ایک ایسا حادثہ جس نے میری زندگی ہی بدل دی

2019 ,اکتوبر 28



ڈاکٹر وسیم راشد ایڈیٹر چوتھی دنیا  انڈیاہیں 
کبھی کبھی زندگی میں کچھ ایسا ہو جاتا ہے جو وقتی طور پر تو بہت دکھ دیتا ہے اور اس وقت ہم خدا سے نا امید بھی ہو جاتے ہیں شکوہ بھی کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اب زندگی ختم ہے، لیکن وہ حادثہ ہماری پوری زندگی بدل دیتا ہے۔
ایسا ہی ایک حادثہ میرے ساتھ ہوا میں ہندوستان کے دل دلی کی رہنے والی ہوں پرانی دلی کے ایک باعزت اور با اثر خاندان سے تعلق رکھتی ہوں میرے دادا میرے والد اور میرے چچا تایا سب اونچی پگڑی والے بے حد معزز اور مہذب خاندان سے ہیں ایسے ہی ایک گھر میں میری پیدائش ہوئی، بہن بھائیوں میں میرا نمبر چھٹا تھا گھر کے حالات میرے والد کی طویل بیماری کے سبب بے حد خراب تھے، حالانکہ سب بہن بھائی پڑھ رہے تھے کیونکہ میری والدہ بے حد سلجھی ہوئی اور باشعور خاتون تھیں جن کو تعلیم کی اہمیت و افادیت کا بخوبی علم تھا میری تعلیم سرکاری سکول میں ہوئی اور سکالر شپ پر یونیفارم اور کتابیں سب کچھ مجھے سکول سے ملا کرتا تھا میں نے سکول کی پوری تعلیم سکالر شپ پر مکمل کی اور پھر کالج میں داخلہ لیا۔ کالج میں بھی میری پوری تعلیم کا خرچ سکالر شپ سے پورا ہوا اور بی اے کے بعد بی ایڈ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میرا داخلہ ہوا۔ میں سکول ٹائم سے ہی بے حد بولڈ، اکیٹو تھی اور تعلیم و ثقافتی دلچسپیوں میں بھی خوب حصہ لیتی تھی۔

اسی طرح کالج میں بھی میری سرگرمیاں اسٹیج اور تعلیم کے درمیان چلتی رہیں بی ایڈ کا نتیجہ بھی نہیں آیا تھا کہ میں نے نوکری کی تلاش شروع کر دی اور ایک انگریزی میڈیم سکول میں جہاں واک ان انٹرویو تھا میں بھی پہنچ گئی، وہ سکول مڈل سکول تک تھا لیکن سیکنڈری سکول بننے والا تھا۔ سلیکشن کمیٹی میں کافی لوگ تھے سبھی مجھ سے سوال پوچھ رہے تھے میں بہت ہی سکون اور ہمت سے جواب دے رہی تھی حالانکہ اس پوسٹ کے لئے بہت ہی سینئر اور عمر دراز لوگ بھی آئے تھے لیکن خوش قسمتی سے میرا انتخاب ہو گیا۔ 720 روپے میری تنخواہ طے پائی اس وقت چونکہ سکول تسلیم شدہ نہیں تھا اسی لئے اساتذہ کی تنخواہیں ان کی قابلیت کے حساب سے طے ہوتی تھیں، میرے ساتھ ہی ایک سائنس کی امیدوار بھی تھیں ان کی اور میری تنخواہ برابر تھی،  میں نے اس سکول میں تقریباً 19 سال نوکری کی ان سالوں میں سکول Recognised بھی ہو گیا تھا اور دلی میں بہت مشہور بھی۔ میں صدر شعبہ اردو بھی تھی اور میرے پورے شعبہ میں تقریباً 6 دوسرے اساتذہ بھی تھے جس میں سب مرد تھے، میں اس سکول کی تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں کی انچارج بھی رہی، سکول کا میگزین بھی میری ادارت میں نکلنے لگا تھا۔ بے شمار ایوارڈ، انعامات طالب علم جیت کر لاتے تھے۔ خود مجھے بھی دلی اردو اکادمی کا بہترین استاد کا انعام ملا۔ سکول کا بھی بہترین استاد کا انعام ملا، ریاست کا بھی بہترین استاد کا انعام ملا، اس سکول میں جب پرنسپل کے عہدے کی جگہ خالی ہوئی تو میں سب سے سینئر اور کوالیفائیڈ ہونے کی وجہ سے پوری طرح حقدار تھی لیکن میرے ساتھ زیادتی ہوئی اور ایک معمولی سی نرسری کی ٹیچر کو جو انتظامیہ کو جانے کیوں بہت عزیز تھی پرنسپل بنا دیا گیا تب مجھے احساس ہوا کہ سکول میں کبھی آگے نہیں بڑھ پاؤں گی تو میں نے اس کی دوسری سسٹر برانچ میں پرنسپل کا انٹرویو دیا اور تقریباً 50 امیدواروں میں سے میرا سلیکشن بھی ہو گیا۔ مجھے استعفیٰ دے کر جانا پڑا، میں نے سسٹر برانچ کے منیجر سے کہا کہ میں سب کشتیاں جلا کر آپ کا سکول جوائن کروں گی۔ انہوں نے مجھے بھروسہ دیا کہ نہیں آپ بہت قابل امیدوار ہیں۔ آپ کو ہم سڑک پر نہیں چھوڑیں گے اور کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ اسی امید اور بھروسے پر میں نے سکول جوائن کیا اور بس شاید وہی میری زندگی کا سب سے بدترین دن تھا جب میں نے اپنی 19 سال کی نوکری کو خیرباد کہہ کر بہتری کی امید کے ساتھ نئے ماحول میں قدم رکھا تھا لیکن میں بھول گئی تھی کہ دونوں سکول کے سربراہان دونوں انتظامیہ ایک جیسے تھے اور ان لوگوں نے مجھے 2 مہینے بھی کام نہیں کرنے دیا اور انہوں نے مجھے استعفے دینے کے لئے مجبو رکر دیا۔ پورے 19 سال 8 مہینے میں وہ دن میری زندگی کا سب سے برا درد ناک اور تکلیف دہ تھا جب میں سڑک پر کھڑی تھی نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔
میں نے بہت ہی ہمت و حوصلہ کے ساتھ وہ وقت گزارا بس اپنے رب سے رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتی تھی، اس کو گریہ و زاری سے یاد کرتی تھی نہ کسی کو کوئی بددعا نہ کسی سے شکایت، شاید میرے رب کو وہ میرا صبر میری تکلیف میرا حوصلہ بھا گیا کہ اسی نے مجھے ایک ایسے ادارے میں پہنچا دیا جہاں 20 سال بعد مجھے اپنا پورا Profession ہی بدلنا پڑا اور میں بہتر تنخواہ پر جرنلزم میں داخل ہو گئی اور ایک استانی کو صحافی بنانے والے برے لوگ تھے موقع شناس تھے ظالم تھے لیکن ایک نئی راہ دکھانے والا میرا رب جانتا تھا کہ اس نے وہ اسباب پیدا کئے جس سے میں اس شعبے میں داخل ہو گئی جو میری برسوں کی خواہش تھی لیکن مالی پریشانیوں اور لگی لگائی نوکری کی خواہش میں اسے پورا نہیں کر پائی تھی۔ وہ میری زندگی کا بہت ہی خوش نصیب دن تھا جب میں ایک اردو اخبار کی مدیر بن گئی اور اب سے 8 سال پہلے جو سفر شروع ہوا اسی پر روز بروز میں الحمدللہ آگے بڑھ رہی ہوں میں نے کبھی واپس مڑ کر نہیں دیکھا میرا اخبار، چوتھی دنیا اس وقت عروج پر ہے خوبصورت رنگین اخبار نہ صرف میرے ذوق و شوق کی تسکین بلکہ میری سیاسی قابلیت کو بھی بڑھا رہا ہے۔ میرے اخبار کے مدیر اعلیٰ محترم سنتوش بھارتیہ کو جانے کیسے میری قابلیت پر بھروسہ ہو گیا کہ انہوں نے پورا اخبار ہی مجھے سونپ دیا۔ آج سوچتی ہوں کہ پرانے سکول کی انتظامیہ میرے ساتھ اتنا برا سلوک کرتی نہ پرانے سکول کی پرنسپل کا دکھ مجھے توڑتا نہ نئے سکول کی انتظامیہ مجھے دھوکہ دیتی نہ میں صحافت ی دنیا میں قدم رکھتی۔
آج اللہ کا شکر ہے کہ میں ہندوستان کی پہلی خاتون اردو مدیر ہوں اور ساتھ ساتھ دنیا کے سفر بھی کر رہی ہوں۔ گھوم پھر رہی ہوں، شاعری بھی میری روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ جو سفر 720 روپے سے شروع ہوا تھا آج کئی گناہ بڑھ چکا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے حق کی راہ پر رکھے اور کبھی کسی کا برا نہ سوچوں چاہے کوئی کتنا بھی برا کیوں نہ کرے۔ بس وہ لمحہ میری زندگی کا Truning Point تھا۔ جس نے آج مجھے نئی راہ نئی جہت، نئی سوچ، نئی فکر عطا کی ہے۔

متعلقہ خبریں