈے، بے بنیاد اور لغو الزامات پر دفاعی حکمت اختیار کر لی، چین کو خود سے کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی، اس لئے جماعت الدعوۃ کی قیادت زیر عتاب آئی، مسعوداظہر کا نام چین نے بھارت کی خواہش کے برعکس دہشتگردوں کی فہرست میں شامل نہیں ہونے دیا تو بھارت کو بھی مجبوراً انکا نام مجرموں کی لسٹ سے نکالنا پڑا جبکہ بھارت ممبئی حملوں کے حوالے سے حافظ محمد سعید کیخلاف کارروائی کے مطالبات کرتا رہاچونکہ سپریم کورٹ نے ان کو تحفظ دیا ہے اس لئے وہ آزاد شہری کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں، اس لئے ان سے ملاقات ممکن ہوسکی۔
آج کل میں ایسے واقعات مرتب کر رہا ہوں جو انسان کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئے۔ ایسے واقعات بھی موضوع کا حصہ ہیں جن میں انسان موت کے روبرو ہو کر واپس آ گیا۔ حافظ صاحب سے دوستی تو کجا واقفیت کا بھی دعویٰ نہیں، تاہم انکی میڈیا ٹیم سے علیک سلیک ضرور تھی حبیب اللہ سلفی صاحب کے توسط سے حافظ صاحب سے انکے گھر پر ملاقات ہوئی، یحییٰ مجاہد اور محمد ارشاد بھی موجود تھے، صبح میں مقررہ وقت پر حافظ صاحب کے دولت کدہ پر پہنچ گیا۔ حافظ صاحب شایداشراق پڑھ رہے تھے، اس کمرے میں شاید متقی و پرہیز گاروں کیلئے فرشی نشستوں کا اہتمام ہے ہم جیسے گنہگاروں کیلئے الگ کمرے میں کرسیاں اور صوفے رکھے تھے، حافظ صاحب نے اپنی زندگی کا وہ واقعہ بیان کیا جس نے انکی زندگی، سوچ اور مقصد حیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا، انہوں نے بتایا”یہ وہ دور تھا جب پاکستان پر کڑا وقت تھا۔ میں پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ 70ء کے الیکشن ہو چکے تھے، میں نے ان میں نے بھرپور حصہ لیا، بہت محنت کی۔ 71ء میں مشرقی پاکستان کے اندر بے پناہ قتل و غارت گری شروع ہو گئی۔ پاک فوج نے حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن انڈیا نے مقابلے میں اپنی فوج داخل کر دی۔ اگرتلہ سازش، مکتی باہنی کی تشکیل، اس میں کلکتہ اور بھارتیوں کی شرکت اور بنگالیوں کو پاک فوج کے مقابل لانا یہ نقشہ ہمہ وقت میرے سامنے رہتا ہے۔ بھارت کا مغربی طاقتوں نے بھی ساتھ دیاجس سے پاکستان کو دولخت کردیا گیا، بنگلہ دیش بنااور 93 ہزار فوجیوں کو جنگی قیدی بنایا گیا، ڈھاکہ فال میری زندگی کا ایسا واقعہ ہے جس نے میری زندگی پرگہرااثر ڈالا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد میں کئی دن تک کھانا نہ کھا سکا، کئی دن سو نہیں سکا، کسی پل چین اور قرار نہیں آیا۔اسی کیفیت میں مَیں نے سوچا، انڈیا نے جو کچھ پاکستان کیخلاف کیا اور آئندہ جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جب تک انڈیا کے ساتھ معاملے کو ختم نہ کیا جائے، اس کا انتقام لے کر اسکے مقام تک نہ پہنچایا جائے، اسکی قوت کو نہ توڑا جائے؛ نہ پاکستان بچ سکتا ہے نہ پاکستان کے اندر ہم اسلامی اقدار کو بچا سکتے ہیں۔ میں نے جب فیصلہ کر لیا کہ بھارت سے سقوط ڈھاکہ انتقام لینا ہے، وہ عزم جب دل میں پختہ اور سوچ واضح ہو گئی تو میں نے اپنے اندر اطمینان محسوس کیا“۔

حافظ صاحب نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان میں دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو پکڑا جا رہا ہے، بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اسکی نشاندہی پر پاکستان میں را کا نیٹ ورک بے نقاب ہوا۔ اب بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردی میں ملوث ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہ گیا، جب ہماری حکومت دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو پکڑ رہی ہے تو بطور وزیر اعظم انڈیا نریندر مودی تو پاکستان میں دہشتگردی کا منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ ہے۔ اسے ذمہ دار تو ہماری حکومت قرار دے، افسوس! ہمارے سیاستدانوں کو کشمیر کاز سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے، مغرب کے ایجنڈے پر کاربند ہیں، آنکھیں بند کر کے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مغرب کے ساتھ ضرور چلیں مگر اپنا نقطہ نظر بھی تو پیش کریں، حافظ سعید کی کشمیر کاز کیلئے فوج سے امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمیر ایک دفاعی معاملہ ہے اور دفاع افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے، پاک فوج کشمیر کاز کے ساتھ مخلص اور کمٹڈ ہے، قوم اسکے ساتھ ہے سیاسی پارٹیاں بھی اسی اخلاص کمٹمنٹ اور عزم و ارادے کے ساتھ سامنے آئیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کی منزل قریب آ سکتی ہے۔ حافظ صاحب نے نظریہ پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔”مجھے میچوں سے زیادہ دلچسپی نہیں مگر جب انڈیا ویسٹ انڈیز سے ہارتا ہے تو پاکستان میں خوشی کا اظہار ہوتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں پاکستان سے بھی زیادہ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ سرینگر سے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی تک پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے گونجنے لگتے ہیں: یہ ہے نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب سمیت انکی جماعت کو کسی ملک سے بھی فنڈنگ نہیں ہوتی۔ اپنے ملک ہی سے لوگ اتنے وسائل اپنی مرضی سے فراہم کر دیتے ہیں کہ ہمیں فنڈ کیلئے اپیل کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ میں نے کبھی نہیں کہا‘ پنجابی کو قومی زبان قرار دیا جائے‘ البتہ انگریزی کی جگہ عربی کو دی جائے تو بہتر ہے۔حافظ صاحب نے آخر میں بتایا کہ ان پر حملے کیلئے بھارت نے دوجہاز بھیجے تھے جن کا رُخ مرید کی طرف تھا اس دن میں وہیں تھا۔امریکہ بھی مجھ پر ڈرون حملہ کرنا چاہتا تھااس بھنک پاک فوج کو پاری تو اسے باز رکھا گیا،ان دونوں واقعات کیااطلاع مجھے میڈیا کے ذریعے ہوئی۔
٭٭٭
محمد اسامہ بن مجید اینکر وقت نیوز 

 

بچپن میں چھ ماہ بعد یا ہر سال گرما کی چھٹیوں میں گاؤں جایا کرتے تھے، ماموں کے گھر کے آگے اینٹوں کے سولنگ سے گزر کر سامنے ہی نہر واقع تھی جو غالباً آج بھی گزرتی ہے، ان دنوں گاؤں میں قیام کے دوران کی مصروفیات میں سے ایک نہر میں نہانا بھی ہوا کرتا تھا، نہری گہرائی ہرگز 4 فٹ سے زائد نہ تھی۔ اکثر وقت نہر میں یا پھر نہر کنارے گزرتا۔ کبھی نہر میں نہاتے ہوئے تو کبھی نہر کنارے کماد کے موسم میں باقی کزنز کے ہمراہ گنا چھیل کر بلکہ خود چھیل کر کھانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے۔ مختصراً…… میں بچپن سے لیکر 15 سال کی عمر تک جب گاؤں جاتا اس نہر میں نہا کر بچپن کا تیراکی کا شوق پورا کرتا اور کچھ خاندانی ناخوشگواریوں پر بعدازاں گاؤں آنا جانا ختم ہو گیا اور یوں میرا یہ شوق بھی ختم ہو گیا۔
تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ لاہور میں جاری رہا۔ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو کرکٹ کے علاوہ ایک بار پھر سے تیراکی کا سوچا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایک بہت معقول سوئمنگ پول بھی اسی مقصد کیلئے ہر وقت دستیاب تھا۔ دوستوں کے ساتھ ”مستقل بنیاد پر تیراکی کا منصوبہ بالآخر تکمیل پایا۔ میں غلط فہمی میں تھا کہ میں تیراکی جانتا ہوں، کیونکہ میں گاؤں میں 4 فٹ کی نہر میں ہاتھ پاؤں مار لیا کرتا تھا۔ جبکہ 4 فٹی نہر میں ہاتھ پاؤں مارنا اور 19 فٹ گہرے سوئمنگ پول میں باقاعدہ تیراکی کرنا یکسر مختلف تھا۔
خیر مختصراً سوئمنگ پول جانے کے پلان کو عملی شکل ملی اور پہلا دن تھا کہ پہلے ہی دن 12 فٹ گہرائی والے مقام سے پانی سے بھرے شفاف سوئمنگ پول میں کود گیا۔ گہرائی سے سطح پر آنے کی ناکام کوششوں کا آغاز ہوا، مگر بے سود……میں بھرپور توانائی سے کوشش اور بارہا یہی کوشش کرتے ہوئے سطح پر آنا چاہتا مگر ناکام رہتا، میرا دوست جنید بٹ جو کہ تن ساز اور تیراکی بھی جانتا تھا اس نے مجھے مشکل میں پایا تو لہروں کو چیرتا ہوا، میرے پاس آن پہنچا۔ بدقسمتی سے جنید بٹ تیراکی تو جانتا تھا مگر ریسکیو کرنا نہیں جانتا تھا، اس لئے وہ مجھے ریسکیو کرنے میں ناکام رہا۔
پول کے ایک کنارے بیٹھے لائف گارڈ کو میری بے بسی نے متوجہ کیا کچھ غوطے لینے اور پلک جھپکتے ہی میں نے اس گارڈ کو اپنے پاس پایا اور دو چار مزید غوطے کھانے کے بعد بالآخر میں پول سے باہر لایا گیا۔ کچھ وقت آنکھیں بند رہیں اور یوں لگا کہ میں تو شاید فانی جہان سے کوچ کر گیا ہوں مگر کچھ منٹوں کے گزرنے کے بعد ساتھی تیراکوں نے میرے وجود اور سانس چلنے کا احساس دلایا۔
یوں مجھے لگتا ہے کہ میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا گو کہ اس کے بعد اس واقعے کے ذریعے اکثر اوقات تیراکی کے نام پر میرا خوب مذاق بھی بنتا مگر اس کے بعد میں نے خود کو ایک تیراک ضرور ثابت کیا اور پنجاب یونیورسٹی میں اچھا تیراک بھی گردانا جاتا تھا۔
٭٭٭

متعلقہ خبریں