یہ ابا جی کی سروس کا آخری دن تھا۔

2017 ,جولائی 10

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



یہ ابا جی کی سروس کا آخری دن تھا ۔ گھر سے وہ سرکاری گاڑی پر ڈرائیور کے ہمراہ دفتر گئے اور معمول کی ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے ۔ عملی طور پر وہ ایک ہفتے سے اپنی جگہ چارج لینے والے آفیسر کو کام سمجھا رہے تھے ۔ ان کے مزاج کا علم تھا اور اندازہ تھا کہ وہ چارج کے ساتھ ہی مراعات بھی دفتر چھوڑ آئیں گے سو اس روز میں نے اپنے دفتر سے چھٹی لے رکھی تھی ۔ دوپہر انہیں فون کیا کہ کتنے بجے لینے آئوں تو کہنے لگے : تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ، میرے چپڑاسی نے اسی طرف آنا ہے وہ موٹرسائیکل پر مجھے ساتھ لیتا آئے گا ۔

کچھ دیر بعد انہوں نے گھر فون کیا کہ دفتر کے کچھ ساتھی ساتھ آ رہے ہیں لہذا کھانے کا اہتمام کر لیں ۔ ہمیں اس روز کی جو داستان معلوم ہوئی اس نے میرا ایمان اور بھی مضبوط کر دیا ۔ اس روز ابا جی نے چارج چھوڑنے کے بعد سرکاری گاڑی کی چابیاں جمع کروائیں اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے کمرے سے باہر آ گئے ، اپنے سٹاف سے گلے ملنے کے بعد جب مرکزی گیٹ کی جانب جانے لگے تو ان کی جگہ تعینات ہونے والے جونیئر آفیسر نے حیرت سے سوال کیا : سر آپ کی گاڑی نہیں آئی ؟

عموما ڈرائیور گاڑی بلڈنگ کے دروازے پر لے آتا تھا ، اس روز پہلی بار والد محترم پیدل مرکزی دروازے کی جانب جا رہے تھے ۔

ابا جی نے کہا : بیٹا میری سروس ختم ہو چکی ہے ۔ میں اپنا چارج چھوڑ چکا ہوں اور ساتھ ہی اس پوسٹ سے جڑی تمام سہولیات بھی، اب وہ گاڑی آپ کی ہے اور میرا ڈرائیور آپ کو گھر چھوڑنے جائے گا، مجھے چپڑاسی موٹر سائیکل پر چھوڑنے جا رہا ہے ۔

بتانے والے نے بتایا کہ وہ آفیسر باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا ۔ کہنے لگا : سر جوتے مار لیں لیکن اس طرح ذلیل نہ کریں ۔

ابا جی بضد تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ ایسی کسی مراعات کے حق دار نہیں جو اس کرسی کے ساتھ جڑی تھیں ۔ ابا جی کی جگہ تعینات ہونے والا آفسر اسی وقت بھاگم بھاگ اپنی گاڑی نکال لایا ، کہنے لگا سر آج ڈرائیور کی سیٹ پر میں بیٹھوں گا اور آپ کو گھر تک چھوڑنے جائوں گا ۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ اس طرح چپڑاسی کے ساتھ بیٹھ کر گھر جائیں ۔

دفتر کے باقی افسران نے بھی اپنی گاڑیاں نکالیں اور سبھی والد محترم کے ہمراہ گھر تک آئے ۔

یہ ابا جی کی ریٹائرمنٹ کا آخری دن تھا ۔ ہمیں یہی معلوم تھا کہ وہ واپسی پر سرکاری گاڑی دفتر چھوڑ آئیں گے اور چپڑاسی کے ہمراہ یا رکشہ میں گھر لوٹیں گے ۔ والدہ نے ایک آدھ بار کہا تھا کہ جس شخص کو سروس کے دوران ڈرائیور سرکاری گاڑی میں دفتر لیجاتا اور واپس لاتا ہو وہ آخری دن یوں رکشے میں واپس لوٹے تو جانے کیا احساسات ہوں ،سو آج ان سے اس بارے میں زیادہ بات نہ کرنا ۔

ابا جی واپس لوٹے تو میں نے والدہ سے کہا : آج تک وہ ڈرائیور کے ہمراہ آتے تھے ، آج سروس کے آخری دن خدا اس احترام سے لایا ہے کہ ڈرائیور کی جگہ آفیسر بیٹھا ہے اور آگے پیچھے آفیسرز کی گاڑیوں کا قافلہ ہے ۔

ابا جی کہا کرتے ہیں ، میں عہدوں کے پیچھے نہیں بھاگا اور نہ ہی ناجائز دولت کمانے کی کوشش کی ہے ۔ میں نے صرف عزت کمائی ہے کیونکہ رزق کا وعدہ خدا نے کر رکھا ہے ، وہ یا تو میری ضروریات بڑھنے ہی نہیں دیتا یا پھر ضرورت کے مطابق رقم بھی مہیا کر دیتا ہے ۔ میں نے محنت سے سائیکل اور موٹر سائیکل سے گاڑی تک کا سفر طے کیا لیکن مجھے گاڑی سے واپس موٹر سائیکل یا پیدل چلنے تک کے سفر میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے ۔ میری پہچان ایمانداری ہے اور یہ مان ہے کہ جس رب کی رضا کے لئے میں نے ایمانداری کو اپنائے رکھا وہ مجھے ذلیل نہیں ہونے دے گا ۔ سچی بات یہ ہے کہ اللہ نے بھی کبھی ابا جی کی عزت میں کمی نہیں آنے دی ۔ ان کی سروس کا یہ آخری دن بھی اسی کی مثال ہے۔۔۔۔۔

(سید بدر سعید)

متعلقہ خبریں