جشن آزادی کے موقع پر بچوں کا جوش و جذبہ

2017 ,اگست 9



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہے‘ پاکستان کے چپے چپے اور گوشے گوشے میں ہر گھر کی چھت پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں،نہ صرف گھروں کی چھتوں پر بلکہ بائیسکل‘ موٹرسائیکل، رکشاو¿ں اوردوسری ہیوی ٹرانسپورٹ پر سبز ہلالی پرچم لہرا تے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں پر چراغاں ہے ۔

جب موسم گرما کی چھٹیاں اختتام پذیر ہونے لگتی ہیں تو یوم آزادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ماہ اگست کے شروع ہوتے ہی 14 اگست جو ہماری آزادی کا دن ہے بھرپورانداز میں منانے کے لئے سب متحرک ہو جاتے ہیں۔بچے کیا بڑے بھی جشن آزادی بھر پور طریقے سے مناتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ہر سال جب 14 اگست کا سورج طلوع ہوتا ہے اس دن چھت کا نظارہ قابل دید ہوتا ہے۔ ہوا تیز ہو یا آہستہ پرچم بھی لہرا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بچے والدین سے پرچم خریدنے کی ضد کرتے ہیں اور یہ بھی شرط عائد کر دی جاتی ہے کہ ان کے پرچم کا سائز سب سے بڑا ہونا چاہئے۔

آج کل بازاروں‘ گلی محلوں میں بچوں کا رش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔کوئی سٹکر خرید رہا ہے تو کوئی بیجز خرید کر اپنے دوستوں میں تقسیم کر رہا ہے۔فٹ پاتھوں پر میلے کا سماں ہے اورجشن آزادی کی تیاریاں عروج پر ہیں،جھنڈیاں،بیج ،سٹکرزکی خریداری کا سلسلہ جاری ہے،جس بچے کی جیب اجازت نہیں بھی دیتی وہ بھی والدین سے ضد کر کے ان چیزوں سے محروم نہیں رہتا بالآخر والدین کو اپنے بچوں کی اس فرمائش کو پورا کرنا پڑتا ہے کیوں نہ کریں وہ بھی محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہمارا پیارا وطن پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہر کوئی اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے۔جب انسان سارا دن محنت مزدوری کرنے کے بعد اور ملازم پیشہ لوگ دفتروں میں کام کرنے کے بعد سیدھا اپنے گھر جاتے ہیں تو ان کی ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے ایسا ذہنی سکون ملتا ہے جو بیان سے باہر ہے جتنا بھی ضروری کام ہو گھر پہنچ کر بعد میں اور کوئی پروگرام بنتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کوئی اپنے گھر پاک وطن سے محبت کرتا ہے اور اس پر قربان ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے گھر پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے اباؤاجداد نے کتنی قربانیاں دیں اور اب تک دے رہے ہیں۔ہماری بہادر فوج کے جوان اس کی حفاظت کے لئے سرحدوں پر مامور ہیں اور اپنے ملک کی خاطر مر مٹنے کو تیار ہیں۔ آئے روز کی ہلکی پھلکی جھڑپیں اور ان جھڑپوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہمارے محسن ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ کوئی نئی چیز نہیں۔

دوستو!پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہمیں نام دیاہمیں پہچان دی ہماری پہچان پاکستان ہے۔آج جتنی نامور شخصیات ہیں ان کا نام پیارے وطن پاکستان کی بدولت ہےہمارا پیارا وطن پاکستان جہاں ہم آزاد زندگی بسر کر رہے ہیں پہلے ہندوستان کا حصہ تھا۔اس خطے کو برصغیر کہتے ہیں۔ برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت تھی پھر انگریز تجارت کے بہانے یہاں آئے اور اپنے قدم جمانے کی بھر پور کوششیں کرتے رہے ۔حقیقت میں وہ یہاں قبضہ کرنا چاہتے تھے اُنہوں نے ہندوستان کے باشندوں میں پھوٹ ڈالنا شروع کر دی اور نہایت چالاکی سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اورہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ ہندوستان کے باشندوں کو انگریزوں کی چال کا پتہ چل چکا تھا،انہوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کےلئے تحریکیں چلائیں،یہ بات تو طے شدہ ہے کہ ہندواور انگریز کبھی بھی مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے جس کا اندازہ موجودہ حالات دیکھ کر بھی لگایا جا سکتا ہے۔قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کو ہندوستان میں یہ عزت و وقار حاصل نہ تھا جو آج آزاد وطن کے طفیل ہماری پہچان ہے۔پاکستان ہمارا گھر ہے اس” گھر“ کوحاصل کرنے کے لئے ہمارے بڑوں نے بے شمار قربانیاں دیں،23 مارچ 1940سے 14اگست 1947ءتک تحریک پاکستان کا سفربڑا طویل ہے اوریہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،اس دن کو منانے کامقصد نئی نسل میں شعور پیدا کرنا ہے،ان کویہ سمجھانا ہے کہ پاک وطن کی آزادی کے لئے جس طرح ہمارے بڑوں نے قربانیاں دی ہیں ہمیں بھی چاہئے کہ ملک وقوم کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم متحد رہیں گے ہم میں سے ہر کوئی اپنا فرض ایمانداری سے ادا کرے گا،نسل نو کو چاہئے کہ اپنے پیارے وطن کا نام روشن کرنے اور پاک وطن کی ترقی اورخوشحالی کے لئے خوب تعلیم حاصل کریںکیونکہ تعلیم کے بغیر انسان نامکمل ہے بعض بچوں کا خیال ہے کہ مال ودولت سے انسان بڑا آدمی بنتا ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔ تعلیم اور اعلیٰ کردار کا مالک ہی انسان کو بڑا آدمی بناتا ہے بڑا آدمی بننے کے لئے ہمیں اپنے محسن اپنے قائد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نقش قدم پر چلنا ہوگا،ان کے سنہری اقوال ،سنہری اصولوںکو عملی جامہ پہنانا ہو گا ۔جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں، ناکا می ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔تاریح گواہ ہے قائد اعظم کو تحریک پاکسان سے قیام پاکستان تک کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور علالت کے باوجوددن رات کام کرتے رہے ، اُنہوں نے جو فیصلہ کیاتھا اس پر عمل کر کے دکھایا۔

14اگست کا تاریحی دن بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔یہ دن ہماری قومی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک کے واقعات سے کون واقف نہیں پاکستان کا بچہ بچہ اس حقیقت سے آشنا ہے، جب وہ بڑوں سے تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک کے واقعات سُنتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،ان کا بس نہیں چلتا ۔کیونکہ ابھی وہ چھوٹے ہیں،وطن سے محبت ان کے انگ انگ میں رچی بسی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ کچھ کر گزرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دُشمن کو منہ توڑ جواب دینا چاہتے ہیں بے شک ابھی وہ بچے ہیں لیکن ان کے حوصلے جواں ہیں۔

متعلقہ خبریں