ٹرمپ کی مسلم دشمن مہم پاکستانی واپس آنے لگے

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 19, 2016 | 12:06 شام

 

 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وطن اور اپنی اقدار سے محبت کی اعلی مثال میں کئی سال سے امریکہ میں رہائش پذیر پاکستانی سائنسدان نے انکل سام کا دیس ہی چھوڑ دیا۔ یہ کہانی دیار غیر چھوڑ کر اپنی سرزمین پر لوٹنے والے ذیشان الحسن عثمانی کی ہے جو 10سال سے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں رہائش پذیر تھے، وہیں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے،اس کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب ذیشان عثمانی کے سات سالہ بیٹے عبدالعزیز کو اس کے سکول میں اس کے کلاس فیلو ز نے ایسا کھانا کھانے پر مجبور کیا جو

حلال نہیں تھا۔انکار پر عبدالعزیز کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، اس کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی اور مسلمان،مسلمان، پکارتے ہوئے کلاس فیلوز اس پر تشدد کرتے رہے۔

 

 

 

 

 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وطن اور اپنی اقدار سے محبت کی اعلی مثال میں کئی سال سے امریکہ میں رہائش پذیر پاکستانی سائنسدان نے انکل سام کا دیس ہی چھوڑ دیا۔ یہ کہانی دیار غیر چھوڑ کر اپنی سرزمین پر لوٹنے والے ذیشان الحسن عثمانی کی ہے جو 10سال سے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں رہائش پذیر تھے، وہیں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے،اس کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب ذیشان عثمانی کے سات سالہ بیٹے عبدالعزیز کو اس کے سکول میں اس کے کلاس فیلو ز نے ایسا کھانا کھانے پر مجبور کیا جو حلال نہیں تھا۔انکار پر عبدالعزیز کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، اس کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی اور مسلمان،مسلمان، پکارتے ہوئے کلاس فیلوز اس پر تشدد کرتے رہے۔

امریکی اخبار کو انٹرویو میں ذیشان عثمانی کے مطابق عبداللہ امریکہ میں پیدا ہوا، وہاں کا نیشنل ہے، وہ کیپٹن امریکہ کو پسند کرتا ہے،امریکہ کا صدر بننا چاہتا ہے لیکن اس ایک واقعہ نے سب کچھ بدل دیا،پھر عثمانی اور ان کی اہلیہ بینش نے امریکہ کو مسلمانوں کے لئے غیر محفوظ خیال کرتے ہوئے پاکستان لوٹنے کا فیصلہ کیا اور پیر کی رات اسلام آباد پہنچ گئے۔اپنے انٹرویو میں امریکی ایوارڈ جیتنے والے کمپیوٹر سائنسدان ذیشان عثمانی نے کہا کہ بڑا ڈیٹا استعمال کرکے دہشتگرد حملوں سے زندگیاں بچانے والے کی حیثیت سے ان کے لئے یہ دل توڑ دینے والا واقعہ ہے۔ عثمانی نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ان کا بیٹاشدید غصے میں تھا،کیونکہ انہوںنے اس کے باپ کو بھی دہشتگرد کہہ کر پکارا تھا۔ذیشان عثمانی کے مطابق اس واقعہ کے بعد ان کی بیوی نے عبدالعزیز کو سکول جانے سے روک دیا ۔یہی وہ وقت تھا جب عثمانی کا بڑے(چودہ سالہ) بیٹے نے ایک کلاس فیلو کو چاقو لیکر سکول میں گھومتے دیکھا۔ جب عثمانی کا بیٹا چاقو لیکر گیا تو اسے ”آئی ایس،آئی ایس اور دہشتگرد“ کہہ کر پکارا گیا پھر سکول انتظامیہ نے اسے چھ ماہ کے لئے معطل کردیا۔ یہ تجربہ ان کے بیٹے کے لئے بہت ہی تلخ تھا کیونکہ وہ شروع دن سے اسی سکول میں ہی گیا تھا۔

ذیشان عثمانی کے مطابق ایک سال پہلے ان کے ایک ہمسائے نے بھی انہیں ہراساں کیا تھا اور ان کی بیوی کو دھمکیاں دی تھیں۔عثمانی کے مطابق وہ ہمسایہ دو بار ان کے اپارٹمنٹ میں رات کے وقت گھسا اور دھمکا کر امریکہ میں رہنے کا ”طریقہ“ بتاتا رہا۔اپنی گفتگو میں اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کی خواہش ہے کہ وہ انہیں امریکہ سے نکالنے کے لئے ری پبلکن امیدوار کووٹ دے۔ذیشان عثمانی نے اپنے انٹرویو میں ایسے ہی کچھ اور واقعات بھی بتائے،ان کے مطابق انہی واقعات نے انہیں امریکہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔