کینیڈا کے سمندر میں پراسرار آوازیں

2016 ,نومبر 6



واشنگٹن (شفق ڈیسک) امریکہ کے صدارتی انتخابات لمحہ بہ لمحہ نتائج کے قریب آرہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق کینیڈا کے سمندر میں کچھ ایسا پراسرار ہو رہا ہے کہ وہاں سے جانور غائب ہو رہے ہیں۔ سائنسدان عرصے سے برمودا ٹرائی اینگل کے پراسرار کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب انکے سامنے کینیڈا میں ایسا چیلنج سامنے آگیا ہے جو اب تک کسی کی سمجھ نہیں آسکا ہے۔ اس سال موسم گرما میں کینیڈا کے شمال مشرق میں واقع علاقے نیواوٹ میں بحیرہ آرکٹک کی تہہ سے شکاریوں اور ملاحوں نے پراسرار آوازیں سنی تھیں، جن کا راز اب تک سامنے نہیں آسکا اور ان آوازوں کی وجہ جو بھی ہو مگر ایسا نظر آتا ہے کہ وہاں کی سمندری حیات اس سے خوفزدہ ہے۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مقامی ایم پی جارج کوالکوٹ نے بتایا کہ یہ علاقہ بوہیڈ وہیل مچھلیوں اور مختلف اقسام کے دیگر سمندری جانوروں کی ایک سے دوسرے علاقے میں منتقلی کی گزرگاہ ہے اور اسی وجہ ہے کہ یہ علاقہ اس حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ رواں موسم گرما میں ایک جانور بھی یہاں نظر نہیں آیا اوراس علاقے کے عوام کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے جس سے ان کو اس صورتحال میں نقصان ہو سکتا ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ عالمی ادارہ گرین پیس ان پراسرار آوازوں کے پیچھے ہو سکتا ہے تاکہ یہاں کی سمندری حیات کو خوفزدہ کر کے شکار سے بچا سکے مگر اس ادارے نے اسکی تردید کی ہے۔ اب تک اس پراسرار آواز کی وضاحت کیلئے کوئی خاص کام ہوتا نظر نہیں آرہا۔ سمندر میں یہ کیا ہو رہا ہے ابھی تک کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں لائی جا سکی ہے۔ تاہم اب کینیڈین فوج نے ان پراسرار آوازوں کی حقیقت جاننے کیلئے تحقیقات شروع کی ہے۔ مگر اب تک کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آخر سمندر کے اندر یہ کیا ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں