عالیہ رشید کی بطور ڈی جی نیب تعیناتی : سپریم کورٹ نے حکومت کے اگلے پچھلوں کو دھو ڈالا

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع مارچ 28, 2017 | 17:37 شام

لاہور (ویب ڈیسک)  کل سپریم کورٹ میں   نیب میں غیر قانونی بھرتیوں کے حوالے سے کیس کی سماعت  کے دوران  سپریم کورٹ  نے قرار دیا کہ۔۔۔۔ہم نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کی گئی غیر قانونی بھرتیوں کو فارغ کردیا تھا، وزیراعظم پبلک سرونٹ ہوتا ہے، سپورٹس وومین کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے لیکن اسے نیب میں بھرتی کرنا غلط ہے، وزیر اعظم اور صدر کو قانون کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا ہوتا ہے ، ہم عدالت ہیں کوئی کوئی حکومت نہیں

ہیں اورنیب کو خو د نہیں چلانا چاہتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نے قانون کی کس شق کے تحت یہ احکامات جاری کئے تھے؟ جسٹس امیر ہانی نے کہاکہ کیا وزیر اعظم کا حکم قانون سے بڑھ کر ہے؟ وزیر اعظم بھی ایک پبلک سرونٹ ہوتا ہے ،اسے بھی خلاف قانون تقرریاں کرنے کا اختیار نہیں ہے ،پاکستان کے آئین کے مطابق وزیر اعظم کو حاصل اختیارات ان پر قوم کا اعتماد ہے جبکہ برٹش قانون کے مطابق ایسا کوئی بھی حکم وزیر اعظم کا استحقاق ہوتا ہے ، وزیر اعظم قوم کا ٹرسٹی ہوتا ہے ،اگر کسی کی مہارت کھیل کے شعبہ میں ہے تو کیا اسے اٹھا کہ ڈی جی  نیب یا چیئرمین نیب لگا دیا جائے گا ؟ انہوں نے کہا کہ عالیہ رشید کے لئے نیب میں ایک سپورٹس سیل بنا کر انہیں وہاں پر تعینات کر نے کا آپشن بھی موجود ہے ،لیکن وہ کسی صورت بھی بطور فیلڈ سٹاف کام نہیں کرسکتیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ کیا اختیارات کے ناجائز استعمال پر سابق وزیر اعظم کے خلاف نیب آردیننس کی دفعہ 9کے تحت مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے ، جس پرجسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اس دفعہ کا دائرہ کار بہت وسیع ہے ،فاضل عدالت نے ایک اور متاثرہ افسر میجر ریٹائرڈ شبیر کی درخواست کی سماعت کی تو جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ آرمی سے کوئی افسر نیب میں ڈیپوٹیشن پر تو آسکتا ہے لیکن اس کا تبادلہ نہیں کیا جا سکتا ہے ،اگر آپ کیرئیر افسر ہوتے تو کیا پاک فوج آپ کو نیب میں آنے دیتی ؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پاکستان با کونسل اس بات کومانے گی کہ بندے کو پہلے جج لگا دیا جائے اور بعد میں میں وہ ایل ایل بی کرتا رہے ؟جس پر درخواست گزار نے عدالتی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کی تو جسٹس امیر ہانی مسلم نے انہیں جھاڑ دیا اور سیٹ پر بیٹھنے کو کہا ، انکے وکیل نے کہاکہ ا ن کے موکل نے سروس کے دوران ڈبل ایم اے کیا ہے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انکے پاس اس کے لئے وقت کیسے نکلا ہے ؟جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ نیب کے پاس اپنے کام کرنے کے علاوہ وقت ہی وقت ہے ! بعد ازاں فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی ۔