اپریل فول کی حقیقت

2017 ,مارچ 31



ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسی اخلاقی وبائیں اور غلط رسمیں ہیںجو مغرب کی تہذیب یافتہ یہودیوں کی دین کی ہیں ،اسی قسم کی خرافات اور ،خلاف ِمروت اور خلاف تہذیب جاہلیت کی ایک چیز اپریل فول بھی ہے ۔ہماری جدید نسل بھی خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ اسے نہایت اہتمام اور گرم جوشی سے مناتا ہے اور اپنے اس فعل کو عین عبادت خیال کرتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مغرب خصوصاً اہل یورپ افرادِ معاشرہ کے ساتھ عملی مذاق اور دوسروں کوبے وقوف بنانے کی غرض سے ایک مخصوص دن میں یہ تہوار مناتے ہیں ۔
اپریل فول کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟اس سلسلے میں مختلف تاریخی روایات ہیں ۔اس کا آغاز یورپ کے سیکولر اور روشن خیال ماحول سے ہو ا اور اب دنیا کے تقریباً سبھی ممالک اس رسم بد میں شریک ہیں ،یہود و نصاریٰ کیا آج کے مسلمان اس زہر آلود رسم کو منانے اور اور عملی طور پر اس کا اظہار کرنے میں مصروف ہیں ۔
اپریل لاطینی زبان کے لفظ اپریلیس یااپریرسے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے پھولوں کا کھلنا ،کونپلیں پھوٹنا۔۱۵۰۸؁ء سے ۱۵۳۹؁ء کے ولندیزی اور فرانسیسی ذرائع کے مطابق قدیم رومی قوم موسم بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا کی پرستش کرتے اور اسے خوش رکھنے کے لئے اہل روم شراب کے نشے میں مست ہوکر جھوٹی حکایات کو تراشنے اور نازیبا حرکات میں مشغول ہوتے ۔رفتہ رفتہ یہ جھوٹ اپریل فول کا جز و لاینفک اور غالب حصہ بن گیا۔انسائیکلو پیڈیاانٹر نیشنل کے مطابق مغربی ممالک میں یہ دن نہ صرف قومی و ملی تہوار تصور کیا جاتا ہے بلکہ اہل خانہ و اہل معاشرہ کے ساتھ جھوٹ گھڑنے کو عین عبادت خیال کیا جاتاہے۔یہ فول و فضو ل رسم اب مسلم معاشرے کا صرف حصہ ہی نہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ دیگرمسلّمہ عبادات کی نسبت مسلم معاشروں میںمغرب زدہ تہواروں کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تہوار صرف مذاق نہیں بلکہ مسلمانوں پرعیسائیوں کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی خوشی میں شرکت اور اسلامی مذہبی قدروں کے ساتھ عملی مذاق ہے۔
جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت سر زمین اندلس پر جتنی خونریزی کی گئی اس کا اندازہ تاریخ دانوں کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فاتح فوج کے گھوڑے مسلمانوں کی نعشوں کو روندتے ہوئے گزرتے تب ان کے پاؤں خون سے رنگین اور آلودہ ہو چکے ہوتے ۔عیسائی افواج مسلمانوں کو ان کے حکمرانوں سمیت ختم کر چکی تھیں ،جاسوس مسلمانوں کو تلاش کرتے اندلس کی گلیوں میں گھوم رہے تھے ،اگرچہ بظاہر اب کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھالیکن نا معلوم اب بھی عیسائیوں کو کیوں یقین تھا کہ مسلمان ابھی بھی زندہ ہیں ،اور وہ اپنی شناخت چھپا رہے ہیں۔مسلمانوں کو ظاہر کرنے کے لئے سازشیں کی جانے لگیں ،پھر اعلان کیا گیا کہ جو مسلمان دیگر مسلم ممالک میں جانا چاہتے ہیں وہ یکم اپریل تک غرناظہ میں جمع ہو جائیں تا کہ ان کے جانے کا بندوبست کیا جا سکے ۔قصرِ الحمراء کے نزدیک خیمے نصب کر دئیے گئے ،سمندر میں بحری جہاز لنگر انداز ہوتے رہے ،یہ منظر دیکھ کر مسلمانانِ اندلس خیال کرنے لگے کہ اب شائد امن ہو گیا ہے اور عیسائی افواج اس معاملے میں سنجیدہ ہے لہذا خود کو ظاہر کر دینے کا اس سے اور اچھا موقع نہیں ،مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ۔سب اہلیان اندلس الحمراء کے قریب خیمہ زن ہو گئے ۳۱ مارچ کی رات ان کی بڑی خاطر مدارت کی گئی ،نہایت متانت سے ان کا اکرام کیا گیا۔یکم اپریل ہوتے ہی بحری جہازوں کا رخ مراکش کی طرف موڑ دیا گیا ۔مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے اگرچہ بڑی دقت اور مشقت برداشت کرنا پڑی لیکن اطمینان تھا کہ جان بخشی ہزار نعمت ہے ۔دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الواداع کیا اور جہاز چلا دئیے گئے ۔ان جہازوں میں بچے، بوڑھے ،خواتین سبھی شامل تھے ۔جہاز جب عین سمند ر کے وسط میں پہنچاتو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا ،یوں اندلس کے مسلمان ابدی نیند سو گئے ۔اس دن کو یورپ میں فتح کا دن قرار دیا گیا کہ کس طرح مسلمانوں کو بے وقوف بنا یا گیا،بعد ازاں یہ تہوار اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ کا عظیم دن قرار دیا گیا،اور اسے انگریزی میں فرسٹ اپریل فول کا نام دیا گیا ،یعنی یکم اپریل کے بے وقوف۔آج بھی اس دن کو دنیائے یورپ اہتمام سے مناتی اور اپنی فتح کو یادگار بناتی ہے۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے اس کی تاریخی حیثیت پر مختلف انداز سے روشنی ڈالی ہے ۔بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترھویں صدی کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا ۔اس مہینے کو رومی لوگ اپنی دیوی وینس کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھا کرتے تھے ۔اظہارِ خوشی کے لئے آپس میں مذاق کیا کرتے تھے ،یہی چیز آگے چل کر اپریل فول کی شکل اختیار کر گئی ۔اس کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ۲۱ مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں ،ان لوگوں کو بعض لوگوں نے یوں تعبیر کیا کہ قدرت(معاذاللہ )ہمارے ساتھ مذاق کر کے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے ( یعنی کبھی سردی ہو جاتی ہے اور کبھی گرمی،موسموں کے اتارچڑھاؤ کو قدرت کا مذاق سمجھتے رہے)۔لہذا لوگوں نے بھی اس زمانے کو مذاق پر محمول کیا اور اور ایک دوسرے کو بے وقوف بنا نا شروع کر دیا ۔
انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا روس میں اس کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی جب یہود یوں نے یسوع مسیح ؑ کو گرفتار کیا اور رومیوں کی عدالت میں پیش کیا گیاتو رومیوں اور یہودیوں نے ان کے ساتھ مذاق شروع کر دیا ،پہلے رومیوں کی عدالت میں پھر یہودیوں کی عدالت میں پھر اس کے بعد پیلاطس کی عدالت میں بھیج دیا گیا ،ایسا صرف ازراہِ مذاق اور تفریحاً کیا گیا ۔بائبل میں اس واقعہ کو یوں نقل کیا گیا کہ جب لوگ یسوع کو گرفتار کئے ہوئے تھے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے ،ان کی آنکھیں بند کر کے ان کے منہ پر طمانچے مارتے،بہت سی نازیبا باتیں ان کے سامنے بر ملا کہتے ۔یوں ان کا بھی مذاق او رتمسخر اڑایا گیا۔فریدی کی عربی انسائیکلو پیڈیا سے بھی ان حقائق پر مزید روشنی پڑتی ہے ،ان کے نزدیک بھی اپریل فول کی صحیح حقیقت یہی معلوم ہے کہ یہ یسوع مسیح کے ساتھ تمسخر اور انہیں تکلیف پہنچانے کی یاد گار ہے۔شریعت اسلامیہ میں نہ کسی کے ساتھ تمسخر کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی کسی جماعت کو دوسری جماعت کے ساتھ استہزاء کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
لیکن افسوس ۔۔۔! مسلمان جنہیں خیر امت کا اعزاز ملا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے یہود و نصاریٰ کی صریح مخالفت کی تاکید کے باوجود آج وہ اپنے ازلی دشمنوں کے جملہ رسم و رواج ،طرز عمل اور فیشن کو نہایت فراخ دلی سے قبول کر رہے ہیں ۔یہ بات نہایت قابلِ توجہ ہے کہ آج کا مسلمان مغربی افکار اور نظریات سے اس قدر مرعوب ہو چکا ہے کہ اسے ترقی کی ہر منزل مغرب کی پیروی ہی میں نظر آتی ہے ۔ہر وہ قول و عمل جو اہل ِ مغرب کے ہاں رائج ہو قطع نظر اس بات کے کہ وہ اسلامی افکار کے موافق ہو یا مخالف اس کی تقلید لازم سمجھتا ہے ۔حتی کہ ان کے مذہبی شعار تک اپنانے کی کوشش میں مشغول ہو جاتا ہے۔اپریل فول بھی انہی چند رسومات میں سے ایک ہے جس میں جھوٹی خبروں کو بنیاد بنا کر لوگوں کا جانی و مالی نقصان کیا جاتا ہے ۔انسانیت کی عزت و آبرو کی پرواہ کیے بغیر قبیح سے قبیح حرکت سے بھی اجتناب نہیں کیا جاتا۔اس میں شرعاً واخلاقاً بے شمار مفاسد پائے جاتے ہیں جو مذہبی نقطہ نگاہ کے علاوہ عقلی و اخلاقی طور پر بھی قابلِ مذمت وملامت ہیں ۔اس رسم ِ بد کے درج ذیل نقصانات ہیں ۔
۱۔دشمنانِ اسلام کی خوشیوں میں شرکت ۲۔منافقت کی ترویج و تعلیم۳۔گناہ ِ کبیرہ یعنی جھوٹ کا مرتکب ہونا۔۴۔نا زیبا حرکات کرنا۔۵۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ۔ ۶۔اہل اسلام کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار۔۷۔مذہبی منافرت۔۸۔دنیاو آخرت کی تباہی۔
یہ ہے اپریل فول کی حقیقت! لہذا اہل اسلام کے لئے یہ تہوار منانا کسی بھی طریقے سے جائز نہیں مذکورہ بالا مفاسد کے علاوہ اس میں غیر مسلموں سے موافقت اور مشابہت بھی پائی جاتی ہے ،جبکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔
من تشبہ بقوم فھو منھم (سنن ابی داؤد)
ترجمہ ۔ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔
جو لوگ اپریل فول منانے کے مرتکب ہو رہے ہیں اندیشہ ہے کہ کہیں ان کا نجام بروزِ قیامت یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہو ۔ایک واضح قباحت یہ بھی ہے کہ جھوٹ بول کر دوسروں کو خوامخواہ پریشان کیا جاتا ہے جبکہ شریعت اسلامیہ میں جھوٹ نہ صرف حرام بلکہ گناہ ِ کبیرہ بھی ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
ان الصدق بر وان البر یھدی الی الجنۃ وان الکذب فجور وان
الفجور یھدی الی النار( الصحیح لمسلم)
ترجمہ ۔ سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے،اور جھوٹ بولنا گناہ ہے اور
گناہ جھنم کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ ہے ۔
آیۃ المنافق ثلاث اذاحدث کذب واذا وعد اخلف واذااؤتمن
خان(صحیح البخاری)
ترجمہ۔ منافق کی تین نشانیاں ہیں ،بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ،وعدہ کرتا ہے تو
خلاف ورزی کرتا ہے،اور جب امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتاہے ۔
توجہ طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا احادیث میں جن کاموں کے متعلق نکیر یا حرمت وارد ہوئی ہے یہ سبھی کام یکم اپریل کو کیے جاتے ہیں ۔بسا اوقات اس دن جھوٹ کی بنیاد پر دوسروں کے متعلق غلط باتیں منسوب کر دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے انارکی پھیلتی ہے اورباہمی کشیدگی کا اندیشہ ہوتا ہے ۔اس دن صرف مذاق ہی نہیں بلکہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی غرض سے ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے ۔غرض اس فعل میں بے شمار خرافات پائی جاتی ہیں ،اپریل فول کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔لہذا ان قبیح افعال سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی محفوظ کریں ۔حکومت وقت کو بھی اپریل فول کی روک تھا م اور اس پر پابندی لگانے کے لئے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں ۔

متعلقہ خبریں