ایٹم بم اور سیٹھ عابد

2022 ,مئی 28



تحریر:فضل حسین اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔ آج 28 مئی کوایک بار پھرقوم بڑے جوش و جذبے سے یومِ تکبیر منا رہی ہے۔پاکستان کا ایٹم بم اور ایٹمی پروگرام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مرہون منت ہے۔اس کے کئی دیگر کا کردار بھی نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر خان کہتے ہیں۔”بہت سے درپردہ محسنان ہیں جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بہت دباﺅ برداشت کیا“ ۔ ایسے درپردہ محسنوں میں سیٹھ عابد کا نام بھی لیا جاتا ہے۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ان کے کردار کو جادوئی اورطلسماتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جب بھی بات ہو سیٹھ عابد کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ان کے بارے میں ایسی کئی اور داستانیں بھی زبان زد عام ہیں۔ ذُوالفقار علی بھٹو اُس زمانے میں پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ انھوں نے 5 کروڑ روپے پیپلز پارٹی کے لیے بطور فنڈ سیٹھ عابد سے طلب کر لیے۔ سیٹھ صاحب نے دینے سے صاف انکار کر دیا۔ بھٹو صاحب کی ہدایت پر سیٹھ عابد کی گرفتاری کے لیے ہر جگہ چھاپے مارے جانے لگے لیکن وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ہاتھ نہ لگ سکے۔داستاں گو کے مطابق کراچی میں ان کے گھر کے باہر فوجی ٹرک کھڑے نظر آئے ، وہ وہاں کسی کو گرفتار کرنے آئے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ سیٹھ عابد کی اکلوتی بیٹی نصرت شاہین کی گرفتاری کے لیے آئے ہیں۔ فوجی سیٹھ عابد کی صاحبزادی کو ٹرک میں بٹھا کر لے گئے۔ جب سیٹھ عابد کے علم میں یہ بات آئی تو انھوں نے لندن میں زیر تعلیم بے نظیر بھٹو کو اغوا کرا لیا۔ اب سیٹھ عابد کی بیٹی بھٹو کی قید میں اور بھٹو کی دختر سیٹھ عابد کی تحویل میں، بہرکیف دونوں میں سمجھوتہ ہو گیا اور نصرت شاہین اور بے نظیر بھٹو رہا کر دی گئیں۔ یہ کہانی بھی بڑی ہِٹ ہوئی کہ صدر ایوب خان نے سیٹھ عابد پر سونے کے بزنس میں اپنے بیٹے کو شریک کرنے پر زور دیا۔انکار پر صدر صاحب ناراض ہوگئے اور سیٹھ عابد حسین کیلئے مشکلات پیدا کی جانے لگیں تو انہوں نے اپنا کاروبار دبئی منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سارا سونا لانچوں کے ذریعے دبئی بھجوانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔لانچیں کراچی سے روانہ ہوئیں تو مخبری پر اداروں نے گھیر لیا۔وائرلیس پر سیٹھ عابد کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے ایک تاریخ ساز ڈائیلاگ بولا۔" شٹر کھول دو" ایسا ہی ہوا۔شٹر کھو دیئے گئے جس سے سارا سونا سمندر کی تہہ میں اتر گیا۔ ہمارے ہاں اکثر قلمکار بڑے جذباتی انداز میں کہتے ہیں۔"بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ جب امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر سخت پابندی عائد کر رکھی تو یہ سیٹھ عابد ہی تھے جنھوں نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا۔ جنرل (ر) امجد شعیب اپنے یو ٹیوب چینل پر یہ کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب نے جو کچھ کیا اس میں اور بھی لوگوں کا نام ہے۔جنرل ضیاءالحق کے دور میںاس شخص کا اگر نہ ذکر کروں تو زیادتی ہوگی جس نے بڑا کام کیا اور ساری دنیا سے آلات جمع کر کے لا کے ہمیں دیئے، وہ تھے سیٹھ عابد، انہوں نے سمگلنگ چھوڑ دی اور جنرل ضیاءالحق کے حکم پر ڈاکٹر قدیر خان سے بریفنگ لے کر چند کروشل کمپوننٹس باہر سے لاکر دیئے جو ہمیں کبھی نہ ملتے۔جنرل امجد شعیب کی ان کے بقول ڈاکٹر اے کیو خان سے اس وقت ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا جب وہ ڈائریکٹر ملٹری انٹیلی جینس تھے۔یہ سلسلہ بعد میں بطور جنرل جی ایچ کیو میں تعیناتی پر بھی جاری رہا۔نذیر احمد فاروق جب میجر تھے تو انہوں نے اُس وقت کے جرمنی اور ایک دوسرے یورپی ملک کے پاکستانی سفیر کے مابین بھی ایسی ہی گفتگو سنی تھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سیٹھ عابد نہ ہوتے تو پاکستان کبھی ایٹم بم نہ بنا سکتا۔اس معاملے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیا کہتے ہیں،وہ حیران کن ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ سیٹھ عابد نامی ایک سونے کے سمگلر نے بیرونی دنیا سے پاکستانی نیوکلیئر بم کے لیے چند اہم ترین پرزے سمگلنگ کرنے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اُس وقت جب سیٹھ عابد کا انتقال ہوا تو ان کی شخصیت کودیومالائی بنا کر پیش کیا جارہا تھا۔ڈاکٹر صاحب سیٹھ عابد ذکر کرتے کچھ برہم بھی نظر آئے۔ انکا کہنا تھا کہ اسی جھوٹے دعوے کی بنیاد پر سیٹھ عابد محکمہ کسٹم اور انکم ٹیکس سے ناجائز فائدے اُٹھاتا رہا۔انٹرویو میں قدیر خان کا کہناہے کہ اس قسم کی غلط بیانی سیٹھ عابد مرحوم نے خود بھی کی تھی کہ انھوں نے بم بنانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ اگر بم میں سونا استعمال ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ ہم نے جو سونا خریدا، وہ شاید انہوں نے اسمگل کیا ہوگا، مگر ایٹم بم میں ایک تولہ سونا بھی نہیں لگتا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس شخص سے زندگی میں پہلی بار ریٹائرمنٹ کے 15برس بعد لاہور میں ایک فلاحی اسپتال کی تعمیر کے ڈنر میں ملا تھا۔ میرے دست راست شوکت ورک نے ان کو بلالیا تھا کہ کچھ چندہ دیدینگے۔ انھوں نے وہاں 25 لاکھ چندے کا وعدہ کیا اور 25 روپے بھی نہیں دیے۔ڈاکٹر خان کے بااعتماد ساتھی ڈاکٹر محمد فاروق سے میری حالیہ دنوں چند ملاقاتیں ہوئیں۔”محسن ملت ڈاکٹر عبدالقدیر خان“ کتاب کیلئے ان کے انٹرویوز کئے تھے۔ڈاکٹر فاروق بدستور نظر بند ہیں۔ان کا بھی کہنا ہے کہ ایٹمی پروگرام میں سیٹھ عابد کا سوئی برابر بھی کردار نہیں ہے۔ ڈاکٹر قدیرکہتے ہیں کہ ایک اور جھوٹ جس کو بہت اچھالا گیا تھا وہ یہ ہے کہ کہوٹہ نیوکلیئر پلانٹ کی پلاننگ اور کامیابی میں مرحوم وزیر خارجہ ڈاکٹر مبشر حسن نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر خان کے مطابق جب میں پاکستان آیا اور بھٹو صاحب کے اصرار پر اس پروجیکٹ پر کام شروع کیا تو اس وقت وزیر خارجہ عبدالحفیظ پیرزادہ تھے۔ ڈاکٹر مبشر مُلک کی معیشت کو قومیا کر اور اسے تباہ کرنے کے بعد رخصت ہوچکے تھے۔ بھٹو صاحب نے یہ راز عبدالحفیظ پیرزادہ کو بھی نہیں بتایا تھا۔ اس بارے میں صرف مرحوم اے جی این قاضی، آغا شاہی اور غلام اسحٰق خان کو معلوم تھا اور بعد میں جنرل ضیاءکو صرف یہ بتایا گیا کہ ہم نے نیوکلئیر پر کچھ کام شروع کیا ہے لٰہذا ڈاکٹر صاحب کو آرمی کے چند سول انجینئر دیدیں تا کہ وہ کچھ عمارتیں وغیرہ بنوادیں۔ ایٹم بم بارے سیٹھ عابد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسی تمام داستانیں افسانوی ہیں۔مگر ہم پاکستانی ہیں، دل میں جس کا بُت بسا لیں اُسے نکالنا ممکن نہیں ہوتا۔سیٹھ عابد کو بھی کئی لوگوں نے دل کے مندر میں بسایا ہوا ہے۔بسائے رکھیں۔سیٹھ صاحب کا پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام میں کوئی کردار نہیں تھایہ ڈاکٹر خان نے کہا ہے ۔جو ڈاکٹر خان کی زبانی سننا چاہیں وہ اس لنک پر جاکر دیکھ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں