نابینا خواتین پر مشتمل آرکسٹرا نے سب کو حیران کر دیا۔

2017 ,جولائی 23



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): زندگی میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ اور ہمت موجود ہو تو ناممکن کام کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ مصر کی نابینا خواتین پر مشتمل آرکسٹرا نے اس کی عملی مثال پیش کردی۔مختلف آلات موسیقی کو سرور آمیز دھنوں پر بجانا کوئی آسان کام نہیں، اور اس کے لیے شوق، محنت اور طویل ریاضت درکار ہوتی ہے۔ یہ سوچنا محال ہے کہ ان آلات کو بغیر دیکھے اس طرح بجایا جائے کہ سننے والے سحر زدہ رہ جائیں۔لیکن مصر کی نابینا خواتین نے یہ ناممکن کام بھی کر دکھایا۔

مصر کا النور والعمل (روشنی اور امید) نامی یہ آرکسٹرا 44 نابینا خواتین پر مشتمل ہے۔ یہ تمام خواتین فن و موسیقی کی نہایت دلدادہ ہیں تبھی اپنی معذوری کو پچھاڑ کر اپنے شوق کی تکمیل کر رہی ہیں۔نابینا خواتین پر مشتمل یہ آرکسٹرا ہر طرح کی دھنیں بجانے پر مہارت رکھتا ہے۔یہ موسیقار خواتین بریل سسٹم پر میوزک نوٹس پڑھ کر انہیں یاد کرتی ہیں، پھر انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے آلات موسیقی پر اپنی انگلیوں کا ایسا جادو بکھیرتی ہیں کہ سننے اور دیکھنے والے مبہوت رہ جاتے ہیں۔آرکسٹرا میں شامل 5 خواتین جزوی طور پر نابینا ہیں اور صرف سایوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ بقیہ تمام موسیقار خواتین دیکھنے سے بالکل محروم ہیں۔

دنیا کا منفرد ترین یہ آرکسٹرا اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں سفر کر کے اپنے فن کا مظاہرہ کرچکا ہے جہاں ان کے ہمت و حوصلے کی بے تحاشہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔اس آرکسٹرا کو مصر کا معجزہ بھی کہا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں