نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یقین نہیں آتا تو یہ خبر پڑھ لیں

2017 ,جون 2



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) کہاوت ہے کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بھارت میں ایک رکشہ ڈرائیور نے 8سال قبل خودکشی کی کوشش کرتی ایک لڑکی کی جان بچائی اور اب اس لڑکی نے اچانک واپس آ کر اس ڈرائیور کو موت کے منہ سے نکال لیا۔ رکشہ ڈرائیورکی یہ حیران کن کہانی سن کر آپ کا بھی اس کہاوت پر یقین پختہ ہو جائے گا۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے فوٹوگرافر جی ایم بی آکاش نے اپنے فیس بک پیج پر 55سالہ سائیکل رکشہ کھینچنے والے ببلو شیخ کی یہ کہانی بیان کی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ”لڑکی کسی لڑکے سے محبت کرتی تھی لیکن ان کا یہ تعلق انتہائی تلخ جا رہا تھا۔ چنانچہ لڑکی نے لڑکے کے روئیے سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کا فیصلہ کیا۔ وہ ریلوے ٹریک پر گئی اور دور سے آتی ہوئی ٹرین کے سامنے کودنے کی کوشش کی۔ اسی اثناءمیں ببلوشیخ پاس سے گزر رہا تھا۔ اس نے فوراً رکشہ روکا اور آ کر اس لڑکی کو ٹریک سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔ لڑکی نے بہت مزاحمت کی اوراسے گالیوں سے بھی نوازا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور لڑکی کو ٹریک سے ہٹانے میں کامیاب ہو گیا۔“”8سال بعد ببلوشیخ کا خطرناک ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ وہ سڑک پر بے ہوش پڑا تھا۔ لوگوں نے اسے ہسپتال پہنچایا۔ ہسپتال میں جب اسے ہوش آیا تو ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ اس نے ببلو سے پوچھا کہ اب کیسا محسوس کر رہے ہو۔ اس نے ببلو سے دوسرا سوال یہ کیا کہ آپ اس کے بعد دوبارہ کبھی مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئے؟“ ببلو کا کہنا تھا کہ ”میری سمجھ میں اس ڈاکٹر کی باتیں نہیں آ رہی تھیں۔ سفید لباس میں میرے پاس کھڑی لڑکی کو پہچاننا بھی میرے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا، جس نے سٹیتھوسکوپ گلے میں لٹکا رکھی تھی۔“ ہوش میں آنے پر وہ لڑکی ببلوشیخ کو سینئر ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ اس نے ڈاکٹر سے کہا کہ ”یہ میرا باپ ہے۔اس نے ایک دن میری زندگی بچائی تھی۔ اگر اس روز یہ میری زندگی نہ بچاتا تو آج میںاس دنیا میں ہی نہ ہوتی۔ آج میں جو ڈاکٹر بنی ہوں وہ سب اس شخص کی وجہ سے۔“یہ سن کر فرط جذبات سے ببلوشیخ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس رکشہ ڈرائیور کو بیٹی مل گئی تھی، ڈاکٹر بیٹی۔

متعلقہ خبریں