آئی جی سندھ کی برطرفی : اے ڈی خواجہ میدان میں آگئے ، مفاہمت کی سیاست کرنے والوں کے بارے میں بڑے انکشافات

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اپریل 02, 2017 | 06:56 صبح

کراچی(ویب ڈیسک)  آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے چارج چھوڑنے سے انکار کردیا۔ اے ڈی خواجہ کا موقف ہے وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن تک چارج نہیں چھوڑوںگا۔ سندھ حکومت صرف سفارش کر سکتی ہے، آئی جی کی تعیناتی براہ راست وفاق کا استحقاق ہے۔

قبل ازیں سندھ حکومت کی طرف سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر انکی جگہ عبدالمجید دستی کو آئی جی سندھ کا عارضی چارج سونپ دیا گیا۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر چیف سیکرٹری سندھ رضوان میم

ن کی عدم موجودگی میں کیا گیا‘ رضوان میمن عمرے کی ادائیگی کےلئے رخصت پر گئے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کیلئے وفاقی حکومت اورصوبائی حکومت کے درمیان کافی عرصے سے کشمکش جاری تھی۔ حکومت سندھ نے نئے آئی جی کی تقرری کیلئے تین نام روانہ کئے تھے جس میں عبدالمجید دستی، غلام قادر تھیبو جو اس وقت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے چیئرمین ہیں اور خادم حسین بھٹی جو ایڈیشنل آئی جی ٹریفک سندھ تعینات ہیں شامل تھے۔ حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کر دیں۔ عبدالمجید دستی پہلے ایڈیشنل آئی جی ہیں جن کو آئی جی سندھ کا اضافی اور عارضی چارج دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو لائق افسر نہیں چاہئے اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔ آئی جی سندھ کے حوالے سے مقدمہ زیر سماعت ہے میں سمجھتا ہوں ہائیکورٹ معاملے کا نوٹس لے گی۔