وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ خطاب کا اردو خلاصہ

2019 ,ستمبر 27



‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

 

لاہور (مانیٹرنگ رپورٹ) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے تاریخی خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ میں آج چار اہم امور پر بات کروں گا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ماحولیات سے نمٹنے کیلئے بہت سے لیڈرسنجیدگی نہیں دکھا رہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سےمتاثر 10 ممالک میں شامل ہے، پاکستان میں 80فیصد پانی  گلیشیئرز سے آتا ہے۔ موسمیات تبدیلی  سے متعلق بہت سے ممالک کے سربراہان نے بات کی صر ف ایک ملک کچھ نہیں کرسکتا، سب ملکوں کی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ امید کرتا ہوں اقوام متحدہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں قدم اٹھائے گا ‏وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرے لیے دوسرا ایشو اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے، ہر سال اربوں ڈالر ترقی پذیر ممالک سے منی لانڈرنگ  ہوتی  ہے، ترقی پذیر ممالک کے سربراہ اربوں ڈالر بیرون ملک بھجواتے ہیں سیاسی منی لانڈرنگ کو دہشت گردی اور منشیات کیلئے منی لانڈرنگ جتنا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔
انکا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے بعض سربراہان اسلامی دہشتگردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ 
"حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کی زندگی قرآن پاک کے مطابق گزری"
 مغرب میں مخصوص طبقات جان بوجھ کر اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں مسلمان قیادت مغرب کو اسلام اور رسول پاک صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کے بارے میں اپنا موقف بتانے میں ناکام رہی ہے، اسلام میں کہا گیا کہ تمام افراد برابر ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہاں کہ اسلام خواتین کی آزادی کے خلاف ہے، ریاست مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی۔ 
"حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے کہا کہ سب سے اچھا کام غلام کو آزاد کرنا ہے" 
تامل ٹائیگرز  ہندو تھے، لیکن کسی نے ہندو ازم کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا اسلاموفوبیا کی وجہ سے بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنا دیا گیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کا کسی بھی مذہب کیساتھ کوئی تعلق نہیں، اسلام، مسیحیت، یہودیت یا کوئی بھی مذہب بنیاد پرستی کی تعلیم نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کے ریاست میں مسلم خلیفہ یہودی شہری کے خلاف مقدمہ ہار گیا اس سے ثابت ہوا کہ ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل تھے۔

"حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں"

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دل کا درد جسم کے درد سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شرکت کی ہم نےدہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم  کردار اداکیا 2001ء کے بعد پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی، ان کا کہنا تھا کہ میں نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے شامل ہونےکی مخالفت کی تھی 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شہید ہوئے، سویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ سب چھوڑ چھاڑ کر چلا گیا، 80 کی دہائی میں افغانستان میں لڑنے کیلئے مجاہدین تیار کیے گئے جس کیلئے امریکہ اور مغرب نے فنڈ دیئے، نائن الیون کے بعد ہمیں بتایا گیا افغانستان میں جہاد نہیں دہشتگردی ہے، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس لیے امریکہ کی جنگ میں شمولیت کا مخالف تھا نائن الیون کے بعد پاکستان نے پھر امریکہ کا ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے بھارت میں بھی بہت سے دوست ہیں اقتدار میں آتے ہی بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا بھارتی وزیراعظم کو کہا غربت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑیں تاہم مودی نے کہا پاکستان سے دہشت گرد حملے ہوتے ہیں، جس پر وزیراعظم عمران خان  نے اقوام متحدہ میں کلبھوشن یادیو کا ذکر کردیا، بھارتی وزیراعظم کو بتایا کہ بھارت سے بلوچستان میں دہشت گردی ہوتی ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے بم گرائے، ہم نے ان کے دو طیارے مار گرائے ہم نے فوری طور پر ان کا پائلٹ واپس کیا کیونکہ ہم امن چاہتے تھے،بھارت میں واویلا کیا گیا کہ پاکستان میں 50 دہشت گرد مارے گئے لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ انہوں نے صرف 10 درخت تباہ کیے تھے مودی نے انتخابی مہم میں کہا ٹریلر دکھایا ہے پاکستان کو فلم دکھائیں گے۔
ہم نے سوچا انتخابات کا ماحول ہے بعد میں صحیح ہو جائیں گے مگر بھارتی الیکشن کے بعد دیکھا کہ ہمیں ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر ہمیں علم ہوگیا کہ بھارت مخصوص ایجنڈے پر چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو ایجنڈا سامنے آگیا بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، اقوام عالم کو بتانا چاہتا ہوں آر ایس ایس کیا ہے۔ نریندر مودی انتہا پسند ہندو  تنظیم کا تاحیات ممبر ہے، آر ایس ایس ہٹلر اور نازی ازم سے متاثر تنظیم ہے۔
آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی پر یقین رکھتی ہے آر ایس ایس مسلمانوں اور مسیحیوں سے نفرت کرتے ہیں، آر ایس ایس ہندوستان سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا صفایا چاہتی ہے۔ آر ایس ایس کی انتہا پسند سوچ نے مہاتما گاندھی کو قتل کرایا اس سوچ کے تحت 2002 میں بھارتی گجرات میں مسلمانوں کا نریندر مودی نے  قتل عام کرایا۔ 
وزیراعظم نے بھارت کی انتہاء پسندی بتاتے  ہوئے کہا کہ برطانیہ میں 80لاکھ جانور بھی بند ہوتے تو شور مچ جاتا لیکن کشمیر میں 80 لاکھ انسان بند ہیں، کیا مودی نے سوچا ہے جب کرفیو ہٹے گا تو کشمیر میں کیا ہو گا؟  مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹتے ہی خون بہنے کا خدشہ ہے۔ کرفیو ہٹتے ہی کشمیری سڑکوں پر آئیں گے اور بھارتی فوج ان پر گولیاں برسائے گی، مظالم سے کشمیری شدت پسندی کی طرف جائیں گے، ایک اور پلوامہ ہوسکتا ہے؟ بھارتی فوج جتناظلم کرے گی کشمیریوں میں بھارت مخالف جذبات اتنے ہی بڑھیں گے،  مقبوضہ کشمیریوں میں لوگوں کو گھروں میں بند کرکے کیا حاصل کیا جائے گا؟ نریندر مودی کرفیو کے خاتمے پر مقبوضہ کشمیر میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی منڈی ہے، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حقوق نہیں دیئے جا رہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ افراد اپنی جان دے چکے ہیں، افسوس ہے کاروبار کو انسانیت پر فوقیت دی جا رہی ہے، ماضی میں لاکھوں کشمیری آزادی کی تحریک میں جان دے چکے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ 500دہشت گرد کنٹرول لائن پر ہیں۔ اسلامی دہشت گردی کا الزام آتے ہی دنیا انسانی حقوق بھول جاتی ہے۔ بھارت پاکستان پر اسلامی دہشت گردی کا الزام لگانا چاہتا ہے، بھارتی فوج نےگزشتہ6سال میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں پرپیلٹ گن کا استعمال کیا، کرفیو ختم ہوتے ہی پاکستان پر الزام لگایا جائے گا۔ بھارتی مسلمان شدت پسند بنتے ہیں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، الزام ہم پر آئے گا۔ دنیا بھر کے مسلمان دیکھ رہے ہیں کشمیریوں پر صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ارب 30 کروڑ مسلمان دنیا بھر میں کشمیریوں پر مظالم دیکھ رہے ہیں بھارتی حکومت نے 13ہزار کشمیری نوجوانوں کو مختلف جیلوں میں قید کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 8لاکھ یہودی اس طرح محصور ہوں تو کیا ہوگا؟ کیا مسلمان باقی مذاہب کے افراد سے کمتر ہیں؟ کیا بھارت میں رہنے والے مسلمان 55روز سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نہیں دیکھ رہے؟
وزیراعظم عمران خان نے کہا انسانوں پر ظلم ہو، حقوق نہ دئیے جائیں تو وہ انتہا پسند بنتے ہیں۔ میری خواتین سے زیادتی ہوتی تو کیا میں چپ بیٹھتا۔ کیا میں ذلت کی زندگی گزارتا، میں بھی بندوق اٹھا لیتا اگر کشمیر میں خون بہے گا تو مسلمان شدت پسندی کی طرف جاسکتے ہیں، اقوام متحدہ کو اپنے ذمہ داری ادا کرنی پڑے گی۔ 1945میں اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد ایسی صورتحال کو روکنا تھا، اندیشہ ہے کہ ہم جنوبی ایشیا میں 1939 کے میونخ والے دور میں جارہے ہیں اگر پاک بھارت میں روایتی جنگ شروع ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر ایک چھوٹا ملک لڑتا ہے تو اس کے سامنے دو راستے ہیں، ہتھیار ڈالیں یا آخری سانس تک لڑیں اگر عالمی برادری نے مداخلت نہیں کی تو دو جوہری ملک آمنے سامنے ہوں گے اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ اُن کو حق خود ارادیت دیا جائے گا جب آخری سانس تک لڑیں گے تو نتائج کہیں زیادہ بھیانک ہوسکتے ہیں، ہم لا الہ الا اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں