آر یا پار اور منجدھار

2020 ,دسمبر 20



مودی سرکار آج بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک زوروں پر ہے۔ بھارت کے اندر کسانوں نے ہڑتال سے ملک بند کر رکھا ہے۔ دھرنے ہو رہے ہیں۔ جلائو گھیرائو جاری ہے۔ سڑکیں بلاک‘ ٹرینیں بندہیں۔ دنیا کی توجہ مودی کے بھارت پر تھی۔ اِدھر ہمارے کرم فرمائوں کے پھر وہی رویے، گزشتہ سال کی طرح سامنے آرہے ہیں۔

 ’’ہم بھی تو کھڑے ہیں راہوں میں۔‘‘ 

اسے اتفاق کہیں یا کسی کی کاریگری‘کا نتیجہ۔ مودی کے مظالم سے دنیا کی نظریں ہٹ کر اِدھرمنہ زور کرونا میں جلسوں پر مبذول ہو رہی ہیں۔ دنیا محترمہ مریم کے اس اجتماع کو دیکھ رہی ہے جس میں ’’یہ جو دہشت گردی ہے‘ اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ کے نعرے لگائے گئے جن سے محترمہ لطف اندوز ہوئیں۔

 انکے والد صاحب جرنیلوںکے کردار شمار کرا کے فوج کوکہتے ہیں انکی نہ سننا۔ مشرف دور میں فوجیوں کو وردی میں شہروں میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ غصہ مشرف پر ہونا چاہئے تھاعام فوجیوں کے خلاف متوالوں کے دماغ میں نفرت کا زہر کس نے بھرا تھا۔اب وہی مائنڈ سیٹ بروئے کار ہے۔

پی ڈی ایم کے لاہور میں جلسے کی بازگشت تادیر سنائی دیتی رہے گی۔ جلسے کے سائز کی بات ہو تو لیگیوں سے زیادہ انکے حامی چڑ جاتے ہیں۔ جلسے میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تومریم اورنگ زیب صاحبہ اور عطا تارڑ صاحب کے زور بیاں پوری کر رہے ہیں۔ شاہ نواز رانجھا صاحب کہہ رہے تھے۔ انہوں نے 200 لوگوں کو فون کیا ان میں سے 198 جلسے میں آگئے۔ مریم نواز نے کئی کارنر میٹنگز کیں۔انہوں نے جلسوں کی کامیابی کیلئے نئی طرح ڈالی۔ یہ لوگ بھی آ گئے۔ مولانا کے خیبر پختونخواہ تک سے مدارس کے طلباء آئے۔ پی پی پی کے 2018ء کے انتخابات لڑنے والے سارے کے سارے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی موجود تھے۔ پھر بھی یہ جلسہ عمران خان کے 2011 ء اور بے نظیر کے 1986 ء کے جلسے سے کیونکر بڑا نہیں تھا۔ ہمارے دوست وقت نیوز کے اینکر امیر عباس کہتے ہیں کہ وہ 13 دسمبر کے جلسے کی کوریج کیلئے گئے تو جلسہ گاہ میں بنائی گئی پارکنگ میں گاڑی لے گئے۔ جلسے کے بعد آسانی سے واپس بھی آ گئے۔ عمران خان کے جلسے کی کوریج کیلئے گئے تھے تو داتا دربار کے آگے پیدل جانا پڑا تھا۔ جلسہ کتنا بڑا تھامگر سچ وہی ہے جو جلسے کے کارساز بتا رہے ہیں۔مریم نواز صاحبہ اس جلسے کو آج تک اس مقام پر ہونے والے ہر اجتماع سے بڑا قرار دیتی ہیں۔ان اجتماعات میں علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے کا اژدہام بھی شامل ہے۔ نواز شریف صاحب نے بھی جلسہ گاہ کی چوری ہونے سے قبل کرسیوں سے جن میں سے اکثر پر انکے جاں نثار براجمان تھے، خطاب کرتے ہوئے جلسے کو تاریخی قرار دیاتھا۔یہ سب قوم کے سچے لیڈرکہتے ہیں تو انکار کیوں۔قوم کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے قائدین سچ کہتے ہیں سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔’’لندن تو کیا میری تو۔۔۔ سپیکر صاحب یہ ہیں وہ ذرائع۔۔۔اوریہ ہے وہ خط جو قطری شہزادے نے لکھا۔۔۔‘‘ 

 گاڑیوں کی پارکنگ سے اگر جلسوں کے سائز کا اندازہ کرنا ہے تو بھی جلسہ بڑا تھا۔ اس روز مجھے اپنی گاڑی گنگا رام کے قریب اپنے آفس میں پارک کرنا پڑی۔مجھے گاڑی اپنے آفس اسلئے کھڑی کرنی پڑی کیونکہ میں نے ڈیوٹی کرنی تھی جلسے میں نہیں جانا تھا۔ کچھ لوگوں کو مینارِ پاکستان کے گرد ٹریفک چلتی نظر آئی وہ اپنی آنکھوں کا علاج کرائیں۔ محمود اچکزئی لاہوریوں کی طرف سے’’والہانہ استقبال‘‘ دیکھ کر ہی ان پر فریفتہ ہوئے تھے۔ وہ لاہور میں آ کر شملہ اونچا یا پنجاب کی پگ پر ’’بِٹھ‘‘ کر گئے۔ ہر جگہ نظرلگنے سے بچانے کیلئے ایک ’’نظربَٹو‘‘ ہوتا ہے جو پی ڈی ایم کو چادر پوش کی صورت میں دستیاب ہے۔

 کوئی بھی جلسہ کتنا بڑا ہو‘ وہ خود بولتا ہے۔ اسکے حامیوں کو وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے نہ مخالفین کو ہاتھ نچا کرآئینہ دکھانے کی۔ بالفرض یہ تاریخی جلسہ تھا تو کیااسکے مقاصد حاصل ہو گئے؟ آر ہو گیا یا پار ہوگیا؟ ابھی تک تو منجدھار میں نیّا ڈول رہی ہے۔ پی ڈی ایم کے قائدین اور انکے میڈیا کے دوست اشتعال میں دکھائی دیتے ہیں۔ فرسٹریشن میں ہیں۔ مولانا نے آئی ایس پی آر پر بھی یلغار کر دی کہ اسکی طرف سے اینکرزکوفون کئے گئے۔ مولانا ان چند صحافیوں میں سے کسی ایک کا نام لے دیں۔ حضرت سب کو اپنے جیسے گمان نہ فرمائیں۔ پہلے عورت کی حکمرانی کے حرام ہونے کے فتوے پھر انہیں سلام عقیدت اور کمیٹی کی سربراہی اور پرمٹ ۔۔۔اور بھی بہت کچھ۔اِدھر پی ڈی ایم فرسٹریشن کا شکار،پریشان اُدھر وزراء کرام کا تکبر بھی سوا نیزے پر ہے۔ استعفے ابھی دو‘آج ہی لانگ مارچ کرو کل کیوں۔ مسل دکھاتے‘ للکارتے اور دعوت مبارزت دے رہے ہیں۔گویا کہہ رہے ہیں ٹچ می اِف یو کین۔ استعفے اول تو آئیں گے نہیں آئے تو حکومت جشن منائے گی۔ضمنی الیکشن ہونگے اور دو تہائی اکثریت۔مریم نواز نے کہتی ہیں استعفوں پر ضمنی الیکشن ہوئے تو ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔محترمہ جلسوں سے زیادہ کیا کریں گی جن سے کرونا کے سوا کچھ بر آمد نہیں ہورہا۔ حکومت کی باقی مدت اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی وہ بھگتا چکی ہے۔ حکومت کا کلہ بظاہر مضبوط نظر آرہا ہے مگر:۔ یہ پاکستان ہے یہاں سیاست میں انہونیاں ہوتی ہیں، کرشمات ہوتے ہیں، معجزے ہوتے ہیں۔میاں نواز شریف کونسلر کا الیکشن ہار گئے تھے۔پھر انکی ایسی سنی گئی،ایسی گُڈی چڑھی کہ کسی کے بَل پر سیاست کی معراج کو پہنچے جب اپنے بل کچھ کیا تو سیاست کے ساتویں آسماں سے پستی کی پاتال میں آگرے۔ذرا 16 اگست 1988 ء کو ذہن میں لائیں۔اس دن کی شام تک ہرکسی کو بینظیر بھٹو کا مستقبل سوالیہ نظر آتا تھا۔اگلے روز جنرل ضیاء الحق حادثے کا شکار ہوئے تو بے نظیرکی سیاست تابناک ہوگئی۔محمد خان جونیجو پاکستان کے وزیر اعظم بنے ان کا اس عہدے تک پہنچنے میں ایک روپیہ بھی صرف نہیں ہواتھا وہ بلا مقابلہ الیکشن جیتے تھے۔معین قریشی کوبستر مرگ سے اْٹھا کر نگران وزیراعظم بنا دیا گیا تھا۔عدم اعتماد کی تحریک ہی وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی طریقہ ہے۔ایسا سرِدست ممکن نظر نہیں آتا مگر ہماری سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اور اپوزیشن ایسے ہی کرشمات کی منتظر ہے۔حکومت کو اپوزیشن نہیں ہٹا سکتی البتہ اسکے کچھ لوگوں کا غرور اور رعونت  ڈبو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں