ٹیکس خور فوج

2019 ,اکتوبر 22



ہمارے ٹیکسوں پر پلتی فوج،
ہمارے ٹیکسوں سے لی گئی بندوقیں،
ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتی فوج،
ہمارے ٹیکس سے ہی ہمارے ٹیکسوں سے ہی وغیرہ وغیرہ۔
یہ گردان عام سنی ہوگی آپ نے مگر حساب نہیں کیا ہوگا۔ چنانچہ آج میں نے سوچا آپ احباب کے سامنے افواج کی ٹیکس خوری کا بھانڈہ پھوڑ ہی دوں۔
پہلے پہل تو یہ رٹ بھی لگائی گئی تھی کہ فوج 70 سے 80 پرسنٹ بجٹ کھا جاتی ہے ملک کا۔ خیر جب اِس چول کے جواب میں ان دانشور حضرات کو فگرز نکال کر دکھائے گئے تو بوتھا شریف بند ہو گیا۔ کیونکہ لیٹسٹ بجٹ میں تمام تر انکریمنٹ لگنے کے بعد بھی ٹوٹل کا 18 پرسنٹ تھا جو دفاعی بجٹ کے لیے مختص کیا گیا۔ چلیں اِسی کو لے کر چلتے ہیں کہ اِن 18 پرسنٹ سے فوج کیا کیا گُلچھرے اڑاتی ہے۔
8 لاکھ فوج کی نقل و حرکت کے لیے گاڑیاں اِن 18 پرسنٹ میں،
ہزاروں گاڑیوں کا فیول اِن 18 پرسنٹ میں،
ہزاروں گاڑیوں کی مینٹینس/ریپئرنگ ان 18 پرسنٹ میں،
میڈیکل اِن 18 پرسنٹ میں،
ادویات اِن 18 پرسنٹ میں،
مشینری اِن 18 پرسنٹ میں،
میزائل اِن 18 پرسنٹ میں،
راکٹ اِن 18 پرسنٹ میں،
تمام قسم کے بم اِن 18 پرسنٹ میں،
بندوقیں اِن 18 پرسنٹ میں،
گولیاں بھی اِن 18 تک پرسنٹ میں،
ٹینک اِن 18 پرسنٹ میں،
توپیں اِن 18 پرسنٹ میں،
مارٹر اِن 18 پرسنٹ میں،
رہائشیں اِن 18 پرسنٹ میں،
8 لاکھ فوج کا کھانا پینا اِن 18 پرسنٹ میں،
8 لاکھ فوج کی رہائش اِن 18 پرسنٹ میں،
8 لاکھ فوج کے یونیفارم بھی اِن 18 پرسنٹ میں،
بیرکوں/کیمپوں کی تعمیر و مرمت اِن 18 پرسنٹ میں،
فوجی دفتروں کی کرسی سے لے کر تمام فرنیچر تک اِن 18 پرسنٹ میں،
اِسٹیشنری کا ایک ایک سامان بھی اِن 18 پرسنٹ میں،
تمام تر فوجی جوانوں کی زمینی، ہوائی اور بحری ٹریننگ اِن 18 پرسنٹ میں،
موبائل اور فیلڈ فون سے لے کر واکی ٹاکی تک تمام کی تمام کمیونیکیشن اِن 18 پرسنٹ میں،
کمپیوٹرز، لیپ ٹاپز وغیرہ اِن 18 پرسنٹ میں
فائیٹر جیٹ، گن شپ ہیلی کاپٹر بھی اِن 18 پرسنٹ میں
بحری جہاز بھی اِن 18 پرسنٹ میں
اور اِن سب کا فیول بھی اِن 18 پرسنٹ میں
فوجی بیسز، رن وے، ہیڈ کوارٹرز تمام تر اِنفراسٹریکچر اِن 18 پرسنٹ میں
انٹیلیجنس کے لیے تمام سیٹ اپ بھی اِن 18 پرسنٹ میں
ایجنسیز کا تمام خرچہ بھی اِن 18 پرسنٹ میں
بیرونِ ملکی کورسز بھی شامل اِن 18 پرسنٹ میں
8 لاکھ فوجیوں کی تنخواہیں وغیرہ بھی اِن 18 پرسنٹ میں۔
اچھا زرا اور سنیئے، یہ تو بخدا کچھ بھی نہیں، یہ وہ تھا جو بچہ بچہ جانتا ہے، یہ تو وہ تھا جو ایک ایک سویلین جانتا ہے، فوج کے خرچے دفاع کے خرچے کیا ہیں، ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کیسے ہوتی ہم کیا جانیں، تم کیا جانو۔ دو ٹکے کے فیسبکی دانشوڑ جسے فوجی ٹریننگ کے دوران تیس سیکنڈ میں ضائع ہو جانے والے پیراشوٹ کی قیمت تک نہیں معلوم تم کیا جانو گے، وطنِ عزیز کی حفاظت پر آنے والے خرچ کو ایٹمی اثاثوں کی حفاظت پر آنے والے خرچ کو۔
بات کرتے ہیں کام کی، سروس کی، کہ فوج کیا کرتی ہے؟
فوج بارڈر پر کھڑی،
فوج سمندر میں اُتری،
فوج فضا میں بُلند،
فوج سیاچن کی بلند وبالا چوٹیوں پر،
فوج سبی کی تپتی ہوئی دھوپ میں،
دہشتگردوں کے خلاف جانیں گنواتی یہ فوج،
انڈیا، امریکہ، اسرائیل کے خلاف محاذ آراء یہ فوج،
عالمی صیہونی طاقتوں کے نشانے پر یہ فوج،
سر زمین پاک کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرتی یہ فوج،
جن سیاستدانوں کے تم تلوے چاٹتے اِن کی محافظ یہ فوج،
آپریشن ضرب عضب میں جانیں دیتی یہ فوج،
آپریشن راہِ نجات میں قربان ہوتی یہ فوج،
آپریشن خیبر ون، ٹو، تھری، فور پر لڑتی یہ فوج،
آپریشن رد الفساد میں جان دیتی یہ فوج،
زلزلے میں فوج،
سیلاب میں فوج،
بارشوں میں فوج،
طوفان میں فوج،
حادثات میں فوج،
الیکشن میں فوج،
مردم شماری میں فوج،
ریسکیو میں فوج،
پھر بھی تم بکواس کرتے ہو فوجی پر،
اِس فوجی پرجو اپنی خوشیاں قربان کرتا ہے۔
اِس فوجی پر جو ہر عید، شب برات میں سرحد پر کھڑا ہوتا ہے۔
اس فوجی پر جس کو اپنی شادی کے لیے بھی تین چھٹیاں ملتیں ہیں۔
اس فوجی پر جس کی منکوحہ رُخصت ہونے سے پہلے اکثر بیوہ ہو جاتی ہے۔
اس فوجی پر جو تمہارے بچوں کی حفاظت کے لیئے 6، 6 مہینے اپنے بچے کا چہرہ نہیں دیکھتا۔
تم بکواس کرتے ہو ان فوجیوں پر جنھوں نے اپنا پیٹ کاٹ کے ایک ایک دن کی تنخواہ اِس پاک سر زمین کے نام کی، کہ کل کو ہم سب کے بچے پیاسے نہ مریں۔ یہ سب اور بہت کچھ کرتی ہے فوج تمھارے ٹیکسوں سے۔ جو میں شائید ٹھیک سے بتا نہ سکوں، گنوا نہ سکوں۔
یہ ہے فوج جس پر تم بھونکتے ہو، کیونکہ تمھیں اِس بھونکنے پر ہڈی ڈالی جاتی ہے اور سن لو انسان نما کتوں مجھ سمیت ہر غیرت مند پاکستانی کی للکار سن لو ہماری کھلی جنگ ہے تم تمام سے جو بکواس کرتے ہیں دینِ حق پر، وطنِ عزیز پر اور اِس پاک سر زمین کے بہادر سپوتوں یعنی افواجِ پاکستان پر اور ہاں یہ 18 پرسنٹ دے کر احسان نہیں کر رہے تم، یہ ایسے ہی جیسے باقی کے 82 پرسنٹ دے کر تم احسان نہیں کر رہے۔ ذرا مانگو ناں اُن 82 پرسنٹ کا حساب، وہ بھی تو تمھارے ہی ٹیکسز کے پیسے ہیں۔
یہ وہ 82 پرسنٹ ہیں جو تم سیاستدانوں کو دیتے ہو۔
جن کے بدلے وہ تمھارے بچوں کو گاڑیوں تلے روند جاتے۔ جن کے بدلے وہ تمھاری زمینوں پر قبضے کر لیتے ہیں، جن کے بدلے وہ تم میں سے کئی کی بہن، بیٹیوں کی عزتوں کو نوچ لیتے ہیں۔ جن 82 پرسنٹ سے وہ کئی کنالوں کے بنگلوں میں اپنی نسلوں کو عیش کرواتے۔ جن کے بدلے وہ سالوں پوری دنیا میں عیاشیاں کرتے۔ جس 82 پرسنٹ سے اربوں کھربوں کی جائیدادیں بناتے ہیں۔ اور تو تم لیٹ جاتے ہو اُن کے سامنے اپنی تشریف رگڑتے ہو وہ تمھیں کتے کی طرح ذلیل کرتے ہیں اور تم سب پھر بھی جئے جئے کے نعرے لگاتے ہو۔ تمہارا بس نہیں چلتا کہ اپنے گلے میں پٹہ ڈال کر اِن سیاستدانوں کے پیچھے پیچھے دُم ہلاتے پھرو۔
تم حساب لو ناں ان 82 پرسنٹ کا بھی جو تم بیوروکریٹس کو دیتے ہو۔ جو تمھاری زمینوں میں کروڑوں کا غبن کرتے ہیں، جو تحصیلدار سارا سارا دن آفس میں بٹھا کے ذلیل کرتے ہیں، جو کلرک دفتروں میں تم سے ہزاروں کی رشوت لیتے ہیں، وہاں کیوں نہیں یاد آتا تمھیں ٹیکس، وہاں کیوں کتے کی طرح زبان نکلی ہوئی ہوتی ہے تمھاری۔
تم حساب لو ناں اِن 82 پرسنٹ کا جو ڈاکٹروں کو دیتے ہو۔
اُس ڈاکٹر کو جس کے تم پاؤں پڑتے ہو کہ آخری سانسوں پر اٹکے تمہارے بچے کو دیکھ لے اور وہ ٹھوکر مار کے کہتا میرے کلینک پر لے آؤ وہاں دیکھوں گا۔
تم حساب لو نہ اُن 82 پرسنٹ کا جو تم دیتے ہو پولیس والوں کو۔
اُن میں وہ پولیس والے بھی ہوتے ہیں جو تم پر ناجائز مقدمات بناتے ہیں، جو تمھارے بوڑھے باپ کو گھر سے اُٹھا کے لے جاتے ہیں، جو جھوٹے کیس بنا کے تشدد کرتے ہیں جو لاکھوں کی رشوت لے کر بھی سالوں تک ذلیل کرتے ہیں۔ وہاں تو تمھاری صاب جی صاب جی بند نہیں ہوتی۔ اُن کے سامنے تو رالیں ٹپکا رہے ہوتے ہو۔ اُن کے سامنے تو جی حضوری ایسے کرتے ہو کہ جیسے اُنھیں باپ بنا لیا ہو۔ ذرا کرو نہ یہاں بھی بات ٹیکسز کی۔۔۔!!
(پولیس کا پورا محکمہ بُرا نہیں ہمارا ٹارگٹ صرف گندے انڈے ہیں)
چلیں چھوڑیں بات جو نکلے گی تو دُور تلک جائے گی۔
ختم کرتا ہوں مگر جاتے جاتے یہ بتا دوں کہ تم جن 18 پرسنٹ پر اُچھلتے رہتے ہو وہ جنرل باجوہ کو نہیں دیتے، کہ لو باجوہ صاحب بانٹ دیں۔ وہ بھی تم انہی سیاستدانوں کو دیتے ہو جن کے دن رات تلوے چاٹتے ہو، وزارتِ دفاع کو دیتے ہو، انہی سیاستدانوں کو جنہیں باقی کے 82 پرسنٹ دیتے ہو۔
لیکن اب بس، اب تمھاری بکواسیات سننے والا کوئی نہیں کیونکہ یہ عوام پہچان چکی ہے اپنے محسنوں کو، اپنے محافظوں کو، افواجِ پاکستان کو اور اُن کے اندر مؤجزن پاک سرزمین کی محبت کو۔
پاکستان زندہ باد 
افواجِ پاکستان ہمیشہ پائندہ باد 

متعلقہ خبریں