بادشاہ اور ایک طلاق یافتہ عورت کا معاشقہ جس نے سلطنت برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا

2021 ,مارچ 22



دسمبر 1936 میں برطانیہ کے شاہ ایڈورڈ ہشتم نے بادشاہت سنبھالنے کے 326 دن بعد ہی اپنی معشوقہ سے شادی کرنے کے لیے تختِ شاہی کو ٹھکراتے ہوئے انگلینڈ، برطانیہ اور انڈیا کی بادشاہت سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔

برطانوی اداکار، ہدایتکار اور مصنف ہیسکیتھ پیئرسن لکھتے ہیں کہ بادشاہ کے ایک طلاق یافتہ امریکی خاتون مسز والِس سِمپسن کے ساتھ معاشقے کی خبروں نے اُس وقت تخت برطانیہ کی بنیادوں کو ہلا دیا تھا۔ ان کے مطابق 'انگلینڈ فوراً پاگل ہوگیا۔'

آرچ بشپس، بشپس، دارالامرا اور کابینہ کا ارکان، سب ہی بند کمروں میں ایک ہی موصوغ پر بحث و مباحثہ کر رہے تھے۔

’کیا ایک انگریز بادشاہ سماجی حیثیت سے کم درجے کی ایک عورت کے ساتھ شادی رچا سکتا ہے؟ کیا برطانوی امرا اور بیگمات اور شاہی خاندان کے ارکان ایک عام امریکی عورت کے پیچھے چلنا پسند کریں گے؟‘

یہ بھی بات ہو رہی تھی کہ ’یہ بادشاہ وہ سب کچھ کیوں نہیں کرسکتا ہے جو اِس سے پہلے کئی بادشاہ کر چکے ہیں؟‘ اور ’کیا ایسی طلاق یافتہ عورت سے بادشاہ شادی کر سکتا ہے جس کے دونوں سابق شوہر زندہ ہوں؟‘ ہر شخص ان موضوعات پر اس طرح بات کر رہا تھا جیسے یہ اُس کی زندگی، موت کا معاملہ ہو۔

اس بحران کے دوران ہر شخص انگلینڈ کے کلیسہ، برطانوی آئین، فرائص، اخلاقیات، اور شریعتِ موسوی کے احکامِ عشرہ (ٹین کمانڈمنٹس) پر اپنے خیلات کا اظہار کر رہا تھا، ’حتیٰ کہ لوگ عارضی طور پر فٹ بال کو بھی بھلا چکے تھا۔‘

شاہ ایڈورڈ ہشتم

برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم نے اپنے والد شاہ جارج پنجم کے انتقال کے بعد 20 جنوری 1936 کو بادشاہت کا تخت سنبھالا۔ اس سے پہلے وہ دو دہائیوں تک پرنس آف ویلز یعنی ولی عہد رہ چکے تھے۔ شاہ ایڈورڈ برطانیہ کی موجودہ ملکہ ایلزیبیتھ دوئم کے چچا ہیں۔ ان کے بعد اُن کے بھائی جارج ششم بادشاہ بنے۔ سولہ برس بعد جارج ششم کی موت کے بعد شہزادی ایلزیبیتھ سنہ 1952 میں ملکہ بنیں۔

شاہ ایڈورڈ ہشتم، جو بادشاہت سے دستبرداری کے بعد ڈیوک آف وِنڈسر کہلائے، کا پورا نام ایڈورڈ البرٹ کرسچین جارج اینڈریو پیٹرک ڈیوڈ تھا اور وہ لندن کے جنوب مغربی علاقے رچمنڈ، سرے میں 23 جنوری 1894 میں پیدا ہوئے۔ پیدائش کے وقت ان کے والد ڈیوک آف یارک تھے، سنہ 1911 میں جب ان کے والد بادشاہ بنے تو شہزادہ ایڈورڈ کو پرنس آف ویلز قرار دیا گیا۔

آئینی بحران کا آغاز

جب شاہ ایڈورڈ ہشتم نے اپنے وزیر اعظم سٹینلے بالڈوِن کو مطلع کیا کہ وہ امریکی خاتون مسز والیس سیمپسن کے ساتھ شادی کریں گے تب ایک سیاسی بحران پیدا ہوگیا۔ اُس وقت تک والیس سیمپسن کی اپنے دوسرے شوہر ارنسٹ سمپسن کے ساتھ طلاق کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔ برطانوی وزیرِ اعظم بالڈوِن نے اس شادی کی مخالفت کی اور استعفیٰ دینے کی بھی دھمکی دے دی تھی۔ اس وقت کے چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ نے بھی اس شادی کی مخالفت کی۔

بالڈوِن کے لیے، جو کہ دائیں بازو کی سیاسی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے ایک انتہائی قدامت پسند وزیرِ اعظم تھے، ایک عام امریکی عورت ملکہِ برطانیہ بن ہی نہیں سکتی تھی۔ کنزرویٹو پارٹی کی اقدار کے بارے میں کتاب لکھنے والے فلپ ولیمسن کہتے ہیں کہ بالڈون والیس سمپسن کو ایک 'باعزت داشتہ' کے طور پر قبول کر سکتے تھے، نہ کہ 'ملکہِ والیس' کے طور پر۔

تاہم دیگر محققین کا کہنا ہے کہ شاہ ایڈورڈ ہشتم حکومتی امور میں مداخلت کی خواہش رکھتے تھے اور وہ برطانیہ اور جرمنی کے درمیان ایک گہری تزویراتی مفاہمت کے خواہاں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جرمنی میں فاشزم طاقت پکڑ چکا تھا اور برطانیہ کے قدامت پسند حلقوں میں اسے نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔

شاہ ایڈورڈ کی معشوقہ والیس کے بارے میں بھی اس وقت کی برطانوی حکومت کو یہی شک تھا کہ وہ جرمن ایجنٹ ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُن کے اُس وقت کے جرمن شاہی خاندان سے قریبی مراسم بھی تھے۔

بادشاہت سے دستبرداری اور شادی کے بعد والس اور ایڈورڈ نے بحیثیت ڈیوک اینڈ ڈچز آف ونڈسر نازی رہنما ہٹلر سے ملاقات بھی کی۔ ان کے حامی محققین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں جنگ کو روکنا چاہتے تھے۔

ان حالات کے پس منظر میں برطانوی حکومت نے شاہ ایڈورڈ اور والیس سمپسن کے درمیان ہونے والی گفتگو کی جاسوسی کرنے کے لیے ان کے ٹیلی فون کو ٹیپ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس ’جاسوسی مہم‘ کے بارے میں 2013 میں خفیہ دستاویزات سامنے آئیں جن میں اس کا باقاعدہ انکشاف ہوا تھا۔

تاہم 1936 میں یہ اتنا کھلا راز تھا کہ اُنہی دنوں انڈیا کے اخبارات میں بھی اس موضوع پر اشارے کنایوں میں بات ہوتی تھی۔

والس سمپسن کا پورا نام بیسی والس وارفیلڈ تھا لیکن وہ امریکی نژاد برطانوی شہری ارنسٹ سمپسن سے شادی کی وجہ سے مسز سمپسن کہلاتی تھیں

بیسی والیس وارفیلڈ

والیس سمپسن کا پورا نام بیسی والیس وارفیلڈ تھا اور طلاق مکمل ہونے سے پہلے وہ امریکی نژاد برطانوی شہری ارنسٹ سمپسن سے شادی کی وجہ سے مسز سمپسن کہلاتی تھیں۔ والیس اور ارنسٹ کی شادی 1928 میں لندن میں ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طلاق بھی مسٹر سمپسن کو دباؤ میں لا کر مکمل کرائی گئی تھی۔

ارنسٹ سمپسن سے پہلے والیس امریکی نیوی کے ایک پائلٹ ارل سپینسر کی 11 برس تک بیوی رہیں۔ یہ شادی 1927 میں ختم ہوئی تھی جس کی وجہ سپینسر کا پُر تشدد رویہ بیان کیا جاتا ہے۔ والیس جب ارنیسٹ سمپسن سے شادی کے لندن میں سکونت اختیار کی تو اُس دوران اُن کی پرنس آف ویلز ایڈورڈ سے ملاقات برطانوی فیشن ایبل سوسائٹی کی ایک تقریب میں ہوئی۔ ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا اور دونوں میں محبت ہو گئی۔

والیس نے اپنے اُس وقت کے شوہر سے طلاق مانگنے کے لیے مقدمہ جولائی 1936 میں دائر کیا جس کا ظاہر ہے مقصد یہ تھا کہ وہ شاہ ایڈورڈ ہشتم کے ساتھ شادی کر سکیں۔ لیکن اُس وقت کے قدامت پسند برطانوی معاشرے کی سیاسی اور سماجی اقدار کو دیکھتے ہوئے دو مرتبہ طلاق یافتہ عورت کو ایک ملکہ کے طور قبول کیا جانا ممکن نہیں تھا۔

مسز والیس سمپسن 19 جون 1896 میں امریکی ریاست پینسلوینیا میں بلیو رِج سمٹ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ امریکہ کے طبقہِ امرا (سوشلائیٹس) میں اٹھنے بیٹھنے والی ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں اور انھیں اچھے سکولوں اور تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا تھا۔ وہ شکل و صورت کے لحاظ سے حسین عورتوں میں شمار نہیں ہوتی تھیں البتہ وہ ذہین کافی تھیں اور کئی موقعوں پر لوگوں کی باتوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیتی تھیں۔

اور شاید ان کی اِسی بے باکی اور ذہانت نے شہزادہ ایڈورڈ کو متاثر کیا تھا۔ شہزادہ ایڈورڈ کے بارے میں بعض مورخین نے لکھا ہے کے اُن کے دورِ ولی عہدی میں اُن کے بڑی عمر کی عورتوں سے تعلقات کا ذکر طبقہِ امراء کی زبان پر ہوتا تھا۔ تاہم اخبارات شاہی خاندان کے سکینڈلز کے بارے میں محتاط رہتے تھے۔

دستبرداری پر شاہی خطاب

شاہ ایڈورڈ نے جب والیس سمپسن سے شادی کرنے کے لیے بادشاہت سے 10 دسمبر 1936 کو دستبرداری کا اعلان کیا تھا تو اُنھیں قوم سے خطاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ 'وہ عورت جس سے میں محبت کرتا ہوں، اُس کی مدد اور اس کے ساتھ کے بغیر میرے لیے بادشاہ کے طور پر اپنی بھاری ذمہ داریاں ادا کرنا اور اپنے فرائض پورے کرنا ناممکن ہوگا۔'

شاہ ایڈورڈ ہشتم کی جگہ ان کے بھائی البرٹ، شاہ جارج ششم کے خطاب کے ساتھ برطانیہ کے بادشاہ بنے۔ شاہ جارج ششم نے دستبردار ہونے والے بھائی کو ڈیوک آف ونڈسر اور مسز والس سمپسن کو ڈچز آف ونڈسر قرار دیا۔ دونوں نے برطانیہ کو خیرباد کہہ دیا اور پھر فرانس میں مستقل سکونت اختیار کر لی جہاں انھوں نے والیس کی طلاق کا عمل مکمل ہونے کے بعد جون 1937 میں ان سے شادی کر لی۔

ایڈورڈ اور والیس دوسری عالمی جنگِ کے آغاز تک فرانس میں رہے لیکن وہاں جرمنی کے حملے کی وجہ سے شاہ جارج ششم نے شہزادہ ایڈورڈ کو جزائر بہاماز کا گورنر مقرر کر دیا جہاں دونوں نے جنگ کے اختتام تک قیام کیا۔ سنہ 1945 میں جنگ ختم ہونے پر شہزادہ ایڈورڈ نے بہاماز کی گورنری سے استعفیٰ دیا اور واپس فرانس منتقل ہوگئے۔

سنہ 1956 میں والیس نے اپنی سوانح عمری 'دی ہارٹ ہیز اِٹس اون ریزنز' (دل کے اپنے ہی دلائل ہوتے ہیں) لکھی۔ شہزادہ ایڈورڈ کا 28 مئی 1972 میں پیرِس میں انتقال ہوا لیکن انھیں ونڈسر کے شاہی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ڈچز آف ونڈسر والس فرانس میں 1986 تک زندہ رہیں۔ انتقال کے بعد انھیں ان کے شوہر کی خواہش کے مطابق ونڈسر کے شاہی قبرستان میں ہی دفن کیا گیا۔

ہٹلر، ایڈورڈ اور مسز سمپسن

امریکی شاعر پاؤنڈ کی رائے

بیسیوں صدی کے انگریزی ادب کے امریکی شاعر اور قدامت پسند خیالات رکھنے والے، ایذرا پاؤنڈ نے شاہ ایڈورڈ ہشتم کو یورپ میں امن کا بہت بڑا نقیب قرار دیا۔ انھوں نے 'کینٹوز' کے انداز میں لکھی جانے والی طویل نظم میں ایڈورڈ کو ’من کے لیے کیا گیا بہت بڑا کارنامہ قرار دیا ہے۔' اس کے خیال میں دستبرداری کے اعلان کی وجہ سے اُس وقت برطانوی حکومت جرمنی کے خلاف اُس وقت اعلانِ جنگ نہ کر سکی۔

ایک امریکی ناقد نے ایذرا پاؤنڈ کی شاعری کے تناظر میں لکھا ہے کہ '(امن کے لیے کوششوں کی وجہ سے) ایڈورڈ کی جنت میں جگہ دوہری طور پر محفوظ ہو گئی ہے۔ وہ امن قائم کرنے والا ہے اور ایک ایسا ذمہ دار شخص ہے جو حالات کے چیلینجز سے نبردآزما ہونے کے لیے یادگاری کارنامہ سر انجام دے سکتا ہے۔ پاؤنڈ کی طرف سے بادشاہ کی دستبرداری کی تعریف اتنی ہی خوشآمدانہ ہے جتنی کہ ایک روایتی رومانوی تصور میں سوچی جاسکتی ہے۔'

ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ایذرا پاؤنڈ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کسی حاکم کے لیے اُس کے ذاتی کردار سے زیادہ اہم صفت اُس کی ایک اچھی حکمرانی فراہم کرنا ہے جو تخت پر بیٹھنے والوں کو جنت جانے کے قابل بناتی ہے۔ 'امن کے قیام کے لیے کام کرنا اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی ایک بڑی مثال ہے۔'

اسی وجہ سے پاؤنڈ اپنے ممدوح بادشاہ، ایڈورڈ کو انیسویں صدی کے جرمن چانسلر بِسمارک اور فرانس کی وزیر خارجہ اور زیرک سفارت کار ٹیلی رینڈ کے ساتھ اپنی نظموں میں اہم مقام دے کر انھیں یہ اعلیٰ اعزاز بخشا ہے۔

انگریزی ڈرامہ اور شاہ ایڈورڈ

بیسویں صدی کے پہلے نصف کا زمانہ وہ دور تھا جب برطانیہ میں کلیسہ اور قدامت پسند سیاسی حلقے، سب کے سب بادشاہ کی دو مرتبہ مطلقہ عورت سے شادی کے خلاف تھے اور اخباری صنعت کا ایک بڑا طبقہ بھی اس رشتے کی مخالفت کر رہا تھا۔

اگرچہ برطانوی پریس ابتدا میں اس معاملے پر خبریں شائع کرنے میں بہت احتیاط سے کام لے رہا تھا لیکن امریکی اخبارات میں اس 'افیئر' کے بارے میں دھڑا دھڑ خبریں شائع ہو رہی تھیں۔ بالآخر ایک برطانوی ہفتہ وار نے بندش کا یہ بند توڑا اور پھر برطانوی اخبارات نے اس معاملے پر شادی کی حمایت یا شادی کی مخالفت میں موقف اختیار کر لیا۔ اکثریت شادی کی مخالف تھی۔

چرچل اور ایڈورڈ

اس ماحول میں ونسٹن چرچل بادشاہ کی والیس سمپسن سے شادی کے حامی تھے۔ انھوں نے بادشاہ کو ایک خط لکھا کہ وہ اُس وقت کے لندن کے ایک بڑے اخبار کے مالک، لارڈ بیوربروک سے رابطہ کریں اور اس سلسلے میں مدد طلب کریں۔ اگرچہ یہ نہیں معلوم کہ بادشاہ نے رابطہ کیا یا نہیں، البتہ لارڈ بیوربروک کے اخبار 'ایوننگ سٹینڈرڈ' نے شاہ ایڈروڈ اور والیس سمپسن کی شادی کی حمایت کی کوششیں ضرور کیں۔

لیکن چونکہ والیس پریس اور شہرت سے دور رہنے کی خواہش رکھتی تھیں اس لیے ان کا موقف بہت کم شائع ہوا، جس کا ایک لحاظ سے قدامت پسند حکومت کو فائدہ پہنچا۔

اس ماحول میں شاہ ایڈورڈ ہشتم کو جس شخص کی وجہ سے سب سے زیادہ مدد ملی وہ تھے بائیں بازو کے نظریات کے حامل معروف ڈرامہ نگار، نقاد اور سیاسی کارکن جارج برنارڈ شا، جن کے ایک تمثیلچے نے مکالموں انداز میں اس کہانی کے سارے واقعات اخبار میں شائع کر کے بیان کیے گئے تھے۔

برنارڈ شا کا یہ ڈرامہ ایوننگ سٹینڈرڈ نے شائع کیا۔ اس میں بادشاہ، آرچ بشپ اور وزیرِ اعظم کے فرضی ناموں کے ساتھ کردار ترتیب دیے گئے اور ان کے مکالموں کے ذریعے اس وقت کے واقعاتی حقائق بیان کیے گئے۔ مورخین کے بقول اس تمثیلچے کے ذریعے نہ صرف شاہ ایڈورڈ کو مشورے دینے کی کوشش کی گئی بلکہ عوام کو بھی واقعات کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

تمثیلچے کا نام تھا 'دی کنگ، دی کانسٹیٹیوشن اینڈ دی لیڈی' (بادشاہ، آئین اور خاتون)۔ اس تمثیلچے میں بادشاہ کو ایک ایسی کیفیت میں دکھایا گیا ہے کہ اُسے تخت یا محبت کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ اس خاکے میں اُن تمام سوالات کا جواب دیا گیا ہے جو وزیرِ اعظم بالڈوِن اور آرچ بشپ آف کینٹربری نے اس شادی کے بارے میں اٹھائے تھے۔

محققین کے مطابق یہ تمثیلچہ برنارڈ شا نے اپنے ایک پرانے طنزیہ ڈرامے 'دی ایپل کارٹ' (سیبوں کا ٹھیلا) کی روشنی میں لکھا تھا جس میں میگنس نامی ایک بادشاہ کو اسی قسم کے آئینی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 'دی ایپل کارٹ' میں بادشاہ معزول ہو کر ایک مقبول عوامی رہنما بن جاتا ہے، لیکن شاہ ایڈورڈ کو دستبردار ہو کر خاموش ہونا پڑتا ہے۔

شا نے 'دی ایپل کارٹ' سنہ 1928 میں لکھا تھا جبکہ ایڈورڈ کا بحران سنہ 1936 میں پیش آیا تھا۔

برنارڈ شا

ایک اور اہم پہلو جس پر اس بحران کے حوالے سے کم بات ہوئی ہے وہ یہ کہ 'دی ایپل کارٹ' لکھتے وقت برطانیہ کا اقتصادی نظام معمول کے مطابق چل رہا تھا جبکہ سنہ 1936 تک نہ صرف برطانیہ بلکہ عالمی معیشت سنہ 1930 کے طویل کساد بازاری کے بحران سے باہر نکل رہی تھی۔

برنارڈ شاہ نے جب شاہ ایڈورڈ کے بحران کو تمثیلچے میں ڈھالا تو اُس نے نہ صرف خوبصورت نثر لکھی بلکہ بعض مکالموں کو اچھی شاعری سے بھی مُزیّن کیا۔ انہی مکالموں میں شاعری کے چند مصرعوں میں بادشاہ اپنی بے بسی کا ذکر کرتا ہے۔ ان مصرعوں کا قریب ترین ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:

نہیں لگتا ہے میرا دل اس اجڑی بادشاہت میں

مجبور ہوں کہ پروہت کے بنائے بتوں کو پوجوں

اجازت نہیں مجھ کو کہ شادی کروں اپنی پسند کی

ہر موڑ پر روکا ہے مجھے جہاں آوازے کسے جاتے ہیں

خبردار یہ شادی کی۔۔۔ اور یہ شادی ضرور کرو

دستبردار ہوکر تخت و تاج پولی ڈور کو دے دیتا ہوں

برنارڈ شا نے اپنے تمثیلچے کے ذریعے اس واقعے کے دوران جو تفصیلات سامنے آتی رہیں انھیں بیان کیا۔ اور اس تمثیلچے کی قسطیں شائع ہوتی رہیں۔ کچھ ماہرین کا اب بھی خیال ہے کہ یہ محض شا کا خیالی ڈرامہ تھا، تاہم بعض لوگوں کی رائے میں شا کو واقعات کی تفصیلات بتائی جاتی تھیں اور پھر وہ انھیں تمثیلی انداز میں پیش کرتے تھے۔

ایک بات جو بہت دلچسپ ہے وہ یہ کہ جارج برنارڈ شا کئی ناقدین کے لیے بائیں بازو کے نظریات رکھنے والا ادیب و صحافی تھے، تاہم انھوں نے اس بحران کے دوران بادشاہ کا ساتھ دیا جس کی عموماً ایک بائیں بازوں کے دانشور سے توقع نہیں کی جاتی۔

لیکن اس حمایت کی ایک وجہ واضح ہے اور وہ یہ کہ اُس دور میں بادشاہ قدامت پسند روایتوں کو توڑ رہا تھا جبکہ جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم اور حکومت دقیانوسی اقدار کی نمائندگی کر رہے تھے۔

وزیرِ اعظم: مجھے تو یہ ایک حیلہ بہانہ لگتا ہے۔ مجھے ہِز مجیسٹی سے اس بات کی توقع ہرگز نہ تھی۔ آپ جانتے ہوں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ کوئی شاہی نسل کی ہوتی، نہ کہ ایک امریکی۔

بادشاہ: کم از کم ایک بات تو یقینی ہے۔ انگلینڈ کا وزیرِ اعظم امریکیوں کو سرِ عام اچھوت تو کہہ رہا ہے۔ آپ اُس قوم کی بے عزتی کر رہے ہیں جن سے تعلقات اور دوستی پر مشرق میں میری سلطنت کا انحصار ہے۔ میرے سارے بہترین سیاسی مشیران کہہ رہے ہیں کہ برطانوی بادشاہ اور ایک امریکی عورت کی شادی سیاسی حکمت عملی کی ایک بہترین چال ہے۔

وزیرِ اعظم: میں ایسی بات نہ کہتا۔ میری زبان سے یہ کہنے میں غلطی ہوئی۔

بادشاہ: بہت اچھا۔ ہم اس بات کو حذف کیے دیتے ہیں۔ لیکن آپ پھر بھی میرے لیے شاہی نسل کی دلہن چاہتے ہیں۔ آپ تو سترہویں صدی کے دور کی موروثی شاہی خاندانوں کی شادیوں کے دور کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ میں، انگلینڈ کا بادشاہ اور برطانیہ کا شہنشاہ، یورپ جا کر اپنے لیے کسی شاہی نسل کے رشتہ کے لیے بھیک مانگتا پھروں، جو پانچ یا چھ مرتبہ اقتدار سے نکالی جا چکی ہو، یا بوربون یا ہسبرگ، ہوئنزولرن یا رومانوف کے معزول شاہی خاندان کو تلاش کروں، جن کے بارے میں اس ملک میں کوئی بھی شخص رتّی بھر بھی پرواہ نہیں کرتا ہے۔ میں ایسی کوئی بھی متروک یا احمقانہ بات نہیں کروں گا۔ اگر آپ اب بھی سترہویں صدی میں رہ رہے ہیں تو میں بیسویں صدی میں رہ رہا ہوں۔ میں اُس دور میں رہ رہا ہوں جب دنیا میں جمہوریائیں تشکیل پا رہی ہیں، جہاں طاقتور سلطنتوں کے حکمران مصوروں، سنگتراشوں کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں سپاہیوں کے خاندانوں سے جرنیل بن جانے والے لیڈران اب حکمران ہیں، جہاں جوتے بنانے والے کارخانوں کے مزدوروں کی اولادیں ریاستیں چلا رہی ہیں۔ اور میں اُن میں سے کسی کی بیٹی سے شادی کروں۔ میں آپ لوگوں کے لیے اپنے سُسر کا انتخاب کروں۔ اس وقت تو فارس کا بادشاہ ہے۔ ترکوں کا آفندی موجود ہے۔ پھر محترم بومبارڈون ہیں۔ اس وقت ہر بیٹلر بھی ہیں۔ اور اس وقت روس کا آہنی بادشاہ بھی ہے۔ آج کے دور کی یہ شاہی نسل ہے۔ مجھے حیرانی ہو گی اگر ان حکمرانوں میں سے کوئی بھی اپنی رشتہ دار کو ایک پرانے طرز کے بادشاہ کے ساتھ شادی کی اجازت دے۔ مجھے شک ہے۔ میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ اس وقت یورپ میں کوئی بھی ایسا شاہی خاندان نہیں رہ گیا ہے جہاں شادی کرنے سے میں برطانیہ کو کمزور نہ کروں گا۔ اور آپ لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آپ کو کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔

وزیرِ اعظم: آپ مجھے مکمل طور پر پاگل لگتے ہیں۔

بادشاہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ میں لندن کے ایک خاص طبقے کے لیے جو آج بھی چند صدیوں پہلے کے دور میں رہ رہا ہو، میں پاگل ہوں۔ جدید دنیا بہتر جانتی ہے۔ بہرحال اس بات پر کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کسی خاتون کا رشتہ بتائیے۔

وزیرِ اعظم: فی الحال میرے ذہن میں کوئی نام نہیں آرہا ہے، اگرچہ بہت سارے رشتے مل سکتے ہیں۔ آرچ بشپ صاحب کیا آپ کوئی رشتہ بتا سکتے ہیں؟

آرچ بشپ: غیر متوقع طور پر نام تلاش کرنے کی وجہ سے فی الحال میرا ذہن بالکل خالی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہتر ہے کہ ہم اس وقت دسترداری کے موضوع ہر بات کریں۔

انڈیا کا ردعمل

جس وقت لندن کے سٹیج کا یہ سیاسی اور آئینی بحران برطانوی اخبارات کی زینت بنا ہوا تھا، اُس وقت برطانوی نوآبادیاتوں میں بھی اس واقعے میں گہری دلچسپی پائی جا رہی تھی۔ اس کی ایک مثال انڈیا میں دلّی کے اپنے وقت کے معروف ادیب، سماجی کارکن او ر صوفی سکالر خواجہ حسن نظامی کی ہے جنھوں نے اِس معاملے پر ایک ہندوستانی کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

خواجہ حسن نظامی نے 6 دسمبر سنہ 1936 کو اس وقت کے وائسرائے لارڈ لِنلِتھگو کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے لکھا: 'ہندوستان اور مشرق کے کروڑوں باشندے برطانیہ کے دستورِ حکومت سے واقف نہیں ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بادشاہ حکومت کرتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ خود مختار بادشاہ ہیں۔ اس واسطے برطانیہ کا بھرم بندھا ہوا ہے۔ لیکن جب اُن کو معلوم ہوگا کہ برطانیہ کے شہنشاہ کو اپنی شادی کا اختیار بھی نہیں ہے تو ہندوستان اور مشرق میں برطانوی اقتدار کو صدمہ پہنچے گا۔ لہٰذا برٹش گورنمنٹ کو لکھیے کہ شہنشاہ ایڈورڈ کی شادی کے معاملے میں مداخلت نہ کرے۔'

حسن نظامی نے برنارڈ شا کے تمثیلچے کو بھی پڑھا، لیکن انھوں نے اس کا ترجمہ کرنے کے بجائے شا کے انداز میں خود سے ڈرامائی انداز میں شاہ ایڈورڈ کی 'ڈائری' لکھی جو پڑھنے کے لائق ہے:

نئے شہنشاہ جارج ششم کی خدمت میں نذر

برطانوی قوم کے تاجدارِ اقلیمِ ادب برنارڈ شا کے نیک نام کے ذریعے میں اس کتاب کو اپنے نئے شہنشاہ جارج ششم کی نذر کرتا ہوں۔ یہ نذر اُن کی شہنشاہی قبول کرنے اور ان کی حکومت سے وفادار رہنے کا ایک طریقہ ہے ورنہ محبت تو مجھے سابق ایڈروڈ ہشتم ہی سے ہے۔ حسن نظامی دہلوی'

یہ ڈائری حسن نظامی دہلوی نے اپنے تاثرات اور اپنے تصورات اور اپنے خیالات کی بنیاد پر لکھی۔ انہوں نے اس میں نہ صرف شاہ ایڈورڈ ہشتم کی معزولی پر تاسُّف کا اظہار کیا بلکہ اُس وقت کے انڈیا کی سیاست، سماج اور تصوف پر مخلتف کرداروں کے مکالموں کے ذریعے گہری دانشورانہ بات چیت بھی کیں۔ ڈائری میں ایک مقام پر وہ محبت اور عقل کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

'آج کل میں عقل مند لوگوں سے گھبراتا ہوں۔ عقل اور محبت میں تو بہت ہرانی دشمنی ہے۔ مشرق و مغرب دونوں اس بات کو جانتے ہیں کہ عقل ایک تاریکی ہے اور محبت اجالا ہے۔ عقل سنگ دل اور بے رحم ہے محبت ملنسار اور ماں کی طرح مہربان اور شفیق ہے۔'

معزول بادشاہ پر علامہ اقبال کی نظم

تاہم برصغیر پاک و ہند کے اُس وقت کے نامور شاعر، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے 'معزول بادشاہ' کے عنوان سے ایک مختصر سی نظم بھی کہی تھی جس میں برطانوی بادشاہت کے بارے میں انھوں نے اشارہ دینے کی کوشش کی تھی کہ اس ملک میں بادشاہت کی کوئی حیثیت نہیں، وہ محض دوسری اقوام کو مرعوب کرنے اور غلام رکھنے کے لیے علامت کے طور پر رکھی جاتی ہے۔

معزول شہنشاہ

(وہ شہنشاہ جسے بادشاہت سے ہٹایا گیا)

ہو مبارک اس شہنشاہ نکوفر جام کو

جس کی قربانی سے اسرار ملوکیت ہیں فاش

شاہ ہے برطانوی مندر میں اک مٹی کا بُت

جس کو کر سکتے ہیں جب چاہیں پجاری پاش پاش

ہے یہ مشک آمیز افیوں ہم غلاموں کے لیے

ساحر انگلیس! ما را خواجہَ دیگر تراش

برطانیہ

دور حاضر میں

آسٹریلیا کی نیو ساوتھ ویلز یونیورسٹی کے انگریزی ادب کے اسسٹنٹ پروفیسر اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعات پر مشتمل ناول 'دی انفیڈل آف مکہ' کے مصنف، عباس زیدی کہتے ہیں کہ سنہ 1936 کا برطانوی بادشاہ کی معزولی کا واقعہ لکھنے والوں اور شاعروں کو مستقبل میں متاثر کر تا رہے گا۔ برنارڈ شاہ کے ڈرامے 'دی ایپل کارٹ' کے بارے میں کہتے ہیں کہ 'یہ ڈرامہ آج بھی حالات کے عین مطابقت رکھتا ہے۔'

'شا کے (ڈرامے کے کردار) کنگ میگنس کی طرح ہم آج ایک شہزادہ ہینری کو دیکھ رہے ہیں جس نے اپنی شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تاکہ وہ جمہوری آزادی سے نبرد آزما ہو سکے۔ میرے خیال میں شا کا یہ خیال بہت منصفانہ تھا کہ حکمرانی کی بنیادی شرط خود کو پابند کرنا ہے چاہے یہ بادشاہت ہو یا جمہوریت۔'

عباس زیدی کے خیال میں 'دربار کے تناظر میں یہ کہانی مراعات کے مقابلے میں حقوق کی از سرِ نو توضیح کا معاملہ بن جاتا ہے۔ آج کے دور کے تناظر میں (سیاسی اقتدار کی) طاقت کا نظام ہمیں ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں تصدیق شدہ حقائق کے مقابلے میں متبادل حقائق کو بہتر قابلِ عمل حکمت عملی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جہاں ایسی تعلیم کی پیش کش کی جاتی ہے جس میں حیاتیاتی (بائیولوجیکل) حقائق کو سماجی (سوشیالوجیکل) حقائق سے شکست دی جاتی ہے۔'

آج اگرچہ شاہ ایڈورڈ کی حمایت میں بات کرنے والے کافی لوگ ملیں گے لیکن تاریخ نے بادشاہ کی دستبرداری کے واقعے کی بیشتر ذمہ داری والیس پر ڈال دی ہے۔ لیکن اس کہانی کے اس پہلو پر بات ہونا شروع ہو چکی ہے کہ ایڈورڈ ایک ذہنی مریض تھا اس لیے اس کا دل و دماغ والیس پر پھنس گیا تھا۔ اس کے اپنے زمانے کے لوگوں نے ایک ذہنی مریض بھی کہا تھا۔

لیکن اب بھی عموما گفتگو کے دوران اس کہانی میں والیس کو ایک دولت و شہرت کی بھوکی عورت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ظاہر اس کے پسِ پُشت پچھلی دور کے پدر شاہی معاشرتی اقدار ہیں جن کے مطابق بادشاہ کی بربادی کا ذمہ دار عورت کو سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ والیس نے قانونی طور پر بادشاہ کی 'داشتہ' بننے یا غائب ہوجانے پر آمادگی کا اظہار کردیا تھا۔ لیکن ایڈورڈ نے خودکشی کی دھمکی دے دی تھی۔

اکیسویں صدی میں جس طرح عورت کے کردار کو نئے زاویے اور نئی اقدار کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے اُس کے نتیجے میں ماضی کے کرداروں کا بھی از سرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اب تک ایڈورڈ کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا جو قربانی کی مثال بنتا ہے، جبکہ والیس کو شہرت کی بھوکی، تباہی کی علامت اور خود غرضی کا نشان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

ماضی میں والیس کو اس عشقیہ کہانی کا ایسا کردار بنایا گیا جو کہ ایڈورڈ نے لکھی اور جس میں اُسے ایک ایسی عورت بنا کر پیش کیا گیا جو ایک بادشاہ کے زوال کا سبب بنی۔ اور اُس پر جرمنی کی نازی پارٹی کا جاسوس ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا جس کے بارے میں ایک کئی محققین نے تسلیم کیا ہے کہ یہ الزام غلط تھا۔

آج کے دور میں جب بہت کچھ بدل چکا ہے والیس اب بھی سماجی اور تاریخی انصاف کی منتظر ہے۔ ایک امریکی مصنف کیٹ ویلیمز کہتی ہیں کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہر لڑکی شہزادی بننا چاہتی ہے۔ لیکن وہ عورتیں جنہوں نے برطانیہ کے شاہی خاندان میں شادیاں کی ہیں ان کی اکثریت یہ ظاہر کرتی ہے کہ شہزادے سے شادی کرنے سے کچھ بھی مل سکتا ہے سوائے خوشیوں کے۔

متعلقہ خبریں