" عدل"

2022 ,فروری 18



عدل کی بات ہو اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے ۔ میں فقط ایک ہی قصے پر اکتفا کروں گی جس سے واضح ہوتاہے " عدل " کسے کہتے ہیں؟۔ حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ آگیا۔ آپ نے چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمایا کہ اتنے میں عدالت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نمودارہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ ”اے خلیفة المسلمین! کیا آپ نے چوری کی وجہ پوچھی؟“ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا ”نہیں“ جواباً حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ”پہلے چوری کی وجہ پوچھی جائے کیونکہ نان و نفقہ کا بندوبست کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔“ جب چورسے وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ اس نے فاقوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری کی ہے۔ اس جواب کے بعد اسکی سزا کو معاف کردیا گیا۔ عدل کا مطلب ہے انصاف - آج کل انصاف وہ نہیں کہلاتا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں کیا جاتا تھا - بلکہ آج کل عدل کے معنی و مفہوم یکسر بدل چُکے ہیں - آج عدل سے مراد ہے اعلیٰ حکومتی عہدے پر ہوتے ہوئے بھی صرف دوچار ممالک میں جائیداد رکھنا ، بھرے پیٹ کے ساتھ غریبوں کے پیٹ پر لات مارنا، امراء کے بچوں کے لیئے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنا اور غریبوں کے بچوں کے لیے آج اِس دور میں بھی بیٹھنے کے لیے ٹاٹ فراہم کردینا عدل کہلاتا ہے - اپنے علاج کے لیئے باہر کے ملک کی راہ لینا اور ہم وطنوں کے لئے علاج معالجے کی سہولیات کا ناپید ہونا، ادویات کا فُقدان ہونا عدل ہے - عدل وہ ہے جو ایک پاکباز بیوی کے ہوتے ہوئے ، اولادِ نرینہ کے ہوتے ہوئے ، مساوات سے یکسر انجان ہوتے ہوئے بھی دوسرا بیاہ رچا لینا کہ اللہ نے اجازت دی ہے - شادی ہی کر رہے ہیں جی کوئی گناہ تھوڑی - عدل وہ ہے جب بارسوخ امیر کبیر باپ کا بیٹا گاڑی کے نیچے کسی کو روند ڈالے اور پرچہ کسی بھی جدی پشتی خاندانی نمک خوار ملازم کے نام کٹوایا جائے کہ آخر نمک کھایا ہے اس ملازم نے حق تو ادا کرنا ہے نا ؟۔ اصل گنہ گار سینہ تانے پھرتے ہیں اور بےگناہ سُولی پر چڑھے نظر آتے ہیں۔ سو یہ ٹھہرا عدل و انصاف ۔ عدل کی ایک شِق سے تو آپ قطعاً ناواقف ہیں - بھائی کو لڑکی پسند آگئی خواہ وہ بہن کی دوست ہی کیوں نہ ہو - بہن سے دن رات منتیں کر کےنمبر لیا - بات چیت کی - میل ملاقات کی - ہر حد پھلانگ کر جب دل بھرگیا تب تُو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کسی اور کی تلاش شروع کر ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔ اور بہن کے متعلق شُبہ بھی ہوگیا تو غیرت کے نام پر قتل کر دینا عدل و انصاف کہلاتا ہے - موجودہ دور میں ہر شخص کو خود احتسابی کے کڑے عمل سے گذرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں