انٹرویل کے بعد کی زندگی

2019 ,نومبر 9



صوفیہ بیدار
یہ جنم کوئی اور تھا اور وہ جنم کوئی اور ”کنڈی کھلنے اور ہلتے رہنے جیسا وقفہ“ اور اطراف دو جہان…… سبحان اللہ…… اسی امت سے تھی جس کیلئے ہدایت وسیلہ بنانے والوں کی جگہ ”محبوب“ کو بھیجا گیا…… اللہ اللہ…… کہاں میں کہاں یہ مقام…… شکر گزاری سے گلا رُندھ گیا اور…… اور…… کیا ہم اس قابل تھے کہ ”وہ تمہارے لئے اپنا”محبوب“ بھیجا ہم تو انسان ہو کے اپنی ”محبوبیت“ کو سات ہزار پردوں میں چھپاتے ہیں اور اس نے سات پردے چاک کر دیئے……
میں …… امتی…… زندگی کے دو صحراؤں کے ”واٹ“ پر کھڑی سوچ رہی تھی…… شوکمار…… بھی تو اپنی رضا سے جہان میں نہیں آیا کیا حکمت ہے کہ وہ پنجاب کی سلگتی منڈیروں پر کھڑا سایہ سا بنا گیت لہرا رہا ہے ”لمیاں سی واٹاں جدوں نیہڑے نیہڑے آیاں تو…… چاندنی راتوں میں پنجاب کے کھلیانوں کو تقسیم کی لکیر کھینچے ہوئے مذہب، ارادے اور نظرئیے…… مسکرائی ہوئی یکساں مہرباں چاندنی…… کیا چاندنی ابر اور سونے کی بالیاں جیسے لہلہاتے خوشحال کھیت لپکتے پھل رس ٹپکاتے شہد پر بڑھتے ہاتھ کیلئے نوالہ بنتے اناج چمکتی خوشبوں کی موتیوں بھری جیب اور کپاس کی نرمی…… نے کہیں تفاوت کیا…… کیا یہ ”رب“ تھی یا پھر نظریاتی، للکارتی، پھنکارتی، نعرہ زن نقشے بناتی سوچ خدا تھی؟
میں چاندنی کے پراسرار پہرے میں اپنے دونوں اطراف کی زندگی دیکھ رہی تھی۔

وہ جو پالنے میں پڑی گڑیا کی مانند اور سنبھالتے ہوئے لکھاری ماں کے ہاتھ …… ننھے ننھے قدم…… چھوٹی چھوٹی نظمیں …… معاف ہوتی خطائیں …… ہمہ وقت جیسے میں ریشم کے کمبل میں لپٹی ہوئی یہاں وہاں متحرک…… مجھے نہیں یاد مجھے کبھی اپنی صفائی پیش کرنے کی نوبت آئی ہو۔ دووقت میری وکالت میں  محو کلام رطب اللساں تھے۔ میری خطاؤں پر پردہ ڈالتی نگاہیں میرے حق میں دلیلیں …… میری نادانیوں کے تیار شدہ جواز…… دراصل میری بیٹی کو غصہ آگیا ہوگا۔ وہ کچھ اور کہنا چاہتی ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا …… سبحان اللہ…… یہ اسی عظیم ”محبوبیت“ کی تصویر تھی اور آنے والی کلفتوں کیلئے سدِراہ…… ایندھن عمر بھر کا…… مقابلہ مخالفت کا اور ’شیل“ نفرت بھری زہریلی ہائیڈروجن سے بچانے والا…… جب ایک پرندہ اپنی مخلوق کے طالب پکڑنے تک اسے ایک ”شیل“ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور پروں میں طاقت پرواز اور پنجوں میں ”شیل“ توڑنے کی طاقت دیتا ہے تو ہی دنیا سے مقابلہ کرتا ہے۔ انٹرول سے پہلے کی محبتیں انسان میں انٹرول کے بعد کی نفرت مخالفت اور دشمنیوں کا مقابلہ کرنے کا ایندھن بھر دیتی ہیں۔
”واٹ“ کے ادھر کا سفر سین سے کھلتی آنکھ کا سفر ہے۔ عموماً دنیا ”دوسر جنم“ ”جسمانی طورپر“ ''Survive" کر کے کہتی ہے۔ میرا Survival کا دوسرا جنم اس روحانی‘ متصوف اور حسیات کے جاگ اٹھنے سے شروع ہوکر جسم کے بچ جانے تک منطبق ہے۔ ”جسم“ جس کا ایکسیڈنٹ میں ضائع ہو جانا اور بچ جان ہی لوگوں کا مطمع نظر اور دو جہانوں کا جنم ہے‘ جسے وہ منقسم کرتے ہیں۔ دو ادوار میں ……
میرا دوسرا جنم 99ء دمیں ہوا جب میں یکلخت اُڑی ہوئی چھت بھربھری دیواروں‘ بستر پر پڑا والدہ کا سیاہ دوپٹہ قیمتی اشیاء سے خالی کمرہ…… مگر وہ جو خوشبو تھی اسے کمرے سے نہ کوئی اٹھا پایا تھا نہ کوئی چرا پایا تھا۔۔۔۔۔ سیڑھیوں سے لیکر ماں پاپا کے کمرے تلک کی مخصوص مہک زندہ تھی۔ صندوقوں سے روپے (ادویہ و ضرورت سے بچے ہوئے) قیمتی گھڑیاں سانس تلک لینے کے آلے اٹھا لینے کے باوجود چور …… ”خوشبو“ نہ چرا پائے تھے۔ اک خاص سیاہ صندوق سے اُٹھتی کپڑوں میں بسی ”مہک“ نہ چرا پائے…… مجھے قدرت پر ایک بار پھر پیار آیا…… وہی ”چاندنی“ والی عادت…… وہی ”رب“ والی خصوصیت…… ایک اثاثہ جاں ایسا ہے صرف میرا ہے یہ بہت عجیب احساس ہے کہ میرا باپ مرے علاہ پندرہ بچوں کا والد بھی ہو تو بس وہ میرے لئے صرف میرا ہے۔ میری ماں کسی کی بیٹی‘ کسی کی بہو یا کئی بچوں کی ماں ہو‘ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ میری دانست میں وہ صرف ”میری ماں“ ہے۔ یہ سہولت شاید ہر بچے کو ہوتی ہے…… مگر مجھے جو اظہار کی قدرت ”گفٹ“ ہوئی‘ اس سے لگا اصل ”جہیز“ انہوں نے مجھے ہی دیا…… یہ محبت کا بے پایاں ثبوت ہے۔ عمر گزری نہ اسے ”گھن“ لگا نہ اس کی پالش خراب ہوئی بلکہ ماہ بہ ماہ یہ چمکدار ہوتا چلاگیا۔
میں نے بھی اس کی بہت حفاظت کی۔ نفرت‘ تھپیڑے‘ لو دیتی ہوائیں‘ رشتوں کے زہر‘ جمع ہوتی نفرتیں …… میری زندگی کے ”گلے“ کو لبالب بھر گئیں مگر میں نے ”نیلوں نیل“ پنڈے کو ڈھال بنا کر ”کرپانوں“ کا مقابل جسم تک محدود رکھا…… مگر جو ”داج“ میری ماں نے دیا‘ اس کی حفاظت مٹی کے باوے کو ریزہ ریزہ کرکے کی…… مجھے پتہ تھا میں ”چٍُن“ لی گئی تھی…… میرا ”انتخاب ہو گیا تھا۔ رونقوں بھرے بستر برتنوں میں برکتیں اور سرخ وردیوں‘ زرد قناتوں میں کھڑکتی دیگیں روٹھ گئیں …… بے مصرف گہری اُداسی کے بادل بھک سے اڑا لئے گئے۔ اُجڑی ہوئی مانگ‘ کھنڈر ہوتے گھر اور ”اشبھ“ گھڑی میں دہکتے ”منڈپ“ پر واپس لوٹتیں باراتیں …… ڈھلوانوں کی ”ٹکیوں“ سے اوندھی لڑھکتی ”دیگیں“ رڑھتے ہوئے زعفرانی زردے دم پخت بریانیاں‘ گرد میں ملتے چاول منہ ہمیں ریت بھرنے لگے۔۔۔۔
خیال کا ”منڈپ“ ……………… وقفہئ وقت میں سجنا شروع ہو گیا…… والدہ محترمہ بھی اسی کرب سے گزر رہی تھیں …… جب آئی خود پہ تو پھر رازوں کی بات کھلی ”معاملہ ایں جاء رسید……“
میں ہوں مشتاقِ جفا مجھ پہ جفا اور سہی
تم ہو بیدار سے خوش اس سے سواء اور سہی
مجھے جو زندگی سے اخذ کرنا تھا‘ اس کیلئے گمان کیا کہ ازخود کچھ نہیں کرنا‘ زندگی جیسے جیسے جو سبق پڑھائے گی‘ پڑھیں گے‘ جو سلوک کرے گی سہیں گے…… انٹرول سے پہلے ”الہڑ“ ہونے کا یہ حال تھا کہ میں سوچتی تنگ کرنے والوں سے بحث و مباحثہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ بس کسی گلی میں ”کٹ“ لگوا دو بچپن میں ددھیال اور ننھیال کے ناموں سے پکارے جانے والے بچوں کے ضمر و انبساط بھی الگ ہوتے ہیں۔ ہم تھانیداروں کی ”نواسیاں“ کہلاتے تھے۔ نانا جابر پولیس آفیسر ان کے بھائی خان بہادر کے لقب کے ساتھ ایس پی تھے۔ ماموں پولیس میں، اکثر چوروں کو ماریں پڑتی بڑے سکون سے دیکھتی…… یہ سارا ”قصہ“ سے سلوک اور ذات کے بیرونی خول کا وقت تھا۔ کسے فرصت تھی کہ ”اندر“ ”جھاتی“ مارے۔ دراصل جب انسان محبت لکھ رہا ہوتا ہے تب محبت اس کی زندگی سے عملاً ”کوچ“ کر چکی ہوتی ہے۔ ایک وقت میں یا وہ محبت کر سکتا ہے یا کچھ لکھ سکتا ہے۔ کیونکہ محبت خیال میں ڈھل کر یاد میں کہیں خوبصورت ہو جاتی ہے۔ جیسے منیر نیازی نے کہا؎
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی
یہ کہیں طے تھا کہ مجھے لکھنا ہے ماں کہتی رہتی اور میں رنگ برنگ دھاگوں کو کپڑے پر منقش کرتی رہتی‘ کوئی پھول کی پتی خوبصورتی سے کاڑھتی تو والدہ کہتیں لفظوں سے کڑھائی کرو میں کہتی لفظ اظہار کا سب سے کمزور وسیلہ ہیں۔ مجھے رنگ اچھے لگتے ہیں‘ وہ کچھ نہ کچھ اظہار کر پاتے ہیں مگر والدہ جو کہتی ہیں وہ ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ پھر لکھا؎
حکم ہے ان کو سوا لکھنے کا
یہ مقدر ہے مرے ہاتھوں کا
قلم تھاما گویا قیامت کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا…… میں کہاں لکھنے پر آمادہ تھی۔ 99ء میں والدین سے ایک ہی ماہ میں جدائی نے دعاؤں والے سارے مقام چھین لئے تو یاد آیا…… جسے بھولی ہوئی تھی‘ وہی پتلی نازک انگلیاں ان میں تھما قلم روایتی سگھڑ عورتوں کی طعنے بازی والدہ کے مختلف ہونے پر تنقید…… 
وہ گھر بار بے ربط چلاتی تھیں‘ ان سے کچھ سنبھلتا نہ تھا۔ آنکھیں محیر‘ حیران اور تخلیقی بوجھ سے ادھ کھلی تھیں مگر درمیانی کلاس کی تمام ”محبتیں …… روبرو تھیں۔ کئی شعر شاید انہیں دیکھتے ہوئے بعدازاں مجھ سے تحریر ہوئے؎
ہجوم غم تیری ترتیب کس طرح باندھوں 
کوئی بھی کاج کاج میرے ہاتھ سے سنورتا نہیں 
کھلا مجھ پر یہ کہ رقص و موسیقی اور پیروں میں گھنگھرو باندھ کر کرنسی کی جھنکار میں ناچنا بھی اس قدر بُرا کام نہیں جس قدر ”لکھنا“ کسی کو گراں گزر سکتا ہے…… ہزار بہانے‘ لاکھوں دلیلیں‘ انبار ملٹی‘ پاگل پن‘ معاشرے کا بگاڑ یہ سب عورت کے ”اظہار“ میں مضمر ہے۔ وہ تمام عورتیں نارمل ہیں جو نہیں لکھتیں ایک مخصوص طبقے کو میں نے دیکھا جو لکھنے والی عورتوں کے پیچھے لٹھ لیکر پڑا ہوا ہے۔
کالم نگاری چونکہ راس آئی تو بہت سا تخلیقی رس اس صنفِ سخن کی نذر ہو گیا مگر یہ تازہ ترین صنف موجودہ دور کا سب سے بڑا تقاضا تھی۔ اس میں پذیرائی ملی اور پیسہ بھی مگر جو سب سے بڑی دریافت حاصل ہوئی وہ نتیجہ خیز تجزیوں تلک رسائی تھی۔
یہ کھلا کہ لڑائی عورت مرد کے درمیان نہیں جھگڑا تہذیبوں کا ہے۔ کوئی تہذیب اپنی اس تہذیب پر حملہ ابتد ہی سے روک دیتی ہے جو اس کی طاقت میں کمی تک کا شائبہ محسوس کروائے اسے کونپل ہی سے اکھاڑ دیتی ہے۔ مرد عورت کو جب تک جوتا کپڑا خرید کر نہیں دے گا پاؤں کی جوتی کس طرح سمجھے گا۔ اب اگر کمانے والی عورتوں کا ذکر ہے تو وہ کما کر بھی اس مقام پر کیسے رکھی جا سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سی عورتوں کو دیکھا جن کے شوہروں نے ان کے شناختی کارڈ سے  لے کر انکی اسناد تک گروی رکھ کر پیسے بنائے۔ جب نوکریوں میں لائے تو بہت سے مردوں نے بیویوں کی تنخواہیں براہ راست بینکوں سے ڈرا کروانے کیلئے اے ٹی ایم کارڈ خود اپنے پاس رکھے۔ بیویوں کو خود دفاتر میں چھوڑتے‘ ان کی پے سلپ چیک کرتے‘ نوکری کروانے کو اپنی فراخ دلی اور آزاد خیالی پر محلول کرتے اور جانور کی طرح بیویوں کو آٹھ گھنٹے ہانکنے کے بعد ان کا معاوضہ اپنے اکاؤنٹ میں ڈال کر خود صبح بوٹ پالش کروا کر جاتے اور واپسی پر تازہ روٹی کا مطالبہ بھی۔ یہ تہذیب تھی جس میں مرد عورت کو اپنی کموڈٹی سمجھتا ہے‘ جہیز بھی لیتا ہے اور زرخرید والا سلوک بھی کرتا ہے۔ اپنا نام اور شناخت کا معاوضہ محکوم کے خون جگر کو جلا کر لیتا ہے۔
یہ سب مردوں کا طریقہ واردات نہیں۔ ایک طبقہ پھول خوشبو دیکر انہی مقاصد تلک پہنچتا ہے۔ ایک طبقہ جو استطاعت رکھتا ہے‘ وہ زیور‘ کپڑا لتہ دیکر عزت نفس کو خریدتا ہے‘ گالی باپ بھائی ماں کی دیکر زور اطلب لٹا ڈالتا ہے۔ اسے اپنی تسکین کیلئے درجہ بدرجہ جوتی گالی، کرنسی، دولت جو بھی استعمال کرنا پڑے کرتا ہے عورت کو لٹریچر ”بڑا“ ہونے کا کہہ کر صبر کی تلقین کرتا ہے مذہب ماں کے رتبے میں قدموں تلے جنت کہہ کر تمام عمر ”پیاں بہار“ رہنے پر صبر کہتا ہے مگر مرد کی جنت یہاں بھی اور وہاں بھی…… صوفیوں نے عورت بن کر دکھ کہا لکھا اور عظمت کو اس تذلیل میں رہ کر نسل نو پرورش کرنا بڑا پن کہہ دیا۔
حالت یہ کہ آج بھی دفاتر میں مرد چپڑاسی اور ڈرائیور ایک دوسرے کو عورت افسر کے ماتحت کام کرنے کا پر طعنے دیتے ہیں …… افسر مرد جو نہایت پڑھے لکھے ہوتے ہیں نوجوان کم عہدے پر آئی خواتین کو فقرے بازی میں کہتے ہیں، آپ اگر میرے نیچے کام کررہی ہوتیں تو میں آپ کی ترقی کروادیتا مگر آپ کی دوسرے شعبے کے اندر ہیں، یہ محض مثالیں ہیں …… جو اسقدر گھناؤنی ذومعنویت کے اندر ہیں مجھے سٹیج ڈراموں پر قدغن لگاتے ہوئے ہمیشہ یہ شرم دامن گیر ہوئی کہ یہ سٹیج گھر گھر لگی ہوئی ہے۔ دفتروں میں بھی وہی مرد آجاتے ہیں جو گھروں میں نوجوان نوکرانیوں کو کہتے ہیں …… مجھ سے مانگ لیا کرو جو چاہئے اپنی باجی سے نہ کہو…… باقی تو احاطہ تحریر میں لانا بھی ناممکن…… کیونکہ سٹیج ڈرامے اسقدر غلیظ نہیں ہوتے کہ ان کی پھر ریہرسل اور تین محکموں کی So Called چیکنگ ہوتی ہے…… حالانکہ ریہرسل میں ادکاراؤں کو دیکھنے کیلئے وزراء‘ امراء اور حاکم طبقے کے اراکین کو خصوصی اجازت ملتی ہے کہ وہ دوران ریہرسل ادکاراؤں، رقاصاؤں کو مل دیکھ سکیں نہیں تو پولیس کے چھاپے۔
یہ ہے معاشرہ جو شاید کالم نگاری بنا نظر نہ آتا اور یہ کبھی نہ بکتا کہ الزامات اور تہمتیں محض نیک اور شریف عورتوں پر بدمعاشی نہ کرنے کے جرم اور غصے میں لگائی جاتی ہیں۔
اس میں یہ حکمت عملی مدتوں تلک معمہ بنی رہی کہ قدرت نے انتقام کا عمل جس قدر سست کر رکھا ہے‘ انسانوں نے نہیں کیونکہ شرافت، نیکی اور کردار کی شکست عموماً صحت کی کمزوری، بیماری اور پیچھے رہ جانے کی صورت ہی نظر آئی۔ ڈھیٹ، خودسر، بیویوں کے سامنے عورتیں بیڈروموں میں لے جانے والے مردوں کو نہ کبھی کینسر ہوا نہ ہارٹ اٹیک‘ یہ سب کچھ ان کی پاکباز بیویوں کو ہوا اور ٹھمکتی رقاصائیں، طلاقیں کرواتیں خرانٹ عورتیں دس دس مردوں پر یکساں حکومت کرتی عورتیں رقص کی دھن پر مردوں سے نوٹ بھی لنڈھواتی رہیں اور صحت، حسن اور طاقت میں بھی ان کے کوئی کمی نہ آئی جبکہ مصلے پر بیٹھی عورت کو کم از کم اسی برس کی عمر میں تب کہیں جاکر مشروط لقب ”ماں جی“ ملا جب اس نے اپنے دانت نہیں لگوائے چہرہ درست نہیں کیا بڑھاپے کو قبل از وقت طاری کرلیا تو گزشتہ تہذیب کے تقاضوں کو راحت مل گئی‘ اس ہیّت سے متضاد عورتوں کو ”آنٹیاں“ کہا گیا۔ موجودہ دور کی تمام گالیوں پر سبقت لے جانے والا لفظ دور حاضر میں ”آنٹی“ بن گیا……
انٹرول کے بعد کی زندگی میں جو لفظ سب سے پہلے خارج ہوا وہ دوستی تھا جب دوستوں کو بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر واقعات سنانے پڑے کہ ………… کہیں ”کوٹ“ نہ ہوجائیں اور جب دوستوں نے روزی روٹی چھین لینے تک کی بھی کوششیں کیں تو سکول میں نرسری سے ساتھ پڑھی سہیلی کو ڈھونڈنا پڑا۔ ثمرینہ جس سے میں آج بھی روز مخاطب ہوتی ہوں۔
دوسرا بڑا فرق یہ تھا کہ زندگی مسلسل ”کٹہرے“ میں کھڑی ہو گئی۔ مجھ میں جب بھی انٹرول سے پہلے کی لڑکی زندہ ہوتی ہے تو میں کہتی ہوں ؎
کیسے کہانی درد کی میں بھول جاؤں گی
تجھ کو بھی اپنے ساتھ کٹہرے میں لاؤں گی
کیسے میں خود کو کچے گھڑے کی نذر کروں 
جو بن پڑے گا مجھ سے میں وہ کردکھاؤں گی
تیسرا جو سب سے بنیادی فرق اس دوسرے جنم میں دریافت ہوا وہ ہر رشتے 100 فیصد سے کم کی سطح پر تسلیم کرلینے کی مجبوری تھی‘ پہلے جنم میں کہتے تھے؎
مٹا ڈالے نہ جو اس غم پر سمجھوتہ نہیں کرتا
محبت میں مرا دل کم پر سمجھوتہ نہیں کرتا
مگر رشتے اور دوستیاں 30, 50, 60 فیصد پر جاکر تسلیم کرنا پڑیں یہ وہ خلاء ہے جو حقیقتاً انسان کو موت کے قریب کرتا ہے اور بے حسی رشتوں میں سرائیت کر کے آگے کے منظر بھی دکھاتی ہے جیسے میں دیکھ سکتی ہوں جو بزرگ بروقت نہیں مرتا نفرت اور ناروا سلوک کا شکار ہو جاتا ہے۔ اولادیں حج کروانے اور آنکھوں کے آپریشن کے بعد منتظر ہوتی ہیں کہ اب فراغت ہوجائے پیسے والے بزرگوں کے اور حالات ہوتے ہیں اورغریب بزرگوں کے اور یہ چونکہ منافق خطہ ہے یہاں بزرگوں کو آرام کا کہہ کر کاروبار کی مسند سے اٹھا کر مُصلے پر بٹھا دیا جاتا ہے جو بزرگ ٹی شرٹ پہن کر موت سے بھاگنے کیلئے جاگنگ کرتے رہتے ہیں‘ انہیں بیوئیاں کسی نہ کسی طریقے سے آڑے ہاتھوں لیتی ہیں ……
سب سے بڑا راز بھی کھلتا ہے کہ اوائل عمری میں ایک تو موت بڑی دور دور لگتی ہے‘ دوسرے موت کا خوف بھی ہوتا ہے، میں اکثر سوچا کرتی تھی وارث شاہ نے ”جیو کا روگ“ سے ہی کہا ہے زندگی کا الٹا گھڑیال بچے کی پہلی سانس ہی کے ساتھ چل پڑا ہے اور واقعتاً انسان کی اصل ڈپریشن اور اُداسی کی وجہ یہی ہے کہ وہ قطرہ قطرہ گھٹ رہا ہے‘ ڈھل رہا ہے‘ ختم ہو رہا ہے……
مگر جو آخری اور حتمی راز کھلا کہ ناروائی، نارسائی‘ لاچاری، کمزوری، بیماری اور تل تل مرتی جان اور پل پل ٹوٹتا دل ”موت“ کو اس کی محبوبہ اور نجات دہندہ بنا دیتا ہے……
٭٭٭
حافظ  محمدعمران
یہ کئی سال قبل کی بات ہے‘  موسم گرما تھا، میں  نوائے وقت کے چیف رپورٹر سکندر حمید لودھی کے گھر لنک شامی روڈ لاہور کینٹ سے ان کی صاحبزادیوں کو قرآن پڑھانے کے بعد دفتر واپس آرہا تھا۔ راستے میں ریلوے پھاٹک  تھا۔ ریل گاڑی کے گزرنے کا وقت تھا۔ پھاٹک بند تھا۔ گاڑیوں کی قطار تھی‘ لیکن سائیکل‘ موٹرسائیکل سوار اور پیدل چلنے والے اطراف سے جگہ ڈھونڈ کر ریلوے لائن عبور کرتے منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ ہم بھی جلدبازوں کی طرح رکنے اور پھاٹک کھلنے کا انتظار کرنے کے بجائے ایک طرف سے سائیکل اٹھائی‘ قانون توڑا اور ریلوے لائن کی طرف بڑھنے لگے۔ پھاٹک پر خاصی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ان کی تعداد دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ گاڑی قریب ہے اور ابھی چند منٹوں میں گزرے گی اور پھاٹک کھل جائے گا‘ لیکن ہمیں رکنے کی عادت کہاں ہے۔ گاڑیوں والوں کی تو مجبوری کہ وہ گاڑیاں اٹھا کر گزر نہیں سکتے ورنہ وہ بھی پیدل چلنے والوں اور سائیکل‘ موٹرسائیکل سواروں کی طرح چور راستوں سے نکل جائیں۔ ہم اپنی سائیکل اٹھا کر آگے چلنے لگے۔ دماغ بند ہو گیا تھا‘ آنکھیں بھی اچھی خاصی تیز نظر کے باوجود شاید دھندلا گئیں۔ تیز سماعت کے باوجود شاید کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ ہم آگے چلتے چلتے اس لائن کے قریب پہنچنے والے تھے کہ جہاں سے ریل گاڑی نے گزرنا تھا۔ نہ کچھ سنائی دے رہا تھا نہ دکھائی دے رہا تھا۔ دوسرے الفاظ میں ہم خود اپنی موت کی طرف بڑھ رہے تھے۔یہ بھی سوچا کہ سائیکل کیوں کندھوں پر اٹھارکھی ہے۔ ریل گاڑی کا انجن چنگھاڑتا ہوا آگے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ اگلے روز اخبار میں خودکشی کی ایک خبر شائع ہوتی‘ ایک شخص نے ہمیں زور سے بازو سے پکڑ کر روکا اور کہا کہ ”انھا ہو گیا ایں‘ مرنا ای‘ صبر کر لے۔“ اس شخص نے مجھے روکا‘ اسی اثناء میں ریل گاڑی دھڑ دھڑ کرتی اور انجن چنگھاڑتا ہوا گزر گیا۔ یوں بالکل موت کو میں نے ایک قدم کے فاصلے سے دیکھا۔ وہ شخص جس نے ہمیں روکا تھا‘ گاڑی گزرنے کے بعد کہیں نظر نہ آیا،یہ آج بھی میرے لئے ایک معمہ ہے۔ چند لمحوں میں زندگی اور موت کے درمیان ایک باریک سی لکیر کو انتہائی قریب سے دیکھا۔ آج بھی جب یہ واقعہ ذہن میں آتا ہے تو وہ سارے مناظر آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں۔ اس وقت میں سائیکل چلاتا تھا۔ آج اللہ کی رحمت سے گاڑی چلاتے ہوئے دفتر آتا اور روزمرہ کے معمولات ادا کرتا ہوں۔ آج بھی روزانہ سڑکوں پر درجنوں ایسے واقعات دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی سڑکوں پر پیدل چلنے والے انسانوں‘ سڑکوں پر اندھادھند چلنے والی موٹرسائیکلوں اور جان لیوا چنگ چی رکشوں اور مختلف روٹس پر ٹویوٹا ہائی ایس اور ہزاروں کی تعداد میں فراٹے بھرنے والی بے ربط چھوٹی بڑی گاڑیوں کو انسان چلا ہی نہیں رہے‘ ان کو قابو کئے ہوئے کوئی ان دیکھی طاقت‘ وہی طاقت جو زندگی اور موت کی مالک ہے‘ وہ رب العزت جس کے قبضہ قدرت میں ہماری جان ہے۔ اللہ سب کو حادثات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
٭٭٭

متعلقہ خبریں