حضرتِ اویس قرنی رضی اللہ عنہ اور ماں کی خدمت

2020 ,مارچ 3



حضرتِ اویس قرنی رضی اللہ عنہ حضور نبی پاک صل اللہُ علیہ وسلم کى زیارت نہیں کر سکے لیکن دل میں حسرت بہت تھى کے حضور کا دیدار کر لوں...
بوڑھى ماں تھیں اور انھی کى خدمت آپ کو حضور کے دیدار سے روکے ہوئے تھى...
ادھر حضور یمن کى طرف رُخ کر کے کہا کرتے تھے کے مجھے یمن سے اپنے یار کى خوشبو آ رہی ہے ایک صحابی نے کہا حضور آپ اُس سے اتنا پیار کرتے ہیں اور وہ ہے کہ آپ سے ملنے بھى نہیں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کى بوڑھى اور نابینا ماں ہے جس کی اویس بہت خدمت کرتا ہے اور اپنی بوڑھی ماں کو وہ تنہا چھوڑ کر نہیں آ سکتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرؓ اورحضرت علیؓ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے دورمیں ایک شخص آئے گا جس کا نام ہو گا اویس بن عامر، قد ہو گا درمیانہ، رنگ ہو گا کالا، اور جسم پر ایک سفید داغ ہو گا۔ جب وہ آئے توتم دونوں نے اس سے دعا کرانا کیونکہ اویس نے ماں کی ایسی خدمت کی ہے جب بھی وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ اس کی دعا کبھی رد نہیں کرتا۔
حضرت عمر دس سال خلیفہ رہے اور ہر سال حج کرتے ہر حضرت اویس قرنی کو تلاش کرتے لیکن انہیں اویس نہ ملتے۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے سارے حاجیوں کو میدان عرفات میں اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہو جائیں پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور صرف یمن والے کھڑے رہے۔ پھر کہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صرف قبیلہ مراد کھڑا رہے پھر کہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو صرف ایک آدمی بچا اورحضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہا ہاں میں قرنی ہوں توحضرت عمر نے کہا کہ اویس کوجانتے ہو؟ تو اس شخص نے کہا کہ ہاں جانتا ہوں وہ تو میرے سگے بھائی کا بیٹا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ اویس ہے کدھر؟ تو اس شخص نے کہا کہ وہ عرفات گیا ہے اونٹ چرانے، آ پ نے حضرت علی ؓ کو ساتھ لیا اورعرفات کی طرف دوڑ لگائی جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اویس قرنی درخت کے نیچے نمازپڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں۔ آپ دونوں آکربیٹھ گئے اور حضرت اویس قرنی کی نمازختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ جب حضرت اویس نے سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی؟تو حضرت اویس قرنی نے کہا میں اللہ کا بندہ، تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ سارے ہی اللہ کے بندے ہیں لیکن تمھارا نام کیا ہے؟ تو حضرت اویس نے کہا کہ آپ کون ہیں؟ حضرت علی ؓ نے کہا کہ یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اورمیں علی بن ابی طالب ہوں۔
حضرت اویس کایہ سننا تھا کہ وہ تھرتھر کانپنے لگے اور کہا کہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں نے آپ کوپہچانا نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ حج پر آیا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ تم اویس ہو؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں ہی اویس ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعاکر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں؟ آپ لوگ سردار اور میں نوکر آپ کا اور میں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں؟ توحضرت عمرنے کہا کہ ہاں اللہ کے نبی ؐ کا حکم تھا کہ اویس جب بھی آئے تو اس سے دعا کروانا۔ پھر حضرت اویس قرنی نے دونوں کے لیے دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم  نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو اس وقت حضرت اویس قرنی ؓ پریشان ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ اے خدا آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیا گیا تو اللہ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھو جب پیچھے دیکھیں گے توپیچھے کروڑوں اربوں کے تعداد میں جہنمی کھڑے ہوں گےتو اس وقت خدا فرمائیں گے کہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیا ہے’’ ماں کی خدمت‘‘تو انگلی کا اشارہ کرجدھرجدھرتیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کرتا جاوں گا۔

سبحان الله

متعلقہ خبریں