صدیق کے لیے خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بس

2020 ,فروری 10



اس نے سوال پوچھا کہ کیا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کا حق غصب نہیں کیا تھا؟

وہ میرے ایک عزیز کا کلاس فیلو ہے آج وہ میرے اسی عزیز کے ساتھ مجھ پر کچھ تاریخی قسم کے سوال کرنے آیا تھا وہ اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس کے پاس دینِ اسلام کی کافی معلومات بھی تھیں اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے میں نے اس سے جب ملاقات کی تواس کی ہر ہرادا سے گویا علماء سے حتّٰی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے بھی نفرت وحقارت کی جھلک واضح تھی میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑےاخلاق سےانہیں بٹھایا تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کےبعد گفتگو شروع ہوگئی اس طالب علم کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضور نبی ؐکریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟ ہم تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اس لیےنہیں مانتےکہ انہوں نے سیدہ کائنات خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کوان کاحق نہیں دیا تھا بلکہ ان کاحق غصب کرلیا تھا میں نے اس نوجوان۔سٹوڈنٹ سے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟
کہنے لگا وہ حق باغِ فدک تھا جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے وراثت میں چھوڑا تھا وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کوملنا تھا لیکن وہ باغ انہیں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں دیا تھا یہ صرف میرا دعوی ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے پر ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلیے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے اور وہ حکومتی مصارف کیلیے وقف ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو ان کاحق نہیں ملا ہے اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم تسلیم کرلیں؟ میں نے اس نوجوان سٹوڈنٹ کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی اور اس کا اعتراض سن کر میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی آپ کا سوال مکمل ہوگیا یا کچھ باقی ہے؟ وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہوگیا ہے اب آپ مجھے اپنے دلائل سے میرے سوالوں کے جواب دیں میں نےعرض کیا کہ آپ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو ؟ وہ کہنےلگا ہم حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں میں نےکہا کہ عوام و خواص کےجان ومال اور ان کےحقوق کا تحفظ خلیفةالمسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے نا کسی اور کی نہیں مجھے آپ پر آپ کی تعلیمی قابلیت پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ کو مان رہے ہیں جو اعتراض حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پرکر رہے ہیں یا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حدتک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی علیہ السلام پر کرسکتے ہو کہ آپ علیہ اسلام کی خلافت کے زمانےمیں خاتون جنت کا حق کیوں مارا گیا ؟ میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگرساتھ ہی اس نےخود کو سنبھالتے ہوئےکہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائےثلاثہ نے حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا اس لیے حضرت سیدنا مولا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟ اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا میرے بھائی آپ نے میرے تعجب میں مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو ہمارے ساتھ آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم مشکل کشا ہیں عجیب بات ہے کہ انہیں علیہ السلام کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کا حق مارا گیا لیکن وہی حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم مشکل کشاہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونےکے باوجود حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی مشکل کشائی نہ کرسکے پھر ان علیہ السلام کا اپناحق خلافت غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کرسکے یا تو ان علیہ السلام کی مشکل کشائی کا انکار کردو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہوتو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ خلافت میں آئے ہوئے طاقتوروں نے ان کےحقوق غصب کرلیے تھے دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض والمحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کرلی جائےکہ اصحاب ثلاثہ نے ان علیہ السلام کی خلافت غصب کرلی تھی اب سوال یہ ہےکہ خلفاءثلاثہ کے بعد جب حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ وظاہری خلافت مل گئی اور آپ علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ علیہ اسلام کے صاحبزادے حضرت سیدنا امام حسن علیہ السلام خلیفہ بنےتو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لےلیا تھا ؟ جب آپ کے بقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا اب توانہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا لیکن حضرت مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت سیدنا امام حسن علیہ السلام نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کوکیوں چھوڑ دیا تھا ؟ آپ کے بقول آج بھی وہ سعودی حکومت کے کنٹرول میں ہے تو بھائی وہ باغ جن کاحق تھاجب انہوں نےچھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کرکے ان قصوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسرے دو خلیفہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر ہےکہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کوباغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا حضرت سیدنا مولا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ پر بھی ہوگا کہ ان علیہ السلام کی ظاہری خلافت میں آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو باغ فدک کیوں نہیں ملا ؟ میری بات سن کہ وہ نوجوان سٹوڈنٹ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کردیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟ وہ کہنےلگا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کےبارے کیوں ہے؟ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے اور آپ یہ بہت بہتر جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت سیدہ اماں عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت سیدہ حفصہ سلام اللہ علیہا بھی ہیں آپ نےخلفاء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پریہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچ اکہ اگر انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی آپ لوگ کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سرو پا جھوٹی باتوں کی وجہ سےحقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے؟
آو اب میں آپ کو وہ حقیقت ہی بتادوں جس کی وجہ سےحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی وراثت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کےکسی وارث کو نہیں دی گئی وہ خود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کافرمان ہے

نحن معشرالانبیاء لانرث ولانورث ماترکناصدقة

یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اورنہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے ہم جو مال وجائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پرصدقہ ہوتا ہے میں نے اسے کہا میرے بھائی یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لے کر حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت سیدنا امام حسن علیہ السلام تک کسی بھی خلیفہ نے باغ فدک آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان سب کے درمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ نوجوان سٹوڈنٹ اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا کہنے لگا آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں اب میں رب تعالی سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ ومصافحہ کیا پھر وہ نوجوان شکریہ اداکرتے ہوئے چلا گیا

متعلقہ خبریں