عزیز میاں قوال کو ہم سے بچھڑے سولہ برس بیت گئے۔

2016 ,دسمبر 6



 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): قوالی میں منفرد مقام رکھنے والے عزیز میاں قوال کی 16 ویں برسی منائی گئی۔عزیز میاں کا شمار پاکستان کے مقبول ترین قوالوں میں ہوتا ہے وہ اپنی قوالیوں میں اکثر علامہ اقبال اور قتیل شفائی کی شاعری استعمال کرتے تھے۔ عبدالعزیزالمعروف عزیز میاں قوال 17 اپریل 1942 کو نئی دہلی میں پیدا ہوئے ، قیام پاکستان کے بعداہل خانہ کے ہمراہ لاہور میں سکونت اختیار کی۔ معروف قوال استاد عبدالوحید سے قوالی کے فن سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی اور اردو میں ایم اے کیا۔ انھوں نے علامہ اقبال سمیت کئی شعرا کا کلام گایا ، اپنی بیشتر قوالیوں کی شاعری خود لکھی تھی۔ان کا نام عبدالعزیز تھا جب کہ میاں ان کا تکیہ کلام تھا جس کی وجہ سے وہ عزیز میاں کے نام سے جانے جاتے تھے۔ان کی گائی ہوئی قوالیوں میں ’’میں شرابی‘‘، ’’تیری صورت‘‘ اور ’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی مقبول عام ہیں۔ عزیز میاں نے وطن عزیزسمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔2000 میں عزیز میاں قوال کویرقان کا عارضہ لاحق ہوگیاتھا، ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود انھوں نے قوالی کو ترک نہیں کیا۔ اسی برس وہ حکومت ایران کی دعوت پرتہران گئے جہا ں 6 دسمبر کو 58 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا ان کے جسد خاکی کو وطن لایا گیا اور ان کی تدفین ملتان میں کی گئی۔ برسی کے موقع پرہونے والی تقریبات میں عزیز میاں قوال کی فنی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں