عدلیہ کے نشیب و فراز

2020 ,جون 7



جسٹس ارشادحسن خان کے بارے میں کالم کے پہلے حصے میں تفصیل بیان کر دی تھی لیگی ان پر بڑی تنقید کرتے ہیں مگر یہ منفرد فیصلہ انکے پیش نظر نہیں ہوتا۔ظفرعلی شاہ کیس کے بعد ایک اور کیس بھی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی پانچ رکنی بنچ نے جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میںسنایا تھا۔ یہ سپریم کورٹ پر حملہ کیس تھا جسے نواز شریف نااہلی کیس بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں مشرف حکومت نواز شریف کو نااہل کرانا چاہتی تھی۔ ایسے کیسز میں کتنا دبائو ہوتا ہے۔ جس دن فیصلہ سنایا گیا اس روز کی صبح تک بھی عدالت کو دبائو میں لانے کی کوشش ہوتی رہی۔ارد شیر کائوس جی کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا اپنے دوستوں سے کہنا تھا کہ میں نے ایسا بندوبست کیا ہے کہ ارشاد حسن نہ صرف فیصلہ نہیں سنا پائیں گے بلکہ جج کے منصب سے بھی جائیں گے مگر فیصلہ وہی ہوا جس کے سماعت کے دوران آثار اور امکانات ظاہر ہو رہے تھے جسے حکومت بدلوانے کیلئے سرگرم تھی۔ میاں نوازشریف نااہلی سے بچ گئے۔ چودھری اختر رسول‘ میاں منیر اور طارق عزیز کو تین تین ماہ سزا ہوگئی۔ ساتھ ہی معاملے کی مزید انکوائری کا حکم دیدیا گیا۔ جو لوگ کہتے ہیں حملہ کرنے والے لٹکا دیئے گئے‘ حملہ کرانے والے بچ گئے۔انکوائری ہوتی تو حملہ کرانے والے بھی نہ بچ پاتے۔ عدلیہ کا انکوائری کا آرڈر بدستور موجود ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی پی سی او کے تحت حلف لیا تھا اور وہ اس کے ہی گلے پڑ گئے جس کی وفاداری کی قسم کھائی تھی اور ان کا حرف انکار عدلیہ کی تاریخ میں انقلاب ثابت ہوا۔ وہ ایک فوجی آمر کے سامنے ڈٹ گئے تو ان کی بحالی کو بھی ایک فوجی جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ممکن بنایا۔ گو جسٹس چودھری کے کئی فیصلوں کو غیرقانونی قرار دیا جاتا ہے اور ان کیخلاف بھی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی تکمیل کی منتظر ہے مگر جسٹس افتخار چودھری کے بعد ہماری عدالتی تاریخ پے درپے انقلابی فیصلوں سے رقم ہے۔

جسٹس ثاقب نثار ڈیڑھ سال چیف جسٹس رہے۔ انہوں نے اس مختصرعرصہ میں دہائیوں کے قرض اتار دیئے۔کرپٹ مافیا کے سر پُرغرور جھکا دیئے ۔ ’’عدلیہ دبائو میں آکر فیصلے کرتی ہے۔‘‘ اس تصور کو چکنا چور کر دیا۔ بشری کمزوریاں جسٹس ثاقب نثار اور ان کے بعد آنے والوں میں بھی ہونگی مگر عدل کا پرچم انہوں نے جس طرح لہرایا‘ اس کی آب و تاب اسی طرح سے جاری ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کے دور کے فیصلوں کے اثرات پاکستان کی جمہوریت پر بھی نمایاں ہوئے۔ ایسے لوگ جن پر کرپشن کے مقدمات کی بھرمار تھی‘ اقتدار کے بل بوتے پر وہ ایسے مقدمات کو کھیل سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے تھے مگر اب ان کے گرد شکنجہ اتنا کسا گیا کہ جیلیں مقدر بنیں اور حکمران خاندانوں کی لوٹ مار کے ثبوت در ثبوت سامنے آتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کو ثابت ہونے میں نہ جانے کتنے سال لگ جائیں مگر ’’وسائل اڑائو‘ مال بنائو‘ کوئی پروا نہیں۔ کوئی پوچھنے والانہیں‘‘ کاتصور خاک ہو چکا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے اپنی سی کوشش کی۔ اس کیلئے فنڈ قائم کیا۔ ٹی ٹیز مافیا، زلزلہ زدگان کا فنڈ کھانے ، پانامہ میں سزا پانے والے اور ان کے درباریوں نے جسٹس صاحب پر ڈیم فنڈ میں خوردبرد کے الزامات لگانا شروع کر دیئے۔ جس کی وضاحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ کہہ کر کی کہ فنڈ میں کوئی خوردبرد نہیں ہوئی۔وہ محفوظ اور منافع بخش جگہ پر انویسٹ کئے گئے ہیں۔حکومت کو جب بھی درکار ہونگے فراہم کردئیے جائیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی کرپشن پر زیرو ٹالرنس دکھائی۔ ان کا وسیع تر حلقے میں احترام تھا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع پر نوٹس سے یہ حلقہ محدود ہو گیا۔ جسٹس کھوسہ کے نام سے جڑا پانامہ کیس کا فیصلہ ان کو عدالتی تاریخ میں امر کر گیا۔ آج اس فیصلے کی زد میں آنے والوں سے جذباتی لگائورکھنے والوں کو اعتراضات ہیں مگر اس فیصلے کے دوررس نتائج سے ان لوگوں کی نسلیں بھی مستفید ہونگی۔ احتساب کا عمل جاری رہتا ہے تو لوٹے گئے وسائل اگر پاکستان واپس آجائیں تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ جدید دور کی عدلیہ کا اعجاز ہے کہ ججز دبائو دھونس مصلحت اور لالچ میں نہیں آرہے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں ۔ جسٹس عائشہ ملک نے شریف خاندان کی شوگر ملز کی جنوبی پنجاب منتقلی کواس وقت غیرقانونی قرار دیا‘جب لیگی اقتدار سوا نیزے پر تھا۔ ان کے فیصلے کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے ڈویژن اور پھر سپریم کورٹ میں جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے برقرار رکھا مگر آج تک فیصلے پر عمل نہیں ہوا۔یہ معاملہ چینی کمیشن کے بھی سر سے گزر گیا۔

سردست کرپشن رک جائے تو بھی پاکستان کے تمام تر قرضے ادا اور خوشحالی کے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ یقینا ایسا ہوتا نظر آرہا ہے۔ حکومت کڑے احتساب اور کرپشن کے خاتمے کیلئے پُرعزم اور سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں میرٹ پر معاملات دیکھ رہی ہے۔ جسٹس گلزار بھی اپنے پیشروئوں کی طرح کسی دبائو کو خاطر میں لا رہے ہیں نہ مصلحت کا شکار ہو رہے ہیں۔ پانامہ کیس میں نااہلی کا اول و ثانوی فیصلہ دینے والوں میں جسٹس گلزار بھی شامل تھے۔عدلیہ میں بہت کچھ بہتر اور مثبت ہوا اور ہورہا ہے مگر اب بھی گنجائش ہے۔ جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے اس سے کہیں زیادہ کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ نظام انصاف میں مزید 90 فیصد بہتری کی گنجائش ہے۔ دیکھیں کب یہ ضرورت پوری ہوتی ہے۔ تبھی یہ انصاف کا مکمل معاشرہ بنے گا. بہترین عدلیہ ماہر ججز اور وکلاہی کے دم قدم سے تشکیل پاتی ہے۔آپ کو ماہر وکلا پرائیویٹ فرمز میں نظر آتے ہیں۔اس کے علاوہ اپنی اہلیت کی بنا پر کروڑوں کی فیسیں لینے والے وکلا موجود ہیں۔ایسے ماہرین کو جج بننے پر آمادہ کرکے نظام انصاف کو مزید معتبر بنایا جا سکتا ہے۔ بھٹو کیس کے ایک جج نے دباؤکے تحت فیصلہ کرنے کا اعتراف کیا اور جواز پیش کیا کہ میرے بچوں کی روزی کا معاملہ تھا۔ایسے کمزور اعتقاد کے لوگ آخر جج کیسے بن گئے اور اعلیٰ ترین مقام تک بھی پہنچ گئے۔ بھٹو کیس ہی میں جسٹس صفدر شاہ نے دباؤ قبول نہ کیاتوان پر بی اے کئے بغیر لاء کی ڈگری لینے کا الزام عائد کردیا گیا۔ لندن میں بیرسٹری کیلئے بی اے کرنا ضروری نہیں۔ قائد اعظم نے میٹرک کے بعد بیرسٹری کی تھی۔ (ختم شد)

متعلقہ خبریں