قومی ایئرلائن غیر فعال ہونے قریب، پائلٹ خود ہی مستعفی ہونے لگے، وجہ انتہائی تشویشناک

2019 ,اگست 31



کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے کئی پائلٹس کام کے دباو کے باعث مستعفی ہوچکے ہیں۔ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ غیر سازگار ماحول کے باعث پی آئی اے کا ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے، رواں برس اب تک 8 پائلٹس مستعفی ہوچکے ہیں جبکہ کئی دیگر بھی اس آپشن پر غور کررہے ہیں جس کی وجہ ناقص پالیسیاں اور ائیرلائن کی فلائٹس شیڈول کا غیر منصفانہ ہونا ہے۔ مستعفی ہونے والے پائلٹس کا کہنا تھا کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے انہیں دباو میں کام کرنا پڑرہا تھا یا پھر انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے تھے۔دوسری جانب پی آئی اے انتظامیہ نے گھوسٹ اور جعلی ڈگریوں کے حامل 1100 سے زائد ملازمین کو برطرف کردیا، زیادہ تر ملازمین کی تعداد فلائٹ سروسز اور دیگر محکموں سے ہے۔تفصیلات کے مطابق پی آئی اے میں احتساب کا عمل جاری ہے، اس سلسلے میں ایک سال کے دوران1100سے زائد ملازمین کو نوکری سے فارغ کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جعلی ڈگریوں کے حامل700ملازمین کو فارغ کیا گیا۔اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے حامل ملازمین کی ڈگریوں کی جانچ کے عمل کے بعد انہیں فارغ کیا گیا،400سے زائد گھو سٹ ملازمین بھی شامل ہیں جو مختلف شعبوں سے فارغ کئے گئے۔ان میں سے زیادہ تر ملازمین کی تعداد فلائٹ سروسز اور دیگر محکموں سے ہے، بعض ملازمین جو عرصہ دراز سے غیر حاضر تھے انہیں بھی فارغ کیا گیا ہے، ملازمین کو قانونی اور ضابطے کی کاروائی کے بعد ملازمتوں سے فارغ کیا گیا۔ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ فلائٹ سروسز سے تعلق رکھنے والی بیشتر فضائی میزبان ایک سال کے دوران جو بیرون ملک سلپ ہوگئی تھیں انہیں بھی ضابطے کی کاروائی کے بعد فارغ کیا گیا ہے۔مذکورہ ملازمین کو اظہار وجوہ کے نوٹس اور شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے جس کا تسلی بخش جواب نہ دینے پر انہیں ملازمتوں سے فارغ کیا گیا ہے۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق زیادہ تر کیسز2018کے تھے جو عدم توجہ کا شکار تھے، موجودہ انتظامیہ نے احتساب کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد فارغ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزارت خزانہ کے ایڈوئزر حفیظ شیخ سے ملاقات کے دوران پی آئی اے کے سی ای او نے ملازمتوں سے متعلق بریفنگ بھی دی تھی۔ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ غیر سازگار ماحول کے باعث پی آئی اے کا ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے، رواں برس اب تک 8 پائلٹس مستعفی ہوچکے ہیں جبکہ کئی دیگر بھی اس آپشن پر غور کررہے ہیں جس کی وجہ ناقص پالیسیاں اور ائیرلائن کی فلائٹس شیڈول کا غیر منصفانہ ہونا ہے.مستعفی ہونے والے پائلٹس کا کہنا تھا کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے انہیں دباؤ میں کام کرنا پڑرہا تھا یا پھر انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے تھے۔پالپا کے صدر رضوان گوندل نے پائلٹس کو درپیش مسائل کے حوالے سے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل کو خط بھی لکھا تھا جس میں انہیں مسائل سے آگاہ کیا گیا تھا۔انہوں نے خط میں لکھا کہ پی آئی اے نے حال ہی میں فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (ایف ڈی ٹی ایل) میں تبدیلیاں کی تھیں جس کی وجہ سے پائلٹس کو شدید دباؤ میں کام کرنا پڑرہا ہے۔انہوں نے لکھا کہ یہ اضافی فلائٹس پالپا اور پی آئی اے میں 2011-2013 میں کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس نئی صورتحال میں پائلٹس کے آرام کیلئے مختص کردہ وقت انہیں نہیں دیا جارہا ہے جب کہ فلائٹس سے پہلے اور فلائٹس کے بعد پائلٹس کیلئے آرام کے دورانیے کی وضاحت ان کے روسٹر میں بھی نہیں کئی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں