عابدہ حسین کی کتاب ”اور بجلی کٹ گئی“

2020 ,اپریل 12



سیّدہ عابدہ حسین بظاہر اکھڑ مزاج اور نک چڑھی دکھتی ہیں لیکن ان کی کتاب ”اور بجلی کٹ گئی، ، پڑھتے ہوئے نہ صرف وہ ایک دلچسپ اور مرجان مرنج شخصیت لگتیں ہیں بلکہ ہنسے ہنسانے والی سیاستدان بھی، جو زندگی کے تمام رنگوں سے لطف اندوز ہوتیں ہیں۔ سیاسی، سماجی اور ذاتی زندگی کے نشیب وفراز کو انہوں نے بڑے دلنشیں انداز میں اس کتاب میں بیان کیا۔ اپنی شخصیت اور خاندان کو پاکستان کے وسیع تناظر میں رکھ کر قومی اور ملکی امور پراظہار خیال کیا۔ یاد رہے کہ یہ تاریخ یا سیاسیات پر لکھی گئی کوئی درسی کتاب نہیں بلکہ ایک خاتون سیاستدان کے سیاسی سفر کی کہانی ہے، جس کا ماخذ ذاتی تجربات اور مشاہدات کے سوا کچھ نہیں۔
2007 الیکشن کے دوران عابدہ حسین کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ یہ طالب علم ان دنوں جنوبی ایشیا میں ٹائم میگزین کی بیورچیف ائرن بیکر نامی ایک امریکی صحافی کے ساتھ وابستہ تھا۔ وہ نہایت محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتیں حتیٰ کہ چھوٹی سے چھوٹی معلومات کے حصول کے لیے پتہ پانی کردیتیں۔ ایک دن انہوں نے عابدہ حسین کے حلقہ میں الیکشن مہم دیکھنے کی ٹھان لی۔ دل خوف سے لرز گیا۔ کئی برسوں سے جھنگ فرقہ ورانہ فسادات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ عابدہ حسین کے دشمنوں کی تعداد کا کوئی شمار ہی نہیں۔ سپاہ صحابہ تو ان کا ہر وقت تعاقب کرتی ہے۔ یہ صرف میں ہی جانتا تھا کہ ہم خطرات سے کھیل رہے ہیں۔
عابدہ بی بی نے بتایا کہ ہم موٹروے سے سفر کریں۔ شاہ مخدوم انٹرچینج سے لالیاں کی جانب رخ کریں، جہاں شام چار بجے ان کا ایک چھوٹا سا جلسہ ہو رہا تھا۔ صبح صادق اسلام آباد سے لالیاں کا رخت سفر باندھا تو اندیشوں نے دل و دماغ کو گھیرلیا۔ موٹر وے سے سفر فرحت بخش تھا لیکن مخدوم انٹر چینج سے لالیاں کا رخ کیا تو سڑک کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ یک رو یہ سڑک پر کھیتوں کے بیچ سفر کرتے ہوئے کئی ایک جگہ سستانے کے لیے رکے۔ گنے کے بیوپاریوں کے ساتھ ہلکی پھلکی باتیں کرتا۔ ائرن ہر بات میں گہری دلچسپی لیتی اور اکثر پوچھتی کہ کسان کسے ووٹ دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک پرذرا سی ہوا چلتی تو گردوغبار سے چہرہ اٹ جاتا۔ سڑک کنارے جس ڈھابے پر بھی کھڑے ہوتے، لوگ محبت سے پیش آتے۔ مہمان نواز مگر مرجھائے ہوئے چہرے دیکھ کر احساس ہوتا کہ پنجاب کے شہر خوشحال ہیں لیکن دیہات والوں کے دن ابھی پھرے نہیں۔
سرشام عابدہ بی بی کے جلسے میں پہنچ گئے۔ اسٹیج سجا تھا۔ ایک صاحب سریلی آواز میں پنجابی کے سیاسی گیت گاکر سامعین کے دلوں کو گرما رہے تھے۔ عابدہ حسین سیاہ کالے جوڑے او ر گول فریم والے دھوپ کے چشمے میں چہک رہیں تھیں۔ انہوں نے اسٹیج پر آنے کا اشارہ کیا لیکن ائرن نے شائستگی سے معذرت کردی کہ ایسا کرناصحافتی آداب کے برعکس ہوگا۔ رات گئے تک عابدہ بی بی کے جلسے اور جلوسوں میں شریک رہے۔ مقررین کے جوش خطابت کا جو شاندار مظاہرہ شاہ جیونہ اور لالیاں میں دیکھنے کو ملا اس نے میرے دل ودماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ جوہرخطابت میں ہر مقرر دوسرے سے بازی لے جاتا۔ بسا اوقات گمان گذرتا کہ ان لوگوں نے کسی مکتب سے اس فن کے اسرارورموز سیکھے ہیں۔ تاریخ اسلام کے حوالے، برجستہ شعر اور جگت بازی نے جلسے کو میلے کا رنگ دے ڈالا۔ پتہ چلا کہ جھنگ میں معرکہ حق و باطل کی بحث ہر جلسے میں ہوتی ہے۔ حضرت فاطمہ? اور کربلا کے ذکر کے بغیر بات ادھوری رہ جاتی۔ کالے کپڑوں اور بڑے سی چار میں عابدہ بی بی کچھ زیادہ ہی جسیم دکھتی۔ ان کے آنکھوں کے گرد پڑے سیاہ حلقے بہت نمایاں تھے۔ وہ کچھ تھکی تھکی بھی نظر آئیں۔ کئی دن سے شاہ جیونہ کی مٹی پھانک رہی تھیں۔ شکست کا خوف بھی ان کا مسلسل تعاقب کررہا تھا۔ ان کا کزن فیصل صالح حیات نہ صرف تگڑا امیدوار تھا بلکہ عابدہ حسین کے برعکس بے دریغ مال بھی خرچتا تھا۔

شام گئے عابدہ حسین کی حویلی جسے ”شاہ جیونہ ہاؤس، ، کہا جاتا ہے، پہنچے۔ قدیم طرز کی بنی ہوئی اس حویلی میں غضب کی سردی تھی۔ وسیع وعریض ڈائنگ روم میں ٹانکی ہوئی خاندان کے بزرگوں کی تصاویر دیکھنے میں محو تھا کہ پیغام ملا کہ انگیھٹی جل رہی ہے اور ٹی وی پر خبریں بھی رواں ہیں، آپ بھی اسی کمرے میں آجائیں۔ الیکشن اور سیاست سے بات چلتے چلتے جھنگ اور اس خطے میں پائی جانے والی خطرناک فرقہ واریت کی طرف چل نکلی۔ عابدہ حسین نے تفصیل سے مقامی سیاست کی حرکیات بیان کیں۔ وہ بے تکلفی سے باتیں کرتیں اور بسا اوقات اپنے آپ پر بھی طنز کرنے سے نہ کتراتیں۔ اپنی غلطیوں اور کوتائیوں کا اعتراف کرتیں اور امید کے چراغ جلاتی کہ اس مرتبہ کامیابی ان کا مقدر ہوگی۔ انہیں امید تھی کہ ان کی راہنما اور دوست محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی لاج رکھتے ہوئے شہری انہیں ووٹ دیں گے۔ وہ جلسوں میں بی بی شہید کو یاد کرتیں اور ان کا ذکرشہدا کربلا کے پس منظر میں کرتیں تو ہر آنکھ اشکبار ہوجاتی۔عابدہ حسین کی کتاب پڑھتے ہوئے یہ واقعات حافظے کی سکرین پر ایسے نمودار ہوئے کہ میں ایک بار پھر شاہ جیونہ ہاؤس پہنچ گیا جہاں صبح سویرے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے عابد ہ حسین سے سفارشی خط لکھواتے ہیں اور ٹیلی فون کراتے ہیں۔ ان کے سامنے ڈرے اور سہمے بیٹھے رہتے ہیں۔

عابدہ بی بی مغربی مصنفین کی طرز پر کتاب میں منظرنگاری اور جزئیات کے بیان سے قاری کو اپنا ہمسفر بنالیتی ہیں۔ دلکش منظر کشی کرتی ہیں اور واقعات کو اس طرح بیان کرتی ہیں کہ قاری ان میں کھو جاتا ہے۔ خاص کر مشہد میں اپنے والد مرحوم کے ساتھ گزرا وقت، ان کے آخری لمحات اور محترمہ بے نظیر کے ساتھ آخر چند ہفتوں کی روائیداد بہت ہی متاثر کن انداز میں پیش کی گئی۔ بے نظیر والے باب میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی بی شہید ایک بدلی ہوئی سیاستدان تھیں جن کی زندگی کا مقصد صرف پاکستان کی تقدیر بدلنا تھا۔ کاش تقدیر نے انہیں موقع دیا ہوتا؟
عابدہ حسین کی سیاسی زندگی کچھ پہلوؤں سے بہت ممتاز ہیں۔ وہ چھوٹے صوبوں کے لوگوں اورسیاستدان کے ساتھ پر خلوس تعلق استوار کرنے اور انہیں تکریم سے نوازنے کی کوشش کرتی ہیں۔ غالباًیہ جذبہ انہیں اپنے محروم والد کرنل عابد حسین سے ورثہ میں منتقل ہوا جن کا شمار پاکستان کے اولین پارلیمنٹرینز میں ہوتاہے۔ پاکستان جن کی پہلی اور آخری محبت تھا۔ نواب اکبر بگٹی، جناب عبدالولی خان اور نسیم ولی خان اکثر لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر قیام کرتے۔ لاہوری اشرافیہ کو ان کی یہ فراخدلی پسند نہ آتی۔ ایک مرتبہ گورنر پنجاب غلام جیلانی نے ان سے کہا:میں نے سرحد، سندھ اور بلوچستان میں نوکری کی ہے۔ وہ لوگ کچھ نہیں۔ پنجاب پاکستان ہے۔
واشنگٹن میں سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل ان کا یادگار ٹاکرا امریکہ کے انڈرسیکرٹری بر ائے سیاسی امور بارتھولومیو سے ایوان صدر اسلام آباد میں ہوا۔ افغان جہاد کے خاتمے کے بعد امریکی ہر حال میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام منجمد کرانا چاہتے تھے۔ بارتھولومیو اسی غرض سے صدر غلام اسحاق خان سے مذاکرات کرنے ایوان صدر اسلام آباد میں وارد ہوا۔ غلام اسحاق ایٹمی پروگرام کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ کائیاں اور تیز دماغ۔ گفتگو رفتہ رفتہ تلخ ہوتی گئی کیونکہ صدر اسحاق خان بارتھو کی باتوں میں آ نہیں رہے تھے۔ چنانچہ اس نے غصہ سے غلام اسحاق خان کی دی ہوئی فائل میز پر دے ماری۔ غصے کے عالم میں اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کمرہ ملاقات سے نکل جائیں۔ یہ ایسی گستاخی تھی جس کی سفارت کاروں سے امید نہیں رکھی جاتی۔

سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالنے واشنگٹن پہنچیں تو ماحول سخت ناسازگار تھا۔ الزام تھا کہ پاکستان اسامہ بن لادن کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ کشمیری جنگجوؤں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا ہے اور ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔ چنانچہ معاملہ اب محض اقتصادی پابندیاں عائد کرنے تک محدود نہیں تھا بلکہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قراردینے کی تجویز شدومد سے دہرائی جارہی تھی۔ عابدہ لکھتی ہیں کہ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ حکومت پاکستان سے امریکی اہلکار نہ صرف یک آواز ہوکر بات کرتے ہیں بلکہ وہ ہماری جانب سے ہونے والی تمام بات چیت کی زبان اور اجزاء کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ بھی رکھتے۔ وہ کوئی سرا ڈھیلا چھوڑے بغیراپنی حکومت کو چابک دستی اور مہارت سے چلاتے تھے۔ امریکی حکام کو صدر پاکستان کے ساتھ بارتھولومیو کے اکھڑے لہجے کی پوری خبر تھی۔

اسی زمانے میں جنرل آصف نواز نے بھی امریکہ کا دورہ کیا۔ دورے امریکہ کی تفصیلات کو عابدہ حسین نے دلچسپ انداز میں قلم بند کیا۔ لکھتی ہیں کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں جنرل صاحب کی بھی عام لوگوں کی طرح سیکورٹی کلیئرنس کے لیے تلاشی لی گئی تو وہ بہت خفا ہوئے۔ پینٹاگون میں جنرل آصف کی وزیر دفاع ڈک چینی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی روائیداد آنکھیں کھول دینے والی ہے۔ جہاں ڈک چینی سے آصف نواز نے تخلیے میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ میں نہ چاہتے ہوئے کمرہ ملاقات سے باہر چلی گئی۔ بعد میں آصف نوازسے کہا کہ ڈک چینی نے آپ کو پیشکش کی ہوگی کہ کہ جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرلیں تو امریکی حکومت مارشل لاء کے نفاذ پر برا نہیں مانے گی۔ آصف نواز اس رائے پر چونک گئے۔

ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی آدھی قیمت لینے کے باوجود امریکیوں نے پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ طیارہ ساز کمپنی نہیں چاہتی تھی کہ یہ معاہدہ منسوخ ہو۔ چنانچہ عابدہ حسین کو طیارے دیکھنے اور ان کے متعلقہ امور پر گفتگو کے لیے فیکٹری کے صدر دفتر مدعو کیا گیا۔ عابدہ لکھتی ہیں کہ بہانے سے میرے ساتھی کو باہر بھیجا گیا اور مجھے پیشکش کی گئی کہ اگر میں وزیراعظم نوازشریف سے طیاروں کی رقم کی واپسی اور معاہدے کی منسوخی پر نظرثانی کرانے میں کامیاب ہوجاؤں تو واشنگٹن میں انہیں ایک گھر بطور تحفہ پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ ہاورڈ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ان کی صاحبزادیوں کی تعلیم کا خرچ نکل آئے۔

عابدہ نے متعدد مقامات پر نشان دہی کی ہے کہ امریکہ کے طالب علم بالخصوص باورڈ جیسے تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طلبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے اور وہ پالیسی ساز اداروں اور شخصیات کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ان کی صاحبزادیوں نے بھی امریکہ میں سفارت کاری کے دوران ان کی بے پناہ مدد کی کیونکہ وہ امریکہ کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم تھیں۔ کتاب میں عابدہ بی بی کے والدکرنل عابد حسین کی ولولے انگیز زندگی، ان کی والدہ محترمہ، صاحبزادیوں اور فرزند عابد حسین امام کا ذکر کثرت سے ملتاہے۔ بلکہ وہ اس کہانی کے مرکزی کردار ہیں۔ بسا اوقات وہ اپنے قریبی ساتھیوں، رشتہ داروں اور سیاسی مخالفین کی خوب بھد اڑاتی ہیں۔ ایسے واقعات پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عابدہ کے اندر آج بھی ایک شرارتی ذہن سرگرم ہے جو انہیں جگت بازی اور ٹھٹھے اڑانے سے باز نہیں آنے دیتا۔

عابدہ حسین کی سیاسی زندگی میں کوئی فکری ٹھہراؤ نظر نہیں۔ وہ کسی سیاستدان یا سیاسی جماعت کی مخالف مطلق نہیں۔ ہر ایک کے ساتھ عزت اور احترام کا رشتہ نبھانا چاہتی ہیں۔ نوازشریف اور بے نظیر بھٹو سے محبت اور تعلق کا اظہار کرتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاندان کی مالی بے ضابطگیوں پر خوب روتی دھوتی ہیں۔ دبئی میں ہونے والی ایک ملاقات میں انہوں نے بے نظیر سے استفسار کیا کہ ان کے والد ذولفقار علی بھٹو پر ان کے بدترین دشمن بھی مالی بدعنوانیوں کا الزام نہیں لگاتے۔ انہوں نے اپنا دامن کیوں نہ بچایا؟ بے نظیر نے حیرت انگیز طور پر دیانت دارانہ جواب دیا: ذوالفقارعلی بھٹو جیل میں تھے تو نصرت بھٹو نے ہر اس شخص کو پیسہ دیا جو ہماری مدد کا دعوی کرتا تھا۔ بیرون ملک جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تو شیخ زید بن النہیان سے مدد مانگنا پڑی کیونکہ اپنی تجوری میں کچھ نہ بچا تھا۔ چنانچہ اس تجربے کے بعدبے نظیر بھٹو نے آصف علی زرداری کو مال بنانے کی کھلی چھوٹ دے دی۔

پاکستان میں اقتدار کا سرکس کس طرح گردش کرتا ہے اور اس کا تانابانا بنانے میں فوجی اور سول بیورکریسی کا گٹھ جوڑ بھی سیاست کے طالب علموں کی دلچسپی کا باعث ہے۔ خاص طور پر بے نظیر کی دوسری حکومت کے خاتمہ میں کس طرح سیاستدانوں کا استعمال کیا گیا۔ فاروق لغاری بے نظیر بھٹو کے خلاف کیوں استعمال ہوئے اور کس طرح انہوں نے اپنے ہی وزیراعظم کو ایوان اقتدار سے نکال دیا۔ فوج اور نوازشریف کیوں نہ ساتھ چل سکے۔ ایسے بہت سارے سوالا ت کے جوابات کتاب میں ملتے ہیں۔

کتاب کے مطالعے سے یہ احساس ہوتاہے کہ حلقہ نیابت کی سیاست بڑے بڑے جغادریوں کو جھکڑ لیتی ہے۔ عابدہ حسین کا معاملہ بھی کچھ کچھ مختلف نہیں۔ فیصل صالح حیات ان کے سیاسی اور سماجی حریف ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کا پتہ کاٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وہ سیاسی جماعتیں بھی محض ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی غرض سے بدلتے رہے۔ شاہ جیونہ اور جھنگ کی سیاست ہی عابدہ کی زندگی کا محور ومرکز رہی، حالانکہ وہ قومی سطح پر بڑا کردار بھی ادا کرسکتیں تھیں لیکن حلقے انتخاب نے انہیں باہر نکلنے کی مہلت نہ دی کہ وہ ملک گیر ایشوز پر وقت صرف کرتیں یا کسی ایک جماعت کے ساتھ ٹک کر رہتیں۔ ان کی صاحبزادیوں اور فرزند عابد حسین امام کے لیے بھی جھنگ کی سیاست اور گدی بہت اہمیت کی حامل ہے۔
کتاب لگ بھگ پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ شروع کے چند باب تھکا دینے والے ہیں لیکن رفتہ رفتہ عابدہ بی بی بطور لکھاری کے نکھر کر سامنے آتی ہیں اور قاری کو اپنے ہم رکاب کرلینے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ اگر کوئی اچھا ایڈیٹر اس کتاب کو دیکھ لیتا تو یقیناً اس کی ضخامت کچھ کم ہوسکتی تھی۔

(تحریر ارشاد محمود،بشکریہ ہم سب)
 

متعلقہ خبریں