بلاول بھٹو ذرداری کا وہ خط جس نے تمام رازوں سے پردہ اٹھا دیا۔ پڑھ کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

2019 ,ستمبر 29



جب میں نے آکسفورڈ میں تعلیم مکمل کی تو میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ کہ اب کیا کروں۔ اس گوروں کے دیس میں رہوں یا پاکستان جاؤں۔ اگر میں انگلستان میں رکتا تو زیادہ سے کسی شہر کا مئیر بن پاتا لیکن اسکی مجھے کتنی قیمت چکانی ہوگی کسی کو اندازہ نہیں۔ انگلستان میں ہر قسم کے انسانوں کے حقوق برابر ہیں۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی جانوروں کو بھی انسانوں سے زیادہ حقوق میسر ہوتے ہیں۔ کسی ریسٹورنٹ جاؤں تو سیلف سروس، ٹرین ٹکٹ خریدنا ہوگا، بورڈنگ لینا ہوگا تو خود لائن میں لگ کر اپنی تذلیل کرنی پڑے گی۔ بس اور ٹرین اسٹیشن پر بلیوں کی طرح سواری کا انتظار کرنا پڑے گا۔

اس دیس میں تو مجھے کوئی چپڑاسی کی نوکری بھی نہیں دیگا۔ خواری کرنے کے بعد ایک فلیٹ خرید نے لائق پیسے کماسکوں گا تو سوئس اکاونٹس میں کہاں سے پیسے جمع ہونگے۔ سرے جیسے محل کہاں سے نصیب ہونگے۔ انسانوں کی طرح پائی پائی کے حساب سے ٹیکس دینا پڑے گا۔ اگر ٹیکس ادائیگی میں ذرا بھر گڑ بڑ کروں گا لعنت اور جیل کا حقدار ٹھروں گا۔ کیسا ذلیل ملک ہے یہ انگلستان۔ کیسا دیس ہے جہاں کسی کو گالی یا نسلی جملہ کہنے پر جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ منی لانڈرنگ پر تو تقریبآ موت جتنی سزا ہے۔

دوسری اگرچہ پاکستان میں میرے نانا کو پھانسی چڑھایا گیا اور ماں کو شہید کیا گیا۔ اور ہوسکتا ہے میں بھی قتل کیا جاؤں ( عشق میں پہلے بھی بڑے بڑے ٹائٹینک ڈوبے ہیں) لیکن یہ دھرتی ہم جیسوں کے لئے غلاموں پر حکمرانی کے لئے بنی ہے۔ پھر پاکستان ہوگا ہم جیسے ہونگے اور غلام ہونگے۔

بلٹ پروف گاڑیاں ہونگی، پچاس پچاس گاڑیوں کے قافلوں میں شہزا دو ں کی طرح برتا جاؤں گا۔ ہٹو بچو اور بلاول بلاول کا شور جو تسکین دیگا وہ ناقابل بیان ہے۔ نوکروں کی لمبی فوج، سرکاری، کمیشن، قبضے سوئس اکاؤنٹ کا پیٹ بھرنے کے دھندے یہیں سے تو پورے ہونگے۔ اربوں کماکر بھی چند ہزار ٹیکس میں دیکر پاکستان اور اسکے کیڑے مکوڑوں پر احسان کی لات ماروں گا۔ جو ہفتوں تک واہ واہ کرتی واری واری جائے گی۔

پاکستان میں میں کسی کو بے غیرت کہوں یا بد نسل کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ ماں بہن کی گالی بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بلکہ ایک اسمبلی ٹکٹ پر قابل فروخت باکمال جاہل میری حماقتوں کو اعزاز بناکر سینے سے لگا کر دفاع بھی کریں گے۔ دوسری طرف منہ لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس کو پاکستان میں ہم انڈسٹری کا درجہ دے سکیں گے۔ اسی لئے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا۔
منجانب:
بلاول بھٹو ذرداری

متعلقہ خبریں