بچوں کی بہترین تربیت

2022 ,جنوری 21



فلسطین کے ایک اسکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے. ٹیسٹ ہوا، سب نے یکساں نمبر حاصل کیے، اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا. استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائے اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی قرعہ کھلا تو اس پر لکھا تھا "وفا عبد الکریم". سب نے تالیاں بجائیں، وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا کیوں کہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں اور جوتوں سے تنگ آگئی تھی. والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا. جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی، شوہر نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ھے. جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا... "وفا عبد الکریم" ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں، مجھے اسی بات کا افسوس ھے. بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملاً سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ھے. ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ھے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکواۃ اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے تھے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے. جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ھے.

متعلقہ خبریں