المناک ، شرمناک راز مجھ پر کھلا

2019 ,ستمبر 14



یہ کہانی ایک بیٹی کی تھی __ سچی کہانی __ جس کی شادی ہوئی مگر شوہر ظالم تھا ___ ظلم کرتا تھا ___ ساس الگ ستم ڑھاتی تھی __ بچے بھی ہو چکے تھے __ مگر زیادتی بڑھتی رہی___!!
یہاں تک کہ وہ لڑکی غلط راستے پر چلنے کا سوچنے لگی تھی ____ بھیڑیے اس کی تاک میں منہ کھولے بیٹھے تھے ___ جسم کے پیاسے اسے خواب دکھا رہے تھے ___!!
اس سے پہلے کہ وہ کسی کے جال میں الجھ کر چیر پھاڑ دی جاتی __
ایک لڑکے نے اسے دھوکہ دے دیا ___ شادی کا وعدہ کرتا رہا __ !!
جب اس لڑکی نے کہا شادی کر لو __ تو بدل گیا __ اور کہنے لگا میں نہیں کر سکوں گا ___!!!
اس نے مجھے بتا دیا کہ اجنبی بھائی(فیس بک پر ) شوہر سے تنگ آ کر میں یہ کرنے جا رہی تھی __ کسی لڑکے کے ساتھ __ بھاگنا چاہتی تھی ___ !!
میں نے اسے خوب برا بھلا کہا ___ اور یہ بھی کہا کہ اگر شوہر ظالم تھا تو طلاق لے کر گھر چلی جاتی ___ !!
اگر ظلم حد سے بڑھ چکا تھا تو ماں باپ کو بتا دیتی ___
اس کا جواب سن کر میں کانپ اٹھا ___:
اس نے بتایا
" میں سب کچھ سہتی رہی ___ مگر ایک دن جب ہمت جواب دے گئی تو ماں سے کہا
"ماں میں طلاق لینا چاہتی ہوں ___ ماں نے جواب دیا
" خبردار _!! میں نے نکاح کر دیا تمہارا اب جیسے بھی ہو رہو ___ میں نے باقی بہنوں کی بھی کرنی ہے شادی __"
وہ خاموش ہو کر بولی
" اب بتاوُ میں کیا کرتی ___ مانتی ہوں بھاگنے کا سوچ کر میں نے غلط کیا مگر میں کیا کرتی ____؟؟؟؟؟؟؟__شوہر ظالم اور ماں کے گھر کا دروازہ بند ___ میں ایک عورت ہوں ، کہاں جاتی ؟؟؟ بتاوُ___"
اس کا یہ جواب __ ایسا جواب میں نے پہلی بار سنا تھا ___
میرے پاس کوئی جواب نہ تھا ___
میں کیا کہوں کہ کہاں جاوُ ____؟؟
یہ ایک دردناک موڑ تھا ___ ایک المناک لمحہ تھا ___
میں ہر سوال کا جواب دے سکتا تھا یہ سن کر میرا دل لرز اٹھا __میں کیا جواب دوں ___؟؟
________!
جب اس کو فیس بک پر پوسٹ کیا تو راز کھلا ___
یہ تو گھر گھر کی کہانی ہے ___!!!
بہت سی لڑکیوں نے کہا
" ان کے شوہر ظالم اور ماں باپ کے گھر کا دروازہ بند ہے __"
سچ میں میں نے کبھی ایسا سوچا نہ تھا __
اتنا گر سکتا ہے معاشرہ ___؟
کیا بیٹیاں کسی درندے کو سونپ کر کوئی ماں باپ چین پا سکتا ہے ___ ؟
کیا ماں باپ کا حق ادا ہو گیا ___؟

_________!

میں سوشل میڈیا پر سب سے کہتا ہوں اس پر کام کیا جائے ___
ماں باپ کے گھروں کے دروازے بند نہیں ہونے چاہیے ___
بلکہ بیٹی جیسی رحمت کے لیے کھلے رہنے چاہیے ___
اس کا پتہ کرتے رہنا چاہیے ___
شعور دیا جائے __
اس پر تو بہت ہی توجہ کی ضرورت ____
ایسی مجبور بیٹیاں یا تو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتی ہیں___
یا گلے میں پھندہ ڑال کر جھول جاتی ہیں ___
یا جسم کے کسی شکاری کی ہوس کا شکار ہو جاتی ہیں __
تڑپتی زندہ رہتی ہیں ___ سسکتی مر جاتی ہیں _،!!!!

ان کو آنے دیا کرو __ بیٹیاں سب کو بتاتی ہیں کی وہ ماں باپ کی لاڑلی ہیں __
کتنا دکھ ہو گا جب ماں باپ کے دروازے بند ملیں گے__؟
یہ ماں باپ کے گھر کو اپنا سمجھتی ہیں __
اپنا سمجھ کر آتی ہیں ___ 😔💔
کیا کوئی اپنے ماں باپ کے گھر نہیں آسکتا ___؟؟

متعلقہ خبریں