پانامہ لیکس میں شریف خاندان کا بے رحمانہ احتساب

2017 ,جون 13



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): پہلے انہی لوگوں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا کہ پانامہ لیکس میں شریف خاندان کا بے رحمانہ احتساب کرو۔ اب جب کام شروع ہو گیا ہے تو کہہ رہے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ آپ لوگ اب کہہ رہے ہیں کہ انکوائری کے لئے مہینے، ہفتے نہیں دنوں کی ضرورت ہے۔ اگر جے آئی ٹی والے چند دنوں میں معاملہ نمٹا دیں تو آپ لوگ اس پر بھی کہیں گے کہ سب کچھ اتنی جلدی کیسے ہو گیا۔ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے وغیرہ وغیرہ۔ صاف لگتا ہے آپ لوگوں کو تسلی نہیں ہو رہی۔ آپ لوگ حسب منشا تفتیش اور فیصلہ چاہتے ہیں۔

کیا پیپلز پارٹی والے ایسی ہی جے آئی ٹی اپنے قائد آصف زرداری کے لئے یا اپنے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے لئے پسند کریں گے تاکہ ان کی کرامات بھی سب کے سامنے آئیں کہ وہ کس طرح اس مالی استحکام کے درجہ عالیہ تک پہنچے ہیں۔ کیا یہ لوگ خواہ عمران خان صاحب ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح گھنٹوں انتظار اور گھنٹوں تفتیش کی اذیت سہہ پائیں گے۔ شاید آپ خود بھی ایسا نہ کر سکیں۔ نیشنل بنک کے صدر بھی جے آئی ٹی کے ہتک آمیز روئیے اور دھمکیوں کی شکایت کر چکے ہیں۔ بقول سعیداحمد ان کے ساتھ یوں برتاﺅ کیا جا رہا ہے جیسے وہ سزائے موت کے مجرم ہیں۔ اب معلوم نہیں کیا موصوف کسی تفتیشی مرکز گئے تھے یا کہیں اور پہنچ گئے تھے۔ اصل قصہ کیا ہے بہت جلد سب کے سامنے آ جائے گا۔ آج جے آئی ٹی کی حمایت میں گلا پھاڑ پھاڑ کر بولنے والے کہیں اس وقت اس طرح جے آئی ٹی کے خلاف بمباری کرتے نظر نہ آئیں۔

متعلقہ خبریں