اس سے پہلے کہ بے بسی۔۔۔

2022 ,جون 5



تحریر: فضل حسین اعوان۔۔۔۔۔ امریکہ کے 35 ویں صدر جان ایف کینیڈی نے اپنی اہلیہ جیکولین کے ساتھ 1961ء میں 31 مئی سے تین جون تک فرانس کا دورہ کیا۔ اُس وقت کینیڈی کی عمر 44 اور جیکولین کی 32 سال تھی۔ اس دورے کا کلائمیکس نوجوان جوڑے کے اعزاز میں ورسائی میں دیا جانیوالا سٹیٹ ڈنر تھا۔ اس ڈنر کی خاص بات یہ تھی کہ نوجوان امریکی صدر کینیڈی اور 71 سالہ فرانسیسی صدر ڈیگال کے درمیان مترجم کے فرائض جیکولین نے ادا کئے۔ اسے فرنچ زبان پر مکمل عبور حاصل تھا… ایک موقع پر فرانسیسی خاتون اول نے صدر کینیڈی کی گھڑی کی تعریف کی تو کینیڈی نے گھڑی اتار کر یونے ڈیگال کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ہم امریکیوں کی روایت ہے کہ میزبان کو کوئی چیز پسند آ جائے تو اسے گفٹ کر دیتے ہیں۔ اس مکالمے سے ڈیگال نے محظوظ ہوتے ہوئے کینیڈی سے کہا، مسٹر پریذیڈنٹ آپ کی اہلیہ بڑی خوبصورت ہیں! صدر کینیڈی کاسود خوروں نے 22 نومبر 1963ء کو قتل کرا دیا۔ جیکولین کو جوانی میں بیوگی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ 1968ء میں جان ایف کینیڈی کے بھائی رابرٹ کینیڈی کو بھی قتل کر دیا گیا تو جیکولین کو اپنی اور بچوں کی سکیورٹی کی فکر لاحق ہوئی اس نے امریکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اوراُُس دور کے دنیائے جہازرانی کی صنعت کے ٹائیکون یونان سے تعلق رکھنے والے ارسطو اوناسس سے شادی کر لی۔ اوناسس کی عمر اُس وقت 68 سال تھی۔ اس نے شادی پر جیکولین کو تین ملین ڈالر اور اس کے دونوں بچوں کو ایک ایک ملین ڈالرتحفہ میں دئیے۔ ارسطو اوناسس جس کی دولت کا خود اسے اندازہ نہیں تھا۔ آخری عمر میں اس کی آنکھوں پر اوپر سے ماس ڈھلک آیا تھا۔ کچھ بھی دیکھنے کے لئے اسے آنکھیں ہاتھ سے کھولنا پڑتی تھیں۔ اس سے کسی نے سوال کیا کہ اس قدر دولت رکھنے کے باوجود کوئی ایسی خواہش جو بدستور ہے؟ اس پر اوناسس کی آواز بھرائی اور آنکھوں کے اوپر چڑھے گوشت کے دبیز پردوں کے کسی کونے سے آنسوؤں پتلی سی لکیر نمودار ہو کر رخسار پر آ گئی۔ اس نے کہا ”میری خواہش ہے کہ میں آنکھیں جھپک سکوں“۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا ”اس کے عوض آپ کیا دے سکتے ہیں“ تو اوناسس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا ”آدھی دولت بلکہ اس سے بھی زیادہ“۔ اوناسس کی بیماری بہت بڑی نہیں تھی۔دولت کی حدود کنار نہ رکھنے والے لوگ اس سے زیادہ شدید اور سنگین بیماریوں کا شکار ہوکر ایڑیاں رگڑتے دیکھے جا سکتے ہیں۔انسان ہیرے جواہرات سے مرصع کروڑوں روپے کا پلنگ خرید سکتا ہے تختِ طاؤس بنوا سکتا ہے۔ اطلس حریر کے بستر لگوا سکتا ہے لیکن نیند نہیں خرید سکتا۔ بڑا دولت مند ہو گا تو نایاب ادویات تک دسترس پا لے گا،بہترین ڈاکٹروں تک رسائی حاصل کر لے گا بڑا ہسپتال خریدنے کی استطاعت بھی ہو سکتی لیکن صحت قیمتاً نہیں مل سکتی۔ فرعون کی جنت جیسی کئی نے جنتیں بنا لیں مگر ان میں قدم رکھنا نصیب نہ ہوا۔ جائیدادیں بے شمار، دولت کے انبار اندرونِ و بیرونِ ملک اکاؤنٹس کی بھرمار مگر کیا گارنٹی کہ ایک روپیہ بھی استعمال کرنا مقدر میں ہو۔ بل گیٹس کے اثاثوں کی مالیت 80 ارب ڈالر سے زائد ہے۔وہ فلاحی رفاعی اور سماجی کاموں کے لئے 29 ارب ڈالر کے عطیات دے چکا ہے۔اس نے اولاد کے لئے صرف اتنا حصہ مقرر کیا ہے جس سے آسانی سے زندگی بسر کی جا سکے باقی فلاحِ انسانیت کے لئے وقف کر دیا ہے۔ ایک بل گیٹس سے بھی بڑا کام کرنے والا نام ہے جس کا تعلق پاکستان سے ہے۔محمد علی جناح،بانیئ پاکستان،قائد اعظم نے اپنی ساری جائیداد پاکستان کے نام کردی تھی۔آج ہماری ملکی معیشت زبوں حال ہے۔قرضوں کا نہ سنبھلنے والا بوجھ ہے۔قارئین!آپ بالکل درست اس کے ذمہ دار کا تعین کرسکتے ہیں۔ملکی وسائل کو بیدردی سے لوٹنے والے چہرے بھی عیاں ہیں اور یہ ہر پارٹی،ہر طبقے اور گروہ و گروپ میں پائے جاتے ہیں۔ان کے قد اتنے طویل ہیں کہ قانون کے ہاتھ انکے گریبان تک نہیں پہنچ سکتے۔توفیق باللہ یہ "قرض" لوٹا دیں تو آج حکومت کو پٹرول مزید مہنگا نہیں کرنا پڑے گا۔مہنگائی کا دندناتا بھوت میں بوتل میں بند ہوجائے گا۔ آخر میں ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے جس سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح بیرون ممالک فول پروف طریقے سے اکاوئنٹس کھلوائے اور پیسے چھپائے جاتے ہیں: نائیجیریاکاانقلابی ثانی اباچا جرنیل بنا تو بغاوت کر کے تخت نشین ہو گیا اور سر پر تاج سجاتے ہی کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی مہم شروع کر دی۔ سوئٹزر لینڈ کے بنک ان دنوں بھی سیکرٹ اکاؤنٹ کی شہرت رکھتے تھے۔ انکے کھوج میں اباچا خود سوئٹزر لینڈ جاپہنچا۔ وہاں وہ ایک بڑے بینک کے ہیڈ سے ملا، اسکے سامنے اباچا نے اپنا نوبل کاز رکھا، اسکا مطالبہ تھا: بینک اسے اس کے وطن کو لوٹ کر جہاں رقم رکھنے والوں کی تفصیلات سے آگاہ کرے۔ ہیڈ نے بنک قانون کیمطابق کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔ اباچا کی سرتوڑ کوشش پر بنک افسر مان کر نہ دیا۔ صدر نائیجریا نے اسے برآمد ہونیوالی رقم سے خاصا حصہ دینے کی پیشکش کی مگر بے سود۔ سیدھی انگلیوں سے گھی نکلتا نہ دیکھ کر اباچا کے تیور بدل گئے۔ اس نے اچانک اپنی جیب سے سمارٹ پسٹل نکال کر اسکی کن پٹی پر رکھ دیا۔ اب بنک افسر کے چہرے پر موت کا خوف عیاں اور بدن پر لرزا نمایاں تھا مگر وہ منہ کھولنے پر تیار نہ ہوا۔ اباچا نے آخری حربے کے طورکہا کہ وہ دس سے ایک تک الٹی گنتی گنے گا اگر اس نے زبان نہ کھولی تو شوٹ کرنے سے گریز نہیں کرونگا۔ اباچا نے کاؤنٹ ڈاؤن شروع کیا… 5 چار تین دو کہنے تک افسر کا وجود چہرے سمیت پسینے سے شرابور تھا‘ اسے یقین ہو چلا تھا کہ اباچا ایک کہنے کے ساتھ ہی شوٹ کر دیگا۔ ”ایک“ بھی اباچا نے کہہ دیا مگر بیدِ مجنوں کی طرح تھرتھراتے افسر کی زبان میں لغزش نہ آئی۔ اسکے بعد جو ہواتعجب خیز تھا۔ اباچا نے آہستگی سے پسٹل کی لبلبی سے انگلی ہٹائی، پسٹل کو جیب میں رکھا اور اپنے ساتھ آئے سیکیورٹی ایڈوائزر اسمٰعیل گوارزو کو اندر طلب کیا جس نے آتے ہی ایک فائل اور بیگ ٹیبل پر رکھا۔ اباچا نے بنک افسر سے کہا۔ ”میرا آف شور اکاؤنٹ کھولو‘ اس بنک سے زیادہ کہیں بھی سیکرٹ اکاؤنٹ نہیں ہو سکتا“۔

متعلقہ خبریں