فرشتوں نے زمین پر کیا دیکھا؟

2017 ,جون 10




لاہور (سید اسامہ اقبال)دوفرشتوں ہاروت اورماروت کواللہ تعالی ٰ نے زمین پرانسان بناکربھیجا۔اوران فرشتوں کاذکرسورة بقرہ میں بھی آیاہے۔اللہ تعالی ٰ نے آسمانی دنیاکے پردے ہٹادئیے اورفرشتوں نے زمین پردیکھا۔فرشتے کیادیکھتے ہیں کہ اہل زمین گناہوں میں مبتلاہیں ان میں شراب نوشی ہے زناہے جھوٹ اورقتل وغارت گری ان میں عام ہے توفرشتوں نے یہ نظارہ دیکھ کراللہ تبارک وتعالیٰ سے شکایت کی کہ ان لوگوں کوتوزمین پرعبادت واطاعت کے لیے بھیجاگیاتھااوران کی حالت یہ ہے کہ یہ گناہوں میں مبتلا ہیں اورآپ ان کی پکڑ بھی نہیں کرتے فرشتو ں کوانسانوں کے اعمال سے بیزاری ہوئی اورانہوں نے انسانوں کے حق میں بدعاکی۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ میری ذات اہل زمین سے پردے میں ہے اس لیے ان پرمیراخوف کم ہے اور چونکہ تم ہروقت میرے پاس رہتے ہواس لیے تم پرجس درجے کی ہیبت ،خوف اورخشیت طاری ہے اس درجے کی انسانوں پرنہیں ہے۔لہٰذااس لیے انسانوں سے گناہ ہوجا تے ہیں۔ملائکہ کواس بات پراطمینان نہ ہواتواللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ ٹھیک ہے توفرشتوں میں سے پارسافرشتوں کوچن لومیں ان زمین پربھیجوں گاتودیکھوں گاکہ جب وہ میرے حجاب میں جائیں گے توان کے اعمال کیاہوں گے۔احادیث میں روایت ہے کہ ملائکہ نے تین فرشتے پیش کیے ان کواللہ تعالی ٰ نے فرمایاکہ تم نے 4کام زمین پرنہیں کرنے،ایک شراب نہیں پینا،دوسرازنانہیں کرنا،تیسراقتل نہیں کرنااورچوتھابتوں کوسجدہ نہیں کرنایہ چارشرائط ان پرلگائیں اوران کوزمین پراتارناچاہاتوایک فرشتے نے کہاکہ یہ مجھ سے نہیں ہوگامیں تونہیں جاتا۔
وہ ہٹ گیااورہاروت اورماروت یہ دوفرشتے تیارہوگئے یہ دونوں فرشتے ملائکہ میں بھی سب سے زیادہ عابداورزاہدفرشتے تھے۔اللہ تعالی ٰ نے ان کوزمین پراتاردیا۔حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت ادریس کازمانہ تھایہ فرشتے زمین پرآگئے ان میں اللہ تعالیٰ نے نفسانی خواہشات پیداکردیں اوران کولوگوں کے فیصلوں کے لیے مقررکردیالوگ ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے تھے ایک طویل زمانہ اس میں گزرگیایہاں تک کہ ایک دن ایک خاتون آئی وہ بہت حسین وجمیل تھی ،حضرت علی ؓفرماتے ہیں کہ اس کے حسن وجمال کایہ عالم تھاکہ جیساکہ زہرہ ستارہ تمام ستارو ں میں سب سے زیادہ خوبصورت ستارہ ہے وہ آئی اوراس نے اپنامسئلہ بیان کیاتوان فرشتوں میں اللہ تعالی ٰ نے جوشہوات ،نفسانی خواہشات رکھی تھیں ا س حسین وجمیل عورت کودیکھتے ہیں بھڑ ک اٹھیں اورخاتون کوبرائی کی دعوت دی اوراسے کہاکہ تم اپنابدن ہمیںپیش کروتواس خاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہے میرے پاس ایک بت ہے تم پہلے اس بت کوسجدہ کرو۔جب تم میرے دین کے ہم نواہوجاﺅگے تومیں تمہاری بات پوری کردوں گی انہوں نے کہاکہ ہماری توبہ یہ شرک ہم سے نہیں ہوگا۔وہ خاتون اتنی بات کہہ کرچلی گئی توایک طویل عرصہ جتنااللہ تعالیٰ کو منظور تھاخاموشی رہی اورا س کے بعدخاتون پھرآئی انہوں نے پھروہی بات کہی توخاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہے تم میرے شوہرکوقتل کروتومیں تمہاری خواہش پوری کروں گی۔توانہوں نے کہاکہ قتل توگناہ کبیرہ ہے یہ تونہیں ہوسکتا۔تواس خاتون نے کہاکہ اچھامیرے پاس شراب ہے تم لوگ شراب پی لو۔توانہوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ شراب توچھوٹی چیز ہے شراب پی لیتے ہیں اس سے کچھ نہیں ہوگا۔
ایک روایت میں آتاہے کہ یہ فرشتے اس کے گھرمیں پہنچ گئے۔وہاں جاکرانہوں نے شراب پی اورجب شراب پی تووہ مدہوش ہوگئے اوراسی دوران انہوں نے اس عورت سے صحبت بھی کی اوراس کوشوہرکواس ڈرسے قتل کردیاکہ کہیں اس کاشوہرمنہ نہ کھول دے اورلوگوں کومطلع نہ کردے اوراس بت کوسجدہ بھی کیا۔اللہ تعالی ٰ نے آسمان کے پردے کھول دئیے اورسارے ملائکہ یہ نظارہ دیکھ رہے تھے تووہ بڑے ششدررہ گئے اورکہاکہ یہ کیا ہو گیا توسارے فرشتے استغفارکرنے لگے اورکہاکہ یہ توخواہشات کانتیجہ ہے اورجب کوئی حجاب میں چلاجائے توایساہوتاہے۔
 تواس خاتون نے ان فرشتوں سے کہاکہ تم لوگ جوآسمانوں پرآتے جاتے ہویہ کس وجہ سے جاتے ہوکیاچیز تمہارے پا س ہے توانہوں نے کہاکہ ہمارے پاس اسم اعظم ہے تواس عورت نے کہاکہ مجھے بھی اسم اعظم دواورمجھے بھی آسمانوں پرلے چلو،فرشتے اس خاتون کوبھی ساتھ لے کرچلے گئے جب آسمان پر پہنچے توزہرہ کوتواچک لیاگیااوران فرشتوں کے پرکاٹ کرانہیں زمین پرپھینک دیاگیا۔ایک عرصے تک یہ پھرتے رہے اورانہیں پتاچلاایک نبی ہے جوجمعے کے جمعے دعاکرتے ہیں وہ قبو ل ہوتی ہے انہو ں نے سوچاکہ اس نبی کے پاس جاکرہم دعاکراتے ہیں شایدہماری توبہ قبول ہو جائے توجب یہ نبی کے پاس پہنچے توانہوں نے کہاکہ اللہ تعالی ٰ کی طرف سے تمہیں دواختیاردئیے گئے ہیں کہ تم لوگ دنیا کاعذاب برداشت کرو یا آخرت کا۔ توانہوں نے آپس میں مشورہ کیااورکہاکہ دنیاتوفانی ہے ہم دنیاکاعذاب برداشت کرلیں گے۔ایک روایت میں آتاہے کہ بابل کاعلاقہ جوکہ عراق میں ہے وہاں ایک کنوئیں کے اندرانہیں الٹالٹکادیاگیاہے توقیامت تک اسی میں لٹکے رہیں گے جبکہ بعض روایات میں آتاہے کہ آسمان اورزمین کے درمیان ایک مقام ہے وہاں ان کوبطورسزاکے الٹا لٹکا دیا گیاہے۔
 

متعلقہ خبریں